Banner

عالمی یوم خواتین، ٹیکنالوجی سے بدلتی زندگیاں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر: خلیل رونجھو
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ کی ایک نوجوان طالبہ گیت رانی کی کہانی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگر خواتین کو سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ اپنی زندگی میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہیں۔ گیت رانی ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں جہاں وسائل محدود تھے اور جدید تعلیم کے مواقع بھی زیادہ دستیاب نہیں تھے۔ تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور وانگ لیب آف انوویشن میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے کورسز میں داخلہ لیا۔ یہاں انہوں نے کمپیوٹر اسکلز، آن لائن کام کے طریقے اور جدید اے آئی ٹولز کے استعمال کے بارے میں تربیت حاصل کی۔ اس تربیت کے بعد گیت رانی نے اپنی مہارتوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک چھوٹا سا آن لائن کاروبار شروع کیا۔ آج وہ نہ صرف معاشی طور پر خودمختار ہیں بلکہ اپنے خاندان کی مالی مدد بھی کر رہی ہیں۔ گیت رانی کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی خواتین کے لیے ترقی کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔
اسی طرح کی اور بھی بہت ساری کہانیاں ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ خواتین کو تعلیم اور ہنر سے جوڑنا معاشرے کی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن خواتین کی جدوجہد، کامیابیوں اور معاشرے میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ سال 2026 میں اس دن کی تھیم “Give to Gain” ہے، جس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ اگر خواتین کو تعلیم، وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ان کی زندگیوں پر بلکہ پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔ آج کے دور میں جب دنیا تیزی سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کی طرف بڑھ رہی ہے تو خواتین کو اس ترقی کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ جیسے علاقوں میں خواتین کو تعلیم کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں کی بہت سی لڑکیاں بنیادی تعلیم کے بعد اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں۔ اس کی وجوہات میں معاشی مشکلات، مذہبی انتہا پسندی، سماجی روایات اور تعلیمی سہولیات کی کمی شامل ہیں۔ نتیجتاً خواتین کے لیے روزگار یا خود روزگاری کے مواقع بھی محدود رہ جاتے ہیں۔ تاہم جدید دور میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے ایسے مواقع پیدا کیے ہیں جن کے ذریعے خواتین گھر بیٹھے بھی علم حاصل کر سکتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتی ہیں۔
ڈیجیٹل تعلیم آج کے دور کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ انٹرنیٹ، کمپیوٹر اور اسمارٹ فون نے تعلیم، کاروبار اور روزگار کے طریقوں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ آن لائن فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، پروگرامنگ اور ای کامرس جیسے شعبے خواتین کے لیے نئے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ اگر لسبیلہ کی خواتین کو ان شعبوں کی تربیت دی جائے تو وہ نہ صرف معاشی طور پر خودمختار ہو سکتی ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کی زندگی میں بھی مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔ اس طرح خواتین نہ صرف اپنے گھر بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اسی طرح مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تعلیم بھی موجودہ دور میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اے آئی کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ تقریباً ہر شعبے میں استعمال ہو رہی ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، زراعت اور صنعت سمیت مختلف شعبوں میں اے آئی کے استعمال نے کام کے طریقوں کو مزید مؤثر اور آسان بنا دیا ہے۔ اگر خواتین کو اس جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں بنیادی معلومات اور عملی مہارتیں فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف نئے مواقع حاصل کر سکتی ہیں بلکہ اختراع اور تخلیقی کاموں میں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں خواتین کو اس سمت میں آگے بڑھانے کے لیے معروف سماجی تنظیم وانگ کے تحت قائم وانگ لیب آف انوویشن ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ ادارہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں آگاہی اور تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس ادارے کا مقصد نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کو ایسے ہنر سکھانا ہے جو انہیں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق بااختیار بنا سکیں۔ یہاں مختلف تربیتی پروگرامز، ورکشاپس اور سیکھنے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ طالبات عملی طور پر ڈیجیٹل مہارتیں سیکھ سکیں۔ وانگ لیب آف انوویشن کے ایک اور پروگرام اردو اے ائی کے تحت پورے ملک میں ٹرینڈ اردو اے ائی دوستوں کے ذریعے 35 ہزار نوجوانوں کو اردو زبان میں مصنوعی ذہانت سکھانے کے لیے ٹریننگ سیشن کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں سیکھنے والوں کی قابل ذکر تعداد خواتین کی ہے۔
وانگ لیب آف انوویشن کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ طالبات کو صرف نظریاتی معلومات نہیں دی جاتیں بلکہ انہیں عملی مشقوں اور پراجیکٹس کے ذریعے سکھایا جاتا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کو کس طرح استعمال کر سکتی ہیں۔ اس عمل سے طالبات کا اعتماد بڑھتا ہے اور وہ مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہو جاتی ہیں۔
اس ادارے کی کاوشوں کا ایک اہم نتیجہ یہ بھی ہے کہ اب تک تقریباً پانچ سو کے قریب طالبات مختلف پروگرامز سے گریجویٹ ہو چکی ہیں۔ یہ کامیابی اس بات کی علامت ہے کہ لسبیلہ جیسے علاقے میں بھی خواتین جدید تعلیم حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان طالبات نے ڈیجیٹل مہارتوں اور ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں تربیت حاصل کی ہے، جس کے بعد ان کے لیے روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
ان طالبات کی کامیابیوں کو سراہنے اور ان کی حوصلہ افزائی کے لیے وقتاً فوقتاً اختتامی تقریبات کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ ان تقریبات میں مختلف سرکاری، سماجی اور علمی شخصیات شرکت کرتی ہیں اور کامیاب طالبات کو ڈگریاں اور اسناد فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح کی تقریبات نہ صرف طالبات کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں خواتین کی تعلیم اور ہنر کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔
خواتین کی تعلیم اور مہارت میں سرمایہ کاری کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے پر مثبت اثر ڈالتے ہیں۔ جب خواتین تعلیم یافتہ اور ہنر مند ہوتی ہیں تو وہ اپنے خاندانوں کی بہتر پرورش کر سکتی ہیں، بچوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دیتی ہیں اور معاشی طور پر بھی مضبوط بنتی ہیں۔ اس طرح ایک تعلیم یافتہ عورت دراصل ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خواتین کو تعلیم اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ عالمی یوم خواتین ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ خواتین کو بااختیار بنائے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں۔ بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں وانگ لیب آف انوویشن جیسے ادارے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر اس طرح کی کوششیں جاری رہیں تو وہ دن دور نہیں جب لسبیلہ کی خواتین بھی ڈیجیٹل دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گی اور معاشرے کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔

عالمی یوم خواتین، ٹیکنالوجی سے بدلتی زندگیاں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us