Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

کیا کم عمری میں شادی کا نکاح ختم ہو سکتا ہے؟ عدالت کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری میں شادی کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمری کی شادی پر فوجداری سزا ہو سکتی ہے، مگر نکاح ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون میں صرف سزا کا ذکر موجود ہے اور کم عمری کی بنیاد پر نکاح کالعدم نہیں ہوتا۔

فیصلے میں لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماریہ نے شہریار نامی لڑکے سے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا، جس کا دستاویزی ثبوت موجود ہے، اور اس نے شادی اپنی مرضی سے کی۔ والد کی جانب سے دائر حبس بے جا کی درخواستیں بھی خارج کر دی گئی ہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہیں۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں یا اصولوں کی پابند نہیں، اگر وہ آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔

عدالت نے والد کے بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی اور کہا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق ماریہ اور اس کی چھوٹی بہن کی عمر میں صرف آٹھ ماہ کا فرق ہے، جس سے دستاویزات کی شفافیت کی تصدیق ہوتی ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *