Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

ایران جوہری پروگرام بحال نہیں کر رہا تھا، امریکی انٹیلی جنس چیف کا بڑا انکشاف

امریکا کی انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے گزشتہ سال امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی سرگرمیاں دوبارہ شروع نہیں کیں۔

واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2025 کی امریکی کارروائی “آپریشن مڈنائٹ ہیمر” کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام شدید متاثر ہوا اور اس کے بعد اس کی بحالی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

یہ مؤقف سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعوؤں سے مختلف ہے، جو ایران کی جوہری سرگرمیوں کو ممکنہ جنگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے رہے ہیں اور اسی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی کا جواز پیش کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ایران مسلسل جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر ایران اس سمت میں پیش رفت بھی کرے تو اسے مکمل صلاحیت حاصل کرنے میں کئی سال درکار ہوں گے۔

امریکی حکام کے مطابق ان حملوں سے ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو بھی نقصان پہنچا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب بھی خطے میں اپنے مفادات کے دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز میں۔

ادھر امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر جو کینٹ نے ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ ایران امریکا کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *