Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

نظریاتی کونسل کے رائے دینے کے اختیار سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

نظریاتی کونسل کے رائے دینے کے اختیار سے متعلق کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
عدالت انجینئر محمد علی مرزا کے ٹرائل کورٹ کے سامنے کیس پر کوئی رائے نہیں دے رہی،جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس سوال پر کہ نظریاتی کونسل کو کس حد تک رائے دینے کا اختیار ہے ؟فریقین کے دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

دوران سماعت درخواست گزار ڈاکٹر اسلم خاکی نے استفسار کیا کہ کیا فیصلہ آج ہی سنا دیں گے ؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فیصلہ آج ہی ہو جائے گا ویسے بھی 24 گھنٹے رہ گئے ہمارے پاس۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کوئی قانون بننے سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل اپنی رائے دے سکتی ہے تاکہ کوئی قانون قرآن و سنہ کے خلاف نا ہو۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ انجینئر محمد علی مرزا کا معاملہ ٹرائل کورٹ کے سامنے ہے اس پر کوئی رائے فریقین کے حقوق متاثر کر سکتی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کیس پر کوئی رائے نہیں دے رہی۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ ہمارے سامنے سوال ہے گورنرز ، صدر ، قومی اسمبلی ، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیز کی جانب سے رائے مانگنے کے علاؤہ کیا کوئی رائے نظریاتی کونسل دے سکتی ہے ؟

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ ہم نے صرف نظریاتی کونسل اختیارات کے حوالے سے دیکھنا ہے، این سی سی آئی اے کو تو نظریاتی کونسل رائے نہیں دے سکت نا وہ قانون کے مطابق رائے نظریاتی کونسل سے لے سکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ اس طرح تو پھر نظریاتی کونسل یہ رائے بھی دے دے کہ بلاسفیمی کیسز سے پہلے نظریاتی کونسل کے سے رائے لے لیا کریں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جس طرح اسلامی نظریاتی کونسل نے رائے دی ایسا ان کا اختیار قانون میں موجود نہیں ، نظریاتی کونسل والوں کو بھی کہا تھا کہ خود سے وہ اپنے اختیار کو دیکھ لیں گے تاکہ ہمیں فیصلہ نا کرنا پڑے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ 28 ویں ترمیم میں یہ والی بات بھی شامل کر لیں تاکہ ان کا اختیار واضع ہو جائے، ایڈیشنل اٹارنی راشد حفیظ بھی عدالتی ریمارکس پر مسکرا دیے۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *