Banner

مائینز اینڈ منرل ایکٹ کے نوٹس عوام کے سامنے لایا جائے،لشکری رئیسانی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

)بلوچستان ہائی کورٹ میں مائینز اینڈ منرل ایکٹ کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت ہوئی، جس کی نگرانی جسٹس سردار احمد حلیمی اور جسٹس اقبال کاسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے بعد حاجی لشکری رئیسانی اور ان کے وکلا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔وکیل بیرسٹر اقبال کاکڑ نے کہا کہ آج کی سماعت میں بھی حکومت کی جانب سے عدالت میں جواب جمع نہیں کرایا گیا، اور حکومت نے مزید وقت طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان نے زبانی طور پر مائینز اینڈ منرل ایکٹ کو روکنے کی بات کی تھی، تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرکے عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ عوام کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔بیرسٹر اقبال کاکڑ کے مطابق عدالت کے استفسار پر حاجی لشکری رئیسانی نے بھی تصدیق کی کہ تاحال حکومت کی جانب سے قانون کو روکنے سے متعلق کوئی باضابطہ نوٹس موصول نہیں ہوا۔ حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے رابطہ کیا گیا تو دیکھا جائے گا کہ معاملہ عدالت کے باہر حل کیا جائے یا عدالت کے اندر، اور اگر یہ عدالت سے باہر حل ہو جائے تو یہ بہتر ہوگا۔حاجی لشکری رئیسانی نے کہا کہ مائینز اینڈ منرل ایکٹ کو غیر معمولی تیزی سے منظور کیا گیا اور اس قانون کی منظوری کے تمام مراحل مشکوک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کا جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ یہ آئندہ نسلوں کی بقا اور وسائل کے تحفظ کا مسئلہ ہے، اور اسی وجہ سے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ قانون کو روکنے سے متعلق نوٹس عوام کے سامنے لایا جائے تاکہ شفافیت قائم رہے اور عوام کو حقائق معلوم ہوں۔ حاجی لشکری رئیسانی نے اعلان کیا کہ اس معاملے پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کامیابی حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ آل پارٹیز کانفرنس میں قانون کا ازسرنو جائزہ لینے کا فیصلہ ہوا تھا، لیکن اس کے بعد دوبارہ خاموشی اختیار کر لی گئی۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت عید کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت کے دوران تفصیلی جواب جمع کرائیں۔ سماعت کے دوران عدالت نے حکام کو متنبہ کیا کہ قانونی تقاضوں کی پاسداری اور شفاف کارروائی یقینی بنائی جائے۔یہ سماعت اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے کیونکہ مائینز اینڈ منرل ایکٹ کے اثرات صوبے کے قدرتی وسائل، آئندہ نسلوں کے حقوق اور مقامی کمیونٹی پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔ حاجی لشکری رئیسانی اور ان کے وکلا نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی حقوق اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے قانونی جدوجہد ناگزیر ہے۔

مائینز اینڈ منرل ایکٹ کے نوٹس عوام کے سامنے لایا جائے،لشکری رئیسانی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us