Banner

کیا کم عمری میں شادی کا نکاح ختم ہو سکتا ہے؟ عدالت کا بڑا فیصلہ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے کم عمری میں شادی کے حوالے سے اہم فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہلِ کتاب خواتین کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ چائلڈ میرج ایکٹ 1929 کے تحت کم عمری کی شادی پر فوجداری سزا ہو سکتی ہے، مگر نکاح ختم نہیں کیا جا سکتا۔ قانون میں صرف سزا کا ذکر موجود ہے اور کم عمری کی بنیاد پر نکاح کالعدم نہیں ہوتا۔

فیصلے میں لاہور کی رہائشی ماریہ بی بی کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ماریہ نے شہریار نامی لڑکے سے شادی سے پہلے اسلام قبول کیا، جس کا دستاویزی ثبوت موجود ہے، اور اس نے شادی اپنی مرضی سے کی۔ والد کی جانب سے دائر حبس بے جا کی درخواستیں بھی خارج کر دی گئی ہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ آئینی تشریح کے لیے حتمی فورم وفاقی آئینی عدالت ہے، اور سپریم کورٹ سمیت تمام عدالتیں اس کے فیصلوں کی پابند ہیں۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں یا اصولوں کی پابند نہیں، اگر وہ آئین یا قانون سے متصادم ہوں۔

عدالت نے والد کے بیانات میں تضاد کی نشاندہی کی اور کہا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق ماریہ اور اس کی چھوٹی بہن کی عمر میں صرف آٹھ ماہ کا فرق ہے، جس سے دستاویزات کی شفافیت کی تصدیق ہوتی ہے۔

کیا کم عمری میں شادی کا نکاح ختم ہو سکتا ہے؟ عدالت کا بڑا فیصلہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us