Banner

ایران جوہری پروگرام بحال نہیں کر رہا تھا، امریکی انٹیلی جنس چیف کا بڑا انکشاف

featured
Share

Share This Post

or copy the link

امریکا کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع نہیں کیں۔

واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 کی امریکی کارروائی “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام شدید متاثر ہوا اور اس کے بعد اس کی بحالی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

یہ مؤقف سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں سے مختلف ہے، جو ایران کی جوہری سرگرمیوں کو ممکنہ جنگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے رہے ہیں اور اسی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی کا جواز پیش کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران مسلسل جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر ایران اس سمت میں پیش رفت بھی کرے تو اسے مکمل صلاحیت حاصل کرنے میں کئی سال درکار ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق ان حملوں سے ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو بھی نقصان پہنچا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی خطے میں اپنے مفادات کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں۔

ادھر امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا۔

ایران جوہری پروگرام بحال نہیں کر رہا تھا، امریکی انٹیلی جنس چیف کا بڑا انکشاف

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us