Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردیبلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلترکیہ کی پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کردیبلوچستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے، جسٹس جمال خان مندوخیل“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل

مارک کارنی کا نیا بیان

امریکہ اب کینیڈا کے ساتھ ایک دوست یا اتحادی جیسا سلوک نہیں کر رہا۔ہماری فوج کے ہر ڈالر کے 70 سینٹ امریکہ بھیجنے کے دن اب ختم ہو گئے ہیں۔

یہ بات کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نےمانٹریال میں لبرل پارٹی کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کل کہی ، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ “ہماری فوج کے ہر ڈالر کے 70 سینٹ امریکہ بھیجنے کے دن اب ختم ہو گئے ہیں”۔

مارک کارنی کا کہنا ہے کہ “قواعد پر مبنی پرانا عالمی نظام (Rules-based International Order) اب ختم ہو چکا ہے اور ہمیں اس کا سوگ نہیں منانا چاہیے، کیونکہ ماضی کی یادیں کوئی حکمت عملی نہیں ہوتیں”۔

انہوں نے امریکہ کے موجودہ عالمی کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “امریکہ اب کینیڈا کے ساتھ ایک دوست یا اتحادی جیسا سلوک نہیں کر رہا”۔ ان کے نزدیک امریکہ اب ایک “غیر معقول اور شکاری طاقت” (irrational, predatory hegemon) کی صورت اختیار کر رہا ہے۔کارنی نے کینیڈا جیسی “مڈل پاورز” (درمیانی طاقتوں) کو مشورہ دیا ہے کہ وہ متحد ہو جائیں تاکہ بڑی طاقتوں کے معاشی اور سیاسی دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔ ان کا مشہور جملہ تھا: “اگر ہم میز پر نہیں ہوں گے، تو ہم مینو (Menu) پر ہوں گے”۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بڑی طاقتیں اب سپلائی چین اور ٹیرف کو بطور “ہتھیار” استعمال کر رہی ہیں۔ اس لیے کینیڈا کو اپنی “اسٹریٹجک خود مختاری” (Strategic Autonomy) حاصل کرنی ہوگی۔انہوں نے کینیڈین عوام کی تعریف کی جو امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ “یکجہتی کے چھوٹے چھوٹے انفرادی اقدامات” ہیں جو مل کر ایک بڑا پیغام دیتے ہیں۔انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین اب “کیلیفورنیا کی شراب کے بجائے اوکاناگن (Okanagan) کی شراب” کو ترجیح دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تجارتی تناؤ کی وجہ سے کینیڈا کے کئی صوبوں نے امریکی شراب، بیئر اور اسپرٹ کو اسٹورز کے شیلف سے ہٹا دیا ہے، جس سے امریکی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔سیاحت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کینیڈین خاندان اب “فلوریڈا کی فلائٹ بک کرنے کے بجائے پرنس ایڈورڈ آئی لینڈ (PEI) میں چھٹیاں گزارنے” کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ یہ تبدیلی امریکی صدر کی طرف سے عائد کردہ ٹیرف اور کینیڈا کے خلاف بیان بازی کے ردعمل میں دیکھی جا رہی ہے۔مارک کارنی کا پیغام واضح ہے کہ کینیڈا اب اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرے گا اور ضرورت پڑنے پر امریکی مصنوعات اور سیاحت سے کنارہ کشی اختیار کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔مارک کارنی کا مقصد کینیڈا کی دفاعی ضروریات کے لیے امریکی کمپنیوں پر انحصار کم کر کے مقامی صنعتوں (جیسے اسٹیل، ایلومینیم اور لکڑی) کو فروغ دینا ہے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی تناؤ (خاص طور پر ٹیرف کے حوالے سے) بڑھ رہا ہے۔
کینیڈا اب اپنے دفاعی بجٹ کا بڑا حصہ کینیڈین یا غیر امریکی کمپنیوں پر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے تاکہ ملکی خود مختاری کو مضبوط کیا جا سکے۔اس بیان کو کینیڈا کی خارجہ اور دفاعی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد امریکی دفاعی صنعت پر دہائیوں پرانے انحصار کو ختم کرنا ہےـ۔
بلکل اب وقت آ گیا ہے کہ کوئی دو ٹوک فیصلہ کیا جائے۔کیونکہ بہت ہو چُکا اور بہت برداشت بھی کر لیا۔ اب دیکھتے ہیں کے آگے آنے والے حالات کیا رُخ اختیار کرتے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *