Banner

پروپیگنڈا نہیں، مثبت سوچ: بلوچستان کے برانڈز کی حمایت کیوں ضروری ہے

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر عبداللہ حسین
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک کپڑوں کے برانڈ (جانم)کے خلاف مختلف بیانات اور بائیکاٹ کی مہم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ایسے مواقع پر ضروری ہے کہ ہم جذبات کے بجائے تدبر، تحقیق اور انصاف کے ساتھ معاملات کو دیکھیں۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اکثر کسی ایک جملے یا واقعے کو سیاق و سباق سے ہٹا کر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف بھی ہو سکتی ہے۔
میری اس برانڈ کے مالک سے ذاتی ملاقات بھی ہو چکی ہے اور میں نے ان کے ساتھ ایک پروگرام بھی کیا ہے۔ اس گفتگو کے دوران مجھے ان کے رویے یا خیالات میں ایسا کوئی پہلو محسوس نہیں ہوا جو کسی قوم یا کمیونٹی کی توہین کی طرف اشارہ کرتا ہو۔ البتہ اطلاعات کے مطابق کسی اور پروگرام یا گفتگو میں الفاظ کے انتخاب میں ایک غلط فہمی یا مس کمیونیکیشن پیدا ہو گئی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس معاملے پر خود ان کی جانب سے وضاحت بھی سامنے آ چکی ہے اور انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر ان کے الفاظ سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو وہ اس پر معذرت خواہ ہیں۔ ایک مہذب اور باشعور معاشرے کی یہی خوبصورتی ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بات کی وضاحت کر دے اور معذرت کا اظہار کرے تو ہم بھی وسیع ظرفی اور برداشت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملے کو آگے بڑھنے دیتے ہیں۔
ہمیں یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ مارکیٹ میں ہر برانڈ کی اپنی قیمت، معیار اور حکمت عملی ہوتی ہے۔ اگر کسی کو کسی برانڈ کی قیمت زیادہ محسوس ہوتی ہے تو اسے خریدنا لازمی نہیں۔ مارکیٹ میں متعدد متبادل موجود ہیں اور ہر فرد اپنی پسند اور استطاعت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔ تاہم صرف اس بنیاد پر اپنے ہی صوبے کے کسی برانڈ کے خلاف منفی مہم چلانا یا نفرت انگیز فضا پیدا کرنا کسی طور مناسب نہیں۔
میری تحقیق اور مشاہدے کے مطابق ایک اور پہلو بھی قابل غور ہے۔ جب سے یہ برانڈ مارکیٹ میں آیا ہے اور مختلف شہروں میں اس کے آؤٹ لیٹس قائم ہوئے ہیں، اس نے اپنے انداز اور معیار کے باعث تیزی سے مقبولیت حاصل کی ہے۔ ایسے میں بعض روایتی کاروبار یقیناً متاثر بھی ہوئے ہوں گے۔ کاروباری دنیا میں مقابلہ ایک فطری عمل ہے، مگر بدقسمتی سے بعض اوقات یہی مقابلہ منفی پروپیگنڈے کی شکل بھی اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے ممکن ہے کہ اس مہم کے پیچھے کچھ ایسے عناصر بھی ہوں جن کے اپنے کاروباری مفادات متاثر ہوئے ہوں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب بلوچستان سے کوئی برانڈ یا کاروبار ابھرتا ہے تو وہ صرف ایک کمپنی کی کامیابی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ سینکڑوں لوگوں کی محنت، روزگار اور امیدیں وابستہ ہوتی ہیں۔ ایسے میں اگر ہم خود ہی اپنے لوگوں کے خلاف منفی فضا قائم کریں گے تو اس کا نقصان بالآخر ہمیں ہی پہنچے گا۔ اپنی ہی قوم اور اپنے ہی لوگوں کی حوصلہ شکنی کرنا کسی بھی طور دانشمندی نہیں۔
اختلاف رائے ایک جمہوری معاشرے کا حسن ہے، مگر اختلاف کو نفرت اور بائیکاٹ کی صورت دینا مسائل کا حل نہیں۔ ہمیں بطور معاشرہ برداشت، مثبت سوچ اور انصاف کو فروغ دینا ہوگا۔
اسی جذبے کے تحت میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی منفی مہم کا حصہ بننے کے بجائے حقیقت اور انصاف کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں اور اپنے برانڈز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، کیونکہ یہی رویہ ترقی، اتحاد اور خود اعتمادی کی بنیاد بنتا ہے۔ اسی مثبت سوچ کے ساتھ میں اس برانڈ کے حق میں کھڑا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ ہم سب بھی ذمہ داری اور دانشمندی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔

پروپیگنڈا نہیں، مثبت سوچ: بلوچستان کے برانڈز کی حمایت کیوں ضروری ہے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us