سورج کے قریب اور جتنا بڑا ہونا چاہیے تھا اس سے کہیں چھوٹا سیارہ، عطارد طویل عرصے سے ماہرینِ فلکیات کو حیران کرتا رہا ہے کیونکہ یہ سیاروں کی تشکیل کے بارے میں ہمارے علم کے بیشتر حصے کو چیلنج کرتا ہے۔ ایک نیا خلائی مشن جو 2026 میں اس کے مدار تک پہنچے گا شاید اس معمہ کو حل کر سکے۔
بظاہر عطارد نظامِ شمسی کا سب سے غیر دلچسپ سیارہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کی خشک سطح پر نمایاں خصوصیات بہت کم ہیں، اس کے ماضی میں پانی کے کوئی شواہد نہیں ملتے اور اس کی کمزور فضا بہترین صورت میں بھی نہایت ہلکی ہے۔ اس کے گہرے گڑھوں میں زندگی ملنے کا امکان بالکل نہیں۔
تاہم قریب سے دیکھنے پر عطارد ایک حیرت انگیز اور غیر متوقع دنیا ہے جو اسرار میں لپٹی ہوئی ہے۔
سیاروں پر تحقیق کرنے والے سائنس دان اب بھی اس حقیقت پر حیران ہیں کہ سورج کے سب سے قریب موجود یہ سیارہ کس طرح وجود میں آیا۔ یہ نہایت چھوٹا ہے، زمین کے مقابلے میں اس کا وزن 20 گنا کم ہے اور اس کی چوڑائی بمشکل آسٹریلیا سے زیادہ ہے۔
عطارد کا مدار، جو سورج کے نہایت قریب ہے، بھی ایک نایاب مقام پر ہے جسے ماہرین فلکیات مکمل طور پر سمجھا نہیں پاتے۔ یہ ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہی نہیں کہ عطارد کس طرح بنا۔ ہماری سمجھ کے مطابق یہ سیارہ تو ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔
یہ راز کہ عطارد کہاں سے آیا، کس طرح بنا اور آج جیسا دکھائی دیتا ہے ویسا کیوں ہے، نظامِ شمسی کے سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے۔
فرانس کی یونیورسٹی آف بوردو میں سیاروں کی تشکیل اور حرکیات کے ماہر شان ریمنڈ کہتے ہیں کہ ’یہ کچھ شرمندگی کی بات ہے۔ ہم کسی اہم باریک نکتے کو نظرانداز کر رہے ہیں۔‘
تاہم ان سوالوں کے کچھ جوابات شاید جلد سامنے آنے کا امکان بھی موجود ہے۔



