’موٹے لوگ بس خود پر قابو پائیں‘، ’یہ تو صرف ذاتی ذمہ داری کا معاملہ ہے‘، ’بس کم کھائیں، سادہ سی تو بات ہے۔‘
یہ ان 1946 تبصروں میں سے چند ہیں جو گذشتہ سال وزن کم کرنے والے انجیکشنز پر میرے مضمون پر قارئین نے کیے۔
بہت سے لوگ، یہاں تک کہ طبی ماہرین بھی یہ تصور رکھتے ہیں کہ موٹاپا صرف قوت ارادی کا معاملہ ہے۔
برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکہ کے لوگوں پر تحقیق کی گئی جو معروف طبی جریدے دی لانسٹ پر شائع ہوئی، اس کے مطابق 10 میں سے آٹھ لوگوں کا کہنا ہے کہ صرف طرز زندگی تبدیل کرنے سے موٹاپے کو روکا جا سکتا ہے۔
لیکن بینی سریش، جو کہ ایک ماہر غذائیت ہیں اور 20 سال سے موٹے اور زیادہ وزن والے مریضوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، وہ اس خیال سے متفق نہیں۔ ان کے خیال میں یہ تصویر کا ایک چھوٹا سا رخ ہے۔
وہ کہتی ہیں: ’میں اکثر ایسے مریضوں کو دیکھتی ہوں جو بہت پر عزم ہوتے ہیں، با علم ہوتے ہیں، اور مستقل کوشش کر رہے ہوتے ہیں، اس کے باوجود وزن کم کرنے میں انھیں مشکل کا سامنا رہتا ہے۔‘
وزن کم کرنے میں مدد کرنے والی کمپنی ویٹ واچرز کی میڈیکل ڈائیریکٹر ڈاکٹر کم بوئیڈ بھی یہی کہتی ہیں: ’قوت ارادی، خود پر قابو پانے جیسے الفاظ غلط ہیں۔ صدیوں تک لوگوں سے یہی کہا جاتا رہا کہ کم کھانے اور زیادہ حرکت کرنے سے وزن کم ہو گا لیکن موٹاپا اس سے کہیں پیچیدہ مسئلہ ہے۔‘
ان سے اور دیگر جن ماہرین سے میری بات ہوئی، ان کا یہی کہنا ہے کہ کسی فرد کے موٹا ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، کچھ تو ابھی تک بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں آ سکیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ سب لوگوں کے موٹا ہونے کی کوئی واحد وجہ نہیں ہوتی۔



