Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیدہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی

شہربانو نقوی: لاہور میں ڈاکٹر اور مریضہ کے درمیان تنازعے میں پولیس افسر کا نام کیوں آیا؟

لاہور میں ایک ڈاکٹر کی جانب سے پہلے ایک پوڈکاسٹ اور پھر پریس کانفرنس میں پنجاب پولیس کی خاتون پولیس افسر شہربانو نقوی پر دباؤ ڈال کر رقم دلوانے کے الزامات لگائے جانے کے بعد اگرچہ پولیس افسر کا ردعمل سامنے آ گیا ہے لیکن سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث تھمتی دکھائی نہیں دے رہی۔

علی زین العابدین نامی ڈاکٹر نے حال ہی میں لاہور پولیس کی افسر شہر بانو نقوی پر الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے مذکورہ ڈاکٹر پر ایک مریضہ کو لاکھوں روپے زرِ تلافی ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

ادھر ایس پی شہربانو نقوی نے خود پر عائد الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی نو مئی 2025 کو دونوں فریقین سے ملاقات ہوئی تھی تاہم اس ملاقات میں پیسوں کا کوئی لین دین نہیں ہوا تھا جبکہ ڈاکٹر پہلے ہی غلطی تسلیم کر کے مریضہ سے معافی مانگ چکے تھے۔

خیال رہے کہ مریضہ فرحت عباس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ڈاکٹر علی کے کلینک گئی تھیں جہاں ڈاکٹر نے دونوں کو لیزر سرجری کرانے کا مشورہ دیا مگر اس سے ان کی بینائی متاثر ہوئی۔

لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ تاحال آئی سرجن ڈاکٹر علی زین العابدین یا مریضہ فرحت عباس میں سے کسی فریق کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے تاہم اس معاملے کی تحقیقات کی گئی ہیں تاہم ماڈل ٹاؤن تھانے کی پولیس کا یہ ضرور کہنا ہے کہ ڈاکٹر علی زین العابدین کے خلاف مزید شکایات بھی موصول ہو چکی ہیں اور ان پر بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

roshanurdu

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *