Banner

بسم اللہ خان کاکڑ: پشتون قوم پرستی کی ایک جدوجہد، نظریہ اور قربانی کی داستان

Share

Share This Post

or copy the link

بسم اللہ خان کاکڑ: پشتون قوم پرستی کی ایک جدوجہد، نظریہ اور قربانی کی داستان
تحریر،عارفہ صدیق ایڈوکیٹ
بسم اللہ خان کاکڑ بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں بلوچستان کی پشتون قوم پرست سیاست کی اُن اہم مگر نسبتاً کم یاد رکھی جانے والی شخصیات میں سے تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی نظریے، جدوجہد اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ ان کا سیاسی سفر کسی ایک جماعت یا ایک دور تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ مختلف تاریخی مراحل، سیاسی تبدیلیوں اور ریاستی اتار چڑھاؤ کے ساتھ مسلسل ایک فکری اور عملی کارکن کے طور پر سامنے آتے رہے۔ بدقسمتی سے آج کی نئی نسل کا بڑا حصہ ان کے نام اور جدوجہد سے واقف نہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ نظریاتی اور اصولی سیاست کو اکثر اجتماعی یادداشت میں وہ جگہ نہیں ملتی جس کی وہ مستحق ہوتی ہے۔

بسم اللہ خان کاکڑ 1946 میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے معروف تعلیمی اداروں سے حاصل کی۔ ان کی سیاسی تربیت کا آغاز اس وقت ہوا جب 1960 کی دہائی میں بلوچستان میں طلبہ سیاست تیزی سے ابھر رہی تھی۔ وہ پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (PSF) کے بانی اراکین میں شامل تھے اور 1969 میں اس کے پہلے جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے۔ اس دور میں طلبہ سیاست صرف تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ ایک وسیع تر سماجی اور سیاسی شعور کی تحریک تھی، جس میں نوجوان ریاستی ناانصافیوں، طبقاتی عدم مساوات اور قومی سوالات پر آواز اٹھاتے تھے۔
پی ایس ایف کے ذریعے بسم اللہ خان کاکڑ نے نہ صرف تنظیمی صلاحیتیں پیدا کیں بلکہ ایک پورے سیاسی کارکنوں کے نیٹ ورک کی بنیاد بھی رکھی۔ ان کی قیادت میں یہ تنظیم ایک تربیتی ادارے میں تبدیل ہوئی جس نے بعد کی دہائیوں میں پشتون قوم پرست سیاست کے لیے بڑی تعداد میں کارکن فراہم کیے۔ اس دور میں ان کا تعلق نیشنل عوامی پارٹی کے ترقی پسند دھارے سے بھی قائم ہوا، جہاں ان کے نظریات کو مزید فکری بنیادیں ملیں۔

1970 کی دہائی بسم اللہ خان کاکڑ کی سیاسی زندگی کا سب سے پیچیدہ، اہم اور مسلح جدو جہد مرحلہ شروع ہوتا ھے۔ 1973 میں بلوچستان کی منتخب حکومت کی برطرفی اور اس کے بعد ہونے والے فوجی آپریشن نے صوبے میں شدید سیاسی بحران پیدا کیا۔ سیاسی راستوں کی بندش اور ریاستی جبر کے ماحول میں کئی سیاسی کارکنوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔
اسی تناظر میں بسم اللہ خان کاکڑ اور ان کے ساتھیوں نے ایک محدود مگر منظم مسلح جدوجہد میں حصہ لیا جو 1974 سے 1978 تک جاری رہی۔ اس جدوجہد کا مرکز پاک افغان سرحد کے قریب علاقے تھے۔ یہ دور ان کی زندگی کا وہ حصہ تھا جس میں انہوں نے جلاوطنی، قربانی اور شدید مشکلات کا سامنا کیا۔ تاہم بعد کے سیاسی حالات، علاقائی تبدیلیوں اور عام معافی کے اعلانات کے بعد انہوں نے مسلح راستے کو ترک کر کے دوبارہ سیاسی عمل کی طرف واپسی اختیار کی۔
یہ فیصلہ ان کی سیاسی بصیرت کا عکاس تھا کہ وہ حالات کے بدلنے کے ساتھ اپنی حکمت عملی کو پرامن اور جمہوری جدوجہد کی طرف لے آئے۔
پاکستان واپسی کے بعد بسم اللہ خان کاکڑ نے مختلف سیاسی جماعتوں اور نظریاتی دھاروں کے ساتھ کام کیا۔ وہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ رہے، تاہم افغانستان کے ثور انقلاب اور علاقائی سیاست کے حوالے سے اختلافات کے باعث انہوں نے اس سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کے نزدیک نظریاتی سیاست میں مسلسل جمود نہیں بلکہ حالات کے مطابق فکری مکالمہ ضروری تھا۔
بعد ازاں وہ پاکستان نیشنل پارٹی (PNP) اور پھر پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ 1990 کی دہائی میں انہوں نے انتخابی سیاست میں بھی حصہ لیا اور ایک بار صوبائی اسمبلی کے رکن اور صوبائی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ تاہم ان کی سیاست کا بنیادی محور اقتدار نہیں بلکہ نظریہ اور عوامی خدمت رہا۔
سیاسی خدمات کے ساتھ کمیونٹی اور عوامی خدمت میں بھی بسم اللہ خان کاکڑ کی خدمات نمایاں رہیں جو ان کی سادہ زندگی اور عوامی خدمت واضح تھی۔ وہ کبھی بھی سیاست کو ذاتی فائدے یا دولت کے حصول کا ذریعہ نہیں سمجھتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں تک وہ اپنے علاقے سے جڑے رہے اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں بہتری کے لیے مسلسل کوشش کرتے رہے۔
ان کے آبائی علاقے حبیب زئی میں تعلیمی اداروں کی بہتری ان کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے۔ وہ اس بات کو یقینی بناتے تھے کہ اساتذہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور سرکاری ادارے فعال رہیں۔ اس عملی کردار نے انہیں ایک سیاسی رہنما کے ساتھ ساتھ ایک سماجی معمار کے طور پر بھی متعارف کرایا۔
بسم اللہ خان کاکڑ کی سیاست کا ایک اہم پہلو پشتون اور بلوچ قوم پرستوں کے درمیان تعلقات اور مشترکہ جدوجہد تھی۔ مختلف ادوار میں انہوں نے بلوچ رہنماؤں کے ساتھ مل کر جمہوری اور مزاحمتی سیاست میں حصہ لیا۔ یہ تعلقات اس بات کی علامت تھے کہ وہ قومی سیاست کو تنگ نظر لسانی یا علاقائی حدود میں محدود نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے ایک وسیع تر جمہوری جدوجہد کے طور پر دیکھتے تھے۔
اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بسم اللہ خان کاکڑ کو اپنی سیاسی جماعتوں اور پرانے ساتھیوں سے بعض اختلافات کا سامنا رہا۔ ان کا بنیادی اعتراض سیاست میں بڑھتی ہوئی کرپشن، مفاد پرستی اور اصولوں سے انحراف تھا۔ اسی وجہ سے وہ کئی سیاسی حلقوں سے دور ہو گئے، لیکن اپنی اصولی موقف پر قائم رہے۔
ان کی وصیت میں جنازے پر سیاسی تقاریر کی ممانعت اس بات کا اظہار تھی کہ وہ سیاست کو ذاتی تشہیر نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
بسم اللہ خان کاکڑ کی زندگی پشتون قوم پرست سیاست کی ایک مکمل تاریخ ہے۔ جس میں طلبہ سیاست، نظریاتی جدوجہد، مسلح مزاحمت، جمہوری سیاست اور سماجی خدمت کے تمام پہلو شامل ہیں۔ وہ ان رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی اور ذاتی مفاد کے بجائے اجتماعی جدوجہد کو اہم سمجھا۔
ان کی سب سے بڑی وراثت یہ ہے کہ انہوں نے ایک پوری نسل کو سیاسی شعور، تنظیمی تربیت اور اجتماعی جدوجہد کا سبق دیا۔ آج جب سیاست زیادہ تر مفادات اور مواقع تک محدود ہوتی جا رہی ہے، بسم اللہ خان کاکڑ جیسے کردار ہمیں یہ یاد دلاتے ہیں کہ سیاست اصل میں قربانی، اصول اور خدمت کا نام ہے۔
ان کی جدوجہد کو سمجھنا صرف ایک فرد کی کہانی کو جاننا نہیں بلکہ پورے ایک دور کی سیاسی تاریخ کو سمجھنا ہے ایک ایسا دور جس نے پشتون قوم پرستی اور بلوچستان کی سیاست کو گہرے اثرات دیے۔۔ تخلیص کنندہ:- عارفہ صدیق ایڈوکیٹ

بسم اللہ خان کاکڑ: پشتون قوم پرستی کی ایک جدوجہد، نظریہ اور قربانی کی داستان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us