Banner
Daily Sahafat Quetta
September 18, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہپاکستان کی جمہوری اسمبلیوں میں 30فیصد نوجوانوں ہیں ،مینا مجید بلوچعوامی شاہراہوں اور سڑکوں پر تجاوزات برداشت نہیں کی جائینگی ،مہراللہ بادینیمریضوں کا تحفظ صحت کے موثر نظام کی بنیادی ترجیح ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانبلوچستان میں امن و استحکام کےخلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائےگا،سرفراز بگٹیملاوٹی دودھ کی فروخت و سپلائی کسی صورت برداشت نہیں، حبیب اللہ خانعرصہ دراز سے بند شادی ہال تعمیر و مرمت کے بعد عوام کیلئے کھول دیا گیاڈی ایس پی سرکل گنداخہ محمد علی جمالی کی پریس کانفرنس، گرفتار ملزمان میڈیا کے سامنے پیشصوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں حکومت کی کمزور رِٹکفایت شعاری قومی وسائل کے تحفظ کی جانب حکومت کا اہم قدمخبر زندہ انسان مردہ

سردیوں میں دل کے دورے کے بڑھتے ہوئے خطرے کو کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟

پاکستان اور انڈیا میں دل کی بیماریوں کو موت کی بڑی وجوہات میں سے ایک جانا جاتا ہے۔ دل کی صحت کے حوالے سے عام خیال یہ ہے کہ اگر کولیسٹرول کی سطح صحت مند رہے گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔

’گلوبل برڈن آف ڈیزیز سٹڈی‘ کے مطابق چار میں سے ایک موت ان بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔ دل کی بیماری سے ہونے والی 80 فیصد سے زیادہ اموات ہارٹ اٹیک اور فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

لیکن کیا ہمیں یہ فرض کر لینا چاہیے کہ ہمارے کولیسٹرول کی سطح نارمل ہونے سے ہمارا دل بھی صحت مند رہتا ہے۔

اس مضمون میں ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کولیسٹرول کے علاوہ وہ کون سی علامات اور عوامل ہیں جو دل کے دوروں کی پیشگی وارننگ دے سکتے ہیں اور سردیوں کے موسم میں ہم اپنے دل کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں۔
’امریکن کالج آف کارڈیالوجی‘ کے فلیگ شپ جریدے ’جے اے سی سی‘ میں 2024 میں شائع ہونے والی اور یورپی سوسائٹی آف کارڈیالوجی (ESC) کانگریس 2024 میں سامنے آنے والی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ شدید سرد موسم اور اچانک سردی کی لہریں دل کے دورے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

اس تحقیق کے مطابق خاص بات یہ ہے کہ یہ خطرہ سردی شروع ہونے کے فوراً بعد نہیں ہوتا بلکہ دو سے چھ دن کے بعد سب سے زیادہ ہوتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال کرسمس اور نئے سال کے قریب دل کے دورے اور دل سے متعلق اموات کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی جاتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

roshanurdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *