Banner

بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی روح ہے

Share

Share This Post

or copy the link

بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی روح ہے
تحریر: یاسر دانیال صابری
گلگت بلتستان میں ایک عجیب سی ہلچل ہے۔ بظاہر یہ ہلچل انتخابات کی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک ایسے سوال کی گونج ہے کیا یہاں کے عوام کا ووٹ واقعی ان کی تقدیر بدل سکتا ہے، یا یہ محض ایک رسمی عمل ہے جس کے نتائج پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں؟ یہی سوال آج پھر شدت سے سامنے آیا ہے، جب عام انتخابات اور بلدیاتی انتخابات کے وقت، ترتیب اور شفافیت پر بحث نے ایک سنجیدہ رخ اختیار کر لیا ہے۔
بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات کو ایک ساتھ یا قریب قریب کروانے کی بحث نئی نہیں، مگر اس کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب ماضی کا ریکارڈ ہمارے سامنے ہو۔ پاکستان میں جمہوریت کا ڈھانچہ ہمیشہ سے اوپر سے نیچے کی طرف تعمیر کیا گیا، جبکہ دنیا کی کامیاب جمہوریتیں نیچے سے اوپر کی طرف پروان چڑھتی ہیں۔ یہاں بلدیاتی نظام کو اکثر سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ جب بھی کوئی جماعت اقتدار میں آئی، اس نے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائی، کیونکہ ایک مضبوط بلدیاتی نظام دراصل طاقت کی تقسیم کا تقاضا کرتا ہے، جبکہ ہماری سیاست طاقت کے ارتکاز کے گرد گھومتی رہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عوامی سطح پر یہ خدشہ شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر بلدیاتی انتخابات کو عام انتخابات سے دور رکھا گیا تو نئی آنے والی حکومت، ماضی کی روایات کو دہراتے ہوئے، انہیں مؤخر کر سکتی ہے۔ اس خدشے کی بنیاد محض قیاس آرائی نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے، جس کا مشاہدہ ہم مختلف ادوار میں کر چکے ہیں۔ اقتدار میں آنے والی جماعتیں اکثر یہ محسوس کرتی ہیں کہ ایک فعال بلدیاتی نظام ان کی سیاسی گرفت کو کمزور کر سکتا ہے، اس لیے وہ اسے یا تو کمزور رکھتی ہیں یا مکمل طور پر غیر فعال کر دیتی ہیں۔
یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ بلدیاتی انتخابات کی اہمیت آخر ہے کیا؟ حقیقت یہ ہے کہ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہوتا ہے، جہاں عوام براہ راست اپنے مسائل کے حل کے لیے نمائندے منتخب کرتے ہیں۔ یہ وہ سطح ہے جہاں گلی، محلہ، پانی، صفائی، تعلیم اور صحت جیسے بنیادی مسائل حل ہوتے ہیں۔ اگر یہ نظام مضبوط ہو تو عوام کو اپنی دہلیز پر انصاف اور سہولت میسر آتی ہے، اور اگر یہ کمزور ہو تو بڑے بڑے سیاسی نعروں کے باوجود عوامی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔ اس لیے بلدیاتی انتخابات محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ جمہوریت کی روح ہیں۔
دوسری طرف اگر ہم اس تجویز کا جائزہ لیں کہ بلدیاتی انتخابات عام انتخابات کے فوراً بعد، یعنی 14 جون 2026 کو کروائے جائیں، تو اس میں بھی کئی خدشات پوشیدہ ہیں۔ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت پہلے ہی ایک نفسیاتی اور سیاسی برتری حاصل کر چکی ہوگی۔ اس کے پاس نہ صرف انتظامی اثر و رسوخ ہوگا بلکہ ایک فاتحانہ بیانیہ بھی ہوگا، جو بلدیاتی انتخابات کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایسے میں ایک غیر متوازن سیاسی فضا پیدا ہو سکتی ہے، جہاں حقیقی نمائندگی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
اسی تناظر میں بعض حلقوں کی یہ رائے کہ دونوں انتخابات ایک ہی دن یا کم از کم انتہائی قریبی وقفے میں منعقد کیے جائیں، بظاہر ایک متوازن تجویز لگتی ہے۔ اس سے سیاسی اثراندازی کے امکانات کم ہو سکتے ہیں، اور ووٹر کو ایک ہی وقت میں اپنے قومی اور مقامی نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ مگر اس تجویز کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی دن دو بڑے انتخابات کروانا ایک بہت بڑا انتظامی چیلنج ہے، جس کے لیے الیکشن کمیشن کو غیر معمولی تیاری، وسائل اور شفافیت کی ضرورت ہوگی۔ اگر یہ تیاری مکمل نہ ہوئی تو شفافیت متاثر ہو سکتی ہے، جو کہ اس سارے عمل کی ساکھ کے لیے نقصان دہ ہوگا۔
