Banner

انسانی ترقی و ذہانت کے ادراک کے لئے تعلیمی خودمختاری و ایمرجنسی نافذ کی جائے ، تعلیمی ماہرین و دانشوران ملت کا فیصلہ

انسانی ترقی و ذہانت کے ادراک کے لئے تعلیمی خودمختاری و ایمرجنسی نافذ کی جائے ، تعلیمی ماہرین و دانشوران ملت کا فیصلہ
Share

Share This Post

or copy the link

کوئٹہ (پ-ر) حکومت بلوچستان کا صوبہ کے تعلیمی اداروں واسکولز کا دوبارہ کھلنے کا فیصلہ درست اقدام ہے اور صوبہ کے اہل قلم و دانش اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مجلس فکر و دانش علمی و فکری مکالمے اور گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ سائنس کالج کوئٹہ کے اشتراک سے خطے میں ایران اسرائیل جنگ کے بعد پیدا ہونے والی خصوصاً تعلیمی صورتحال کے پیش نظر تعلیمی لائحہ عمل اختیار کرنے کے لئے ڈائلاگ و سیمنار سے صوبہ کے ماہرین تعلیم و علم و دانش سے متعلقہ افراد نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں کرونا وائرس کے بعد اب اس قریبی ہمسایہ ملک ایران کے جنگ نے عالمی سطج پر کئی شعبوں کو شدید متاثر کیا جسمیں ہمارا ملک پاکستان اور خصوصا صوبہ بلوچستان کو تعلیم کے شعبے پر شدید متاثر کیا ۔ کیونکہ صوبہ بلوچستان کے مخصوص حالات ، تعلیمی اداروں کی صورتحال، انٹرنیٹ اور عوام کی معاشی لحاظ کے پیش نظر ان لائن کلاسز اور دوسرے طریقے اتنے کارآمد نہیں ثابت ہوسکتے۔
انہوں نے کہا کہ صوبہ کو علم کی روشنی سے منور کرنے میں حکومت کے ساتھ نجی شعبے میں چلنے والے ادارے بھی اہم اور فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور ہم ہمیشہ حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔ اور ہماری اپیل ہے کہ اب اس تعلیمی شیشن جسکا آغاز حکومت بلوچستان نے سب سے پہلے اس کا آغاز کردیا اسکا تسلسل رہنا چاہئے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سابق وائس چانسلر آف یونیورسٹیز پروفیسر ڈاکٹر معصوم خان یاسین زئی ،پرنسپل گورنمنٹ سائنس کالج پروفیسر ڈاکٹر سراج کاکڑ،
قرآن اکیڈمی کے ڈائریکٹر عبدالمتین اخونزادہ، بلوچستان پرائیویٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فیصل احمد خان ،محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے سینٹر فار ایکسیلینس ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ ، ممتاز ماہر تعلیم و تحقیق زاہد جان مندوخیل ،پرنسپل گورنمنٹ گرلز پوسٹ گریجویٹ کالج کوئٹہ کینٹ پروفیسر سعدیہ فاروقی، پرائیوٹ اسکول ایسوسی ایشن کے روح رواں نذر خان بڑیچ ، شھید باز محمد کاکڑ فاؤنڈیشن رجسٹرڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر لعل خان کاکڑ، اسلامیہ کالج کے پرنسپل پروفیسر عبد الرشید علیزئی ، مجلس فکر و دانش کے فوکل پرسن فرید بگٹی پروفیسر طارق بلوچ ،پروفیسر ،ڈاکٹر جمیل آغا ، ڈاکٹر عصمت خان ، جعفر خان کاکڑ ، عبد الرحیم ناصر ، مختیار احمد ،سول سوسائٹی کے نمائندوں اور نے مفید تجاویز پیش کیں
اس موقع پر
بلوچستان تعلیمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ صوبے اور ملک میں کسی بھی قسم کے سخت تکالیف اور صورتحال میں تعلیمی اداروں کی بندش کو آخری آپشن میں رکھا جائے ۔ کیونکہ تعلیمی ادارے ہی ہمارے قومی ملکی اور بین الاقوامی ادارے بناتے ہیں ۔
پالیسی ڈائیلاگ سے پروفیسر سراج احمد کاکڑ پرنسپل سائنس گریجویٹ کالج۔ مجلس فکر و دانش و قرآن اکیڈمی کے ڈائریکٹر عبدالمتین اخونزادہ پروفیسر ڈاکٹر معصوم خان یاسین زئی۔ پرائیویٹ سکولز فیڈریشن بلوچستان کے صدر نذر بڑیچ۔ پروفیسر عبد الرشید علیزئی،پروفیسر سعدیہ فاروقی زاہد جان مندوخیل ، ڈاکٹر دوست محمد بڑیچ۔ پروفیسر ڈاکٹر فیصل احمد خان ۔پروفیسر ڈاکٹر لعل خان کاکڑ،ڈاکٹر حافظ نقیب اللہ ، پروفیسر ڈاکٹر جمیل اغا، پروفیسر محمد حسین بلوچ ،پروفیسر عبدالرزاق پرکانی پرائیویٹ سکولز فاونڈیشن کے چیرمین جعفر خان کاکر۔ فرید بگٹی و دیگر نے اعلامیہ منظور کیا ـ
اجلاس میں ان لائن تعلیم کو تعلیمی سہولیات۔ بجلی پینے کی صاف پانی ۔ نیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ اور غربت کی وجہ سے ناکافی قرار دیا گیا اور مطالبہ کیا کہ تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ تعلیمی نظام میں حائل رکاوٹیں ختم کرکے تعلیمی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔تعلیم کو ترجیحی بنیادوں پر اولین شرط اور ترجیحات میں رکھا جائے ۔ جب تک تعلیم اور اساتذہ کو سہولیات اور ترجیحی نہیں دیتے تو مسائل مزید گھمبیر سے گھمبیر تر بنتے جائیں گے۔
تعلیمی ادارے ہی مکمل انسانی شعور کی ذریعہ بنانا ہوگا۔
شرکاء نے حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کے کھلنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں تعلیمی اداروں کی بندش یا تبدیلی نظام کے عمل میں مائر تعلیم اور سٹیک ہولڈرز کو مشاورتی عمل میں برابر شریک کرے گے۔-##

انسانی ترقی و ذہانت کے ادراک کے لئے تعلیمی خودمختاری و ایمرجنسی نافذ کی جائے ، تعلیمی ماہرین و دانشوران ملت کا فیصلہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us