Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

مسواک۔ایک شرعی حکم یا طبی ضرورت

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے.(Complete code of (life۔کیونکہ اس میں زندگی کے ہر ہر شعبے کے لئے بہترین راہ نمائی موجود ہے جس پر خلوص نیت سے عمل کریں تو دین اور دنیا دونوں میں کامیابیاں حاصل ہوتی ہیں۔اسی طرح اسلام میں صفائی کو”نصف ایمان” قرار دیا گیا ہے۔انسان کی صفائی کے ضمن میں سب سے ضروری اور سامنے نظر انیوالی چیز ہمارا منہ یعنی ہمارے دانت ہیں۔اگر دانت صاف چمکدار ہوں تو ہمارا پورا چہرہ ہی نہیں پوری شخصیت پر خوش گوار اثر مرتب کرتے ہیں۔صرف یہی نہیں بلکہ صاف دانت منہ کو بد بو سے پاک اور سانسوں کو خوشگوار بناتے ہیں۔بد بو دار منہ انسان کی شخصیت کا سارا اثر زائل کر دیتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام نے دانتوں کی صفائی یعنی مسواک کرنے میں بہترین اجر رکھا ہے۔بخاری شریف کی ایک معروف حدیث مبارکہ کے مطابق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ سے بد بو دور کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کو بھی خوش کرتی ہے۔یعنی مسواک منہ کی صفائی اور اللہ کریم کی خوشنودی ہے۔
صحیح بخاری کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق حضرت حذیفہ رضی اللہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کو تہجد کے لئے اٹھتے تو مسواک سے منہ صاف کرتے۔
موطا امام مالک میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میری امت پر مشقت اور تنگی بڑھ جائے گی تو میں ہر نماز کے وضو میں مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسواک والی نماز بغیر مسواک والی نماز سے 70 درجے زیادہ اجر والی ہوتی ہے۔ (موطا امام مالک).
بحیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ تو ہے ہی کہ مسواک کرنا ایک شرعی حکم ہے مگر اسکے ساتھ ساتھ بے شمار طبی فوائد کا حامل ہے۔مثلا:-
دانتوں اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے۔
منہ کو خوشبودار اور سانسوں کو خوشگوار بناتی ہے۔
ہاضمہ کو تیز کرتی ہے۔
بلغم کو کم کرتی ہے۔
بینائی کو تیز کرتی ہے۔
منہ کا ذائقہ بہترین بناتی ہے۔
دانت کے درد کو دور کرتی ہے۔
مزید برآں یہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پسندیدہ سنت مبارکہ ہے جبکہ وضو کے لئے مسواک کرنا ایک غیر موکدہ سنت ہے۔یہاں تک کہ وصال کے موقع پر بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسواک کا استعمال فرمایا۔( صحیح بخاری).
ان احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ مسواک سنت مبارکہ اور رب کریم کی خوشنودی گویا شرعی حکم بھی ہے اور مندرجہ بالا فوائد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ایک طبی ضرورت بھی ہے۔
اللہ رب العالمین ہمیں مسواک باقاعدگی سے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔امین۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *