Banner
Daily Sahafat Quetta
November 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات خوش آئند ہیں،ڈاکٹر ناشناس لہڑیچیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای۔کچہری کا انعقادایف ایف سی نے سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کا بہترین ای ایس جی رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاسردار منظور احمد خان کاکڑ کی سردار حسین اسلم بھٹی سے ملاقات، دادی کے انتقال پر تعزیتسید محمد آغا کی فلاحی، قبائلی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سردار منظور احمد خان کاکڑسردار منظور احمد خان کاکڑ نے سردار حسین اسلم بھٹی کو گولڈ میڈل پیش کردیامولانا ہدایت الرحمان کو جواب دینا توہین سمجھتا ہوں، یونس عزیز زہریشہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، لیاقت لہڑیبلوچستان ہائی کورٹ نے پی ایم اے کی صوبائی و کوئٹہ کابینہ کےخلاف درخواستیں خارج کر دیںسیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت مضر صحت ہے ، بلوچستان ہائیکورٹآل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات خوش آئند ہیں،ڈاکٹر ناشناس لہڑیچیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای۔کچہری کا انعقادایف ایف سی نے سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کا بہترین ای ایس جی رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاسردار منظور احمد خان کاکڑ کی سردار حسین اسلم بھٹی سے ملاقات، دادی کے انتقال پر تعزیتسید محمد آغا کی فلاحی، قبائلی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سردار منظور احمد خان کاکڑسردار منظور احمد خان کاکڑ نے سردار حسین اسلم بھٹی کو گولڈ میڈل پیش کردیامولانا ہدایت الرحمان کو جواب دینا توہین سمجھتا ہوں، یونس عزیز زہریشہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، لیاقت لہڑیبلوچستان ہائی کورٹ نے پی ایم اے کی صوبائی و کوئٹہ کابینہ کےخلاف درخواستیں خارج کر دیںسیوریج کے پانی سے سبزیوں کی کاشت مضر صحت ہے ، بلوچستان ہائیکورٹ

ضلع کورنگی میں لاقانونیت کا راج غیر قانونی بچت بازاروں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی


کراچی رپورٹ
محمد عُبيــــدالله میرانی

کراچی کا ضلع کورنگی اس وقت سنگین انتظامی بحران اور لاقانونیت کی لپیٹ میں ہے جہاں بااثر ٹکا مافیا نے سرکاری زمینوں شاہراہوں اور فٹ پاتھوں کو اپنی جاگیر بنا لیا ہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، ضلع کورنگی میں قانونی طور پر صرف 26 ہفتہ وار بازاروں کی اجازت ہے لیکن زمین پر صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے حالیہ رپورٹس اور عدالتی کارروائیوں سے یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ قانونی بازاروں کی آڑ میں پورے ضلع میں درجنوں غیر قانونی بازار سرگرم ہیں جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ موجود نہیں لیکن ان سے حاصل ہونے والا بھتہ مبینہ طور پر متعلقہ افسران کی جیبوں میں جا رہا ہے انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر کورنگی کی ناک کے نیچے سروس روڈز کو ان غیر قانونی منڈیوں کے لیے نیلام کیا جا رہا ہے، جبکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز عوامی مسائل سے آنکھیں موند کر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں شہریوں کا سوال ہے کہ کیا ٹاؤن چیئرمینز کو اپنے علاقوں میں فٹ پاتھوں کی کھلی نیلامی نظر نہیں آتی کیا یہ خاموشی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مترادف نہیں سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کو ہوا میں اڑاتے ہوئے شاہ فیصل کالونی عوامی کالونی لانڈھی اور کورنگی ڈھائی نمبر جیسے علاقوں میں غیر قانونی منڈیاں سجائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے اور ہنگامی صورتحال میں ایمبولینسوں کو راستہ ملنا بھی محال ہو گیا ہے ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے مبینہ غیر قانونی اجازت ناموں این او سی کے اجراء نے پورے ضلع کو ایک بڑے ٹریفک جام میں بدل دیا ہے شہریوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان تجاوزات کی سرپرستی کرنے والے ٹاؤن افسران اور انتظامیہ کا کڑا محاسبہ کیا جائے اور کورنگی کی سڑکیں مافیا سے فوری طور پر واگزار کرائی جائیں۔ اگر انتظامیہ نے اپنا قبلہ درست نہ کیا تو عوام ان عوامی نمائندوں کے گھروں اور ڈی سی آفس کے باہر بھرپور احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *