سوویت ’الفا‘ کمانڈوز کی جانب سے تاج بیگ محل میں افغان صدر حفیظ اللہ امین کو زہر دے کر قتل کیے جانے کے بعد دسمبر 1979 کے آخری ہفتے میں سوویت افواج نے افغانستان پر قبضے کا آغاز کیا۔
امریکی نیشنل سکیورٹی آرکائیو کی دستاویزات کے مطابق سوویت سیاسی قیادت کے ایک محدود حلقے، جس کی سربراہی لیونڈ بریژنیف کر رہے تھے، کو خدشہ تھا کہ حفیظ اللہ امین مغرب کی طرف جھکاؤ کی پالیسی اختیار کر سکتے ہیں اور یہی خوف افغانستان پر سوویت یلغار کا سبب بنا۔
دوسری جانب واشنگٹن میں اس قبضے کو سوویت یونین کے توسیع پسندانہ عزائم کا شاخسانہ قرار دیا گیا، جس کا مقصد گرم پانیوں تک رسائی تھا۔
یہ قبضہ اس بات کی مثال ہے کہ سرد جنگ کے دور میں دو سپر پاورز، سوویت یونین اور امریکہ، کس طرح ایک دوسرے کے عزائم اور خفیہ سرگرمیوں کے خوف کو حقیقی تجزیوں اور ردعمل میں بدلتے رہے۔
کابل کے عوام نے صدر امین کے قتل کی خبر ریڈیو پر ببرک کارمل کی آواز میں سُنی، جنھوں نے امین کو ’فاشسٹ اور سی آئی اے کا جاسوس‘ قرار دیا۔ یہ پیغام پہلے سے ریکارڈ شدہ تھا اور اسے ریڈیو تاجکستان سے نشر کیا گیا تھا۔
ببرک کارمل، اسلم وطنجار، گلاب زئی، اسد اللہ سروری، عبدالوکیل اور نجیب اللہ (أفغانستان کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پارچم دھڑے سے تعلق رکھنے والے رہنما) اپنی جلاوطنی ختم کرتے ہوئے سوویت افواج کے ساتھ ہی کابل میں داخل ہوئے اور نئی حکومت قائم کی۔



