Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
محسن نقوی کا بیان انکی ذاتی رائے ہے نئے صوبوں کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے، احمد شریف چوہدریانتظامی یونٹ ہوں یا نئے صوبے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے، گوہرطاقت نہیں، اعتماد ریاستوں کو مضبوط بناتا ہےجمہوری راستے بند کر دیے جائیں تو نوجوانوں کے پاس کیا بچتا ہے؟خوابوں کی منڈی اور سیاسی خوانچہ فروشپروڈیوسر و ڈائریکٹر نوید رضا کی فلم انڈسٹری کیلئے خدمات قابل تعریف ہے،فرح خان28 سال سے فلم انڈسٹری کے لیے کام کر رہا ہوں،نوید رضابلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی ہسپتال میں بلڈ بینک فعال، عوام کو محفوظ خون کی فراہمی کی سہولت میسرسورینج کوئلہ کان حادثہ: جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلانمحسن نقوی کا بیان انکی ذاتی رائے ہے نئے صوبوں کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے، احمد شریف چوہدریانتظامی یونٹ ہوں یا نئے صوبے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے، گوہرطاقت نہیں، اعتماد ریاستوں کو مضبوط بناتا ہےجمہوری راستے بند کر دیے جائیں تو نوجوانوں کے پاس کیا بچتا ہے؟خوابوں کی منڈی اور سیاسی خوانچہ فروشپروڈیوسر و ڈائریکٹر نوید رضا کی فلم انڈسٹری کیلئے خدمات قابل تعریف ہے،فرح خان28 سال سے فلم انڈسٹری کے لیے کام کر رہا ہوں،نوید رضابلوچستان اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی ہر سازش ناکام بنائیں گے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹیڈیرہ بگٹی ہسپتال میں بلڈ بینک فعال، عوام کو محفوظ خون کی فراہمی کی سہولت میسرسورینج کوئلہ کان حادثہ: جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کے لیے 5 لاکھ روپے امداد کا اعلان

جنگ بندی مذاکرات میں پاکستان کی ٹیلیفونک سفارتکاری نے اہم کردار ادا کیا، امریکی میڈیا

اسلام آباد: امریکی اخبار کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران امن قائم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں، جن میں ٹیلیفونک رابطوں کا کلیدی کردار رہا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تہران، ریاض، ابوظبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز کے اہم رہنماؤں سے مسلسل رابطے کیے اور ممکنہ مذاکرات پر گفتگو کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ پاکستان کے رہنما قریبی روابط رکھتے ہیں، جس سے پاکستان کو مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ جوہان ویڈے فول کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے ہو چکے ہیں اور اب براہِ راست ملاقات کی تیاری جاری ہے، جو ممکنہ طور پر پاکستان میں ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی متحرک سفارتکاری خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار اور عالمی سطح پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے، اور اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو تنازع کے خاتمے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *