Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وکالت کا شعبہ ،انصاف یا ناانصافی؟آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کارTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانیوکالت کا شعبہ ،انصاف یا ناانصافی؟آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کارTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانی

ٹرمپ کو بڑا جھٹکا، یورپی ممالک کا آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی کا حصہ بننے سے صاف انکار

یورپی ممالک نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ فوجی کارروائی سے خود کو الگ رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ ایران سے جاری تنازع میں براہِ راست شامل نہیں ہونا چاہتے۔

یورپی یونین کے اجلاس کے موقع پر جرمنی کے وزیر خارجہ یوهان واڈیفل نے کہا کہ ان کا ملک کسی فوجی مشن میں شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا اور اسرائیل کو اپنی حکمت عملی اور اہداف کے بارے میں اتحادیوں کو واضح آگاہی دینی چاہیے۔

جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس نے بھی اسی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لے گا، تاہم محفوظ بحری گزرگاہ کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔

برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے بھی کہا کہ ان کا ملک اس صورتحال کو نیٹو مشن نہیں سمجھتا اور کسی بڑی جنگ میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، البتہ اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

دیگر یورپی ممالک، جن میں نیدرلینڈز، یونان اور اٹلی شامل ہیں، نے بھی امریکی تجویز پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے فوری فوجی کارروائی کو مشکل قرار دیا، جبکہ پولینڈ نے عندیہ دیا کہ نیٹو کی باضابطہ درخواست پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحادیوں سے آبنائے ہرمز میں بحری اتحاد قائم کرنے کی اپیل کی تھی تاکہ عالمی تیل کی ترسیل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث صورتحال حساس ہو چکی ہے، جس کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *