خوشحال خان کالڑ کا ایڈیشن
تحریر محمد نسیم رنزوریار
خوشحال خان کاکڑ: پشتون افغان سیاست کا نیا آفتاب اور پارلیمانی سنگِ میل
قارئین کرام! عثمان خان کاکڑ، جنہیں عوامی حلقوں میں “عثمان لالا” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، پاکستان کی سیاسی تاریخ کا وہ درخشندہ باب ہیں جس نے جرات اور اصول پسندی کو نئے معنی دیے۔ آج لالا شہید کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان کے فرزندِ ارجمند اور نیشنل عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ بھی وہ نڈر اور بے باک رہنما ثابت ہو رہے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی سویلین بالادستی، آئین کی حکمرانی اور مظلوم طبقات کے حقوق کی خاطر وقف کرنے کا عزم کر رکھا ہے۔ ان کی سیاست محض اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسے سماج کی تشکیل کی جدوجہد ہے جہاں وفاق کی تمام اکائیاں برابر ہوں اور چھوٹے صوبوں کو ان کے قدرتی وسائل پر مکمل اختیار حاصل ہو۔ اگرچہ خوشحال خان کاکڑ کے والد عثمان لالا کی شہادت نے ایک عظیم سیاسی خلا پیدا کیا، لیکن خوشحال خان کاکڑ نے ان کے نظریات کو ایک دائمی تحریک کی صورت میں زندہ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ فکرِ عثمان کبھی مر نہیں سکتی۔ ان کی فکری جرات اور سیاسی دیانت داری کا عکس آج خوشحال خان کاکڑ کی صورت میں ایک تناور درخت بن کر قوم کو سایہ فراہم کر رہا ہے۔ عثمان لالا کی شہادت کے فوراً بعد خوشحال خان کاکڑ نے جس متانت اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا، اس سے واضح ہو گیا کہ وہ صرف ایک سیاسی وارث ہی نہیں بلکہ ایک بصیرت افروز لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں، جنہوں نے پشتون قوم کی خدمت کے مشن کو جدید دور کے سیاسی تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے ایک نئی توانائی بخشی ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں ان کی کامیابی اور قومی اسمبلی کے ایوان تک رسائی عثمان لالا کے نظریات پر عوامی اعتماد کا واضح ثبوت ہے، جہاں وہ اب صرف اپنے حلقے کی نہیں بلکہ تمام محروم طبقات کی توانا آواز بن چکے ہیں۔ خوشحال خان کاکڑ کی پارلیمانی سیاست کا سب سے روشن پہلو ان کا استدلال اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوامی مقدمہ لڑنا ہے۔ وہ ایوان میں جب “صوبائی خودمختاری” اور “وسائل پر حقِ ملکیت” کی بات کرتے ہیں تو ان کے پاس محض نعرے نہیں بلکہ ڈیٹا اور ٹھوس شواہد ہوتے ہیں۔ ان کا پختہ موقف ہے کہ وفاق کی مضبوطی صرف اسی صورت ممکن ہے جب بلوچستان کے معدنیات، گیس اور دیگر وسائل پر پہلا حق وہاں کے مقامی باشندوں کا تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے لاپتہ افراد جیسے حساس انسانی معاملے کو جس جرات اور اخلاقی قوت کے ساتھ پارلیمنٹ میں اٹھایا، اس نے انہیں ملک بھر کے جمہوریت پسندوں کی نظر میں ایک معتبر قیادت کے طور پر منوا لیا ہے۔ ان کی حالیہ تقاریر میں جس طرح انہوں نے ریاست کو اس کے آئینی فرائض یاد دلائے، وہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ ایوان میں کسی مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے عوام کے حقیقی دکھوں کے مداوے کے لیے آئے ہیں۔ خوشحال خان کاکڑ نے اپنی حالیہ گفتگو میں واضح کیا کہ پارلیمنٹ کو تمام اداروں پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے اور عوام کے منتخب نمائندوں کے سوا کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ملک کی تقدیر کے فیصلے کرے۔ ان کی تقریر کا وہ حصہ جس میں انہوں نے افغان سرحد پر بسنے والے لاکھوں محنت کشوں کے معاشی قتلِ عام کا ذکر کیا، وہ ایوان کی دیواروں کو ہلا دینے والا تھا۔ وہ چمن، طورخم اور دیگر سرحدی علاقوں میں پاسپورٹ اور ویزا کی شرط کو مقامی لوگوں کی تاریخی اور جغرافیائی جڑوں پر حملہ تصور کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ تجارت کی بندش سے نہ صرف غربت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ یہ عمل وفاق اور اکائیوں کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کر رہا ہے۔ خوشحال خان کاکڑ کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی کا یہ سفر روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک علمی اور فکری رخ اختیار کر چکا ہے، جہاں نوجوانوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنانا ان کی ترجیحات میں سرِفہرست ہے۔ وہ ڈیجیٹل دور کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور اسی لیے سوشل میڈیا اور فکری نشستوں کے ذریعے نئی نسل کو انتہا پسندی سے دور رکھ کر جمہوری اقدار کی طرف راغب کر رہے ہیں۔ ان کا وژن ایک ایسے پاکستان کا ہے جہاں ہر قومیت کو اپنی زبان، ثقافت اور شناخت کے ساتھ جینے کا پورا حق ہو اور جہاں ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ آئین کے دائرے میں رہ کر برتاؤ کرے۔ خوشحال خان کاکڑ کا سیاسی سفر ابھی آغاز میں ہے، مگر ان کی سیاسی پختگی، دیانت داری اور اپنے عوام سے وابستگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ آنے والے برسوں میں پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہوں گے۔ وہ صرف ایک نشست کے حامل ممبر نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کے علمبردار ہیں جو برابری، انصاف اور قومی خود مختاری پر یقین رکھتی ہے، …