اب اگر ہم وفاقی سیاست کے اثرات کی بات کریں تو گلگت بلتستان کی سیاست ایک طویل عرصے سے ایک خاص تاثر کے زیر اثر رہی ہے: “جس کی وفاق میں حکومت، اسی کی گلگت بلتستان میں حکومت”۔ یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ ماضی میں بارہا ایسا ہوا کہ وفاق میں برسر اقتدار جماعت نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کی۔ اس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے، جن میں انتظامی اثر و رسوخ، وسائل کی فراہمی، اور سیاسی جوڑ توڑ شامل ہیں۔
اگر موجودہ اطلاعات کو دیکھا جائے تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا دکھائی دیتا ہے کہ ایک بڑی سیاسی حکمت عملی کے تحت آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) اور گلگت بلتستان میں استحکام پاکستان پارٹی اور اسلامی جماعتوں کی حکومت بنانے کے لیے ذہن سازی کی جا رہی ہے۔ اگر استحکام پاکستان پارٹی اور اسلامی جماعتوں کے پاس واقعی 18 سے 20 مضبوط electables موجود ہیں تو یہ اسے ایک مضبوط پوزیشن میں لا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان کی سیاست میں electables کا کردار ہمیشہ سے اہم رہا ہے، کیونکہ یہاں نظریاتی سیاست کے ساتھ ساتھ شخصیات کا اثر بھی بہت زیادہ ہوتا ہیں۔
حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مذہبی جماعتوں کی ممکنہ مضبوط پوزیشن بھی ایک اہم پہلو ہے۔ ایسے حالات میں ووٹر کا رجحان اکثر جذباتی بنیادوں پر تبدیل ہو جاتا ہے، جس کا فائدہ وہ جماعتیں اٹھاتی ہیں جو مذہبی یا نظریاتی بیانیے کو مؤثر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ یہ رجحان انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں سماجی و مذہبی حساسیت زیادہ ہو۔
ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہم مجموعی تصویر کا جائزہ لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات 2026 محض ایک سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن مرحلہ ہیں۔ یہ ایک امتحان ہیں ریاستی اداروں کے لیے، الیکشن کمیشن کے لیے، سیاسی جماعتوں کے لیے، اور سب سے بڑھ کر عوام کے لیے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا ہم واقعی جمہوریت کی طرف بڑھ رہے ہیں یا اب بھی ماضی کی روایات کے اسیر ہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ کیا جیتنے والا واقعی عوامی مینڈیٹ کا حامل ہوگا؟ کیا وہ نمائندے جو اسمبلیوں میں بیٹھیں گے، واقعی عوام کی آواز بنیں گے، یا وہ صرف ایک سیاسی کھیل کا حصہ ہوں گے؟ یہ سوالات صرف گلگت بلتستان کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے مستقبل سے جڑے ہوئے ہیں۔
اگر انتخابات شفاف، غیر جانبدار اور آزادانہ انداز میں ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثبت مثال بن سکتے ہیں۔ یہ عوام کے اعتماد کو بحال کر سکتے ہیں، اور یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ جمہوریت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔ لیکن اگر ماضی کی روایات کو دہرایا گیا، اگر سیاسی مصلحتوں کو عوامی حق پر ترجیح دی گئی، تو یہ موقع بھی ایک اور کھویا ہوا موقع بن جائے گا۔
کل جو واقع پیش آیا۔پی پی پی کے رہنماؤں نے شہید رہبر معظم کے بینرز اترے گئے انکی بے حرمتی کر گئی ہے عوام ن لیگ اور پی پی پی سے نفرت کر چکے ہیں ۔
آخرکار، جمہوریت کی اصل طاقت ووٹ کی حرمت میں ہے۔ جب تک عوام کو یہ یقین نہ ہو کہ ان کا ووٹ واقعی معنی رکھتا ہے، تب تک کوئی بھی سیاسی نظام مضبوط نہیں ہو سکتا۔ گلگت بلتستان کے پہاڑ آج بھی گواہ ہیں کہ یہاں کے لوگ شعور رکھتے ہیں، احساس رکھتے ہیں، اور اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ان کے ووٹ کو وہ عزت دی جاتی ہے جس کا وہ حق رکھتے ہیں، یا ایک بار پھر سیاست طاقت کے کھیل میں عوامی آواز کو دبا دیتی ہے۔۔۔

بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی روح ہے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us