ایران امریکا جنگ کے باعث توانائی بحران کا خدشہ: پاکستانی حکومت نے اہم منصوبہ تیار کرلیا
پیٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے قیمتوں کے نئے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی ہے
آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدشات کے پیش نظر وفاقی حکومت نے توانائی کی بچت کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات اور آر ایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے قیمتوں کے نئے طریقہ کار کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ہفتے ردوبدل کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں کووڈ 19 وبا کے دوران اپنائے گئے طریقہ کار کی طرز پر تعطیلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
حکومت نے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے جس میں تین سے چار درجن تجاویز شامل ہیں۔
پہلے مرحلے میں حکومت سرکاری شعبے میں اقدامات نافذ کرے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی اسکولوں، جامعات اور اسپتالوں میں آن لائن اسائنمنٹس کا نظام متعارف کرایا جائے گا، اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل بھی کیا جائے گا۔
خطے کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر اور کھپت سے متعلق ہائی پاورڈ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آفسز، تعلیمی اداروں اور خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے لیے ورکنگ دنوں میں کمی کا پلان تیار کیا گیا جبکہ تعلیمی اداروں میں ورچوئل نظام تعلیم اور دفاتر کے لیے ورک فرام ہوم کا طریقہ کار بھی زیر غور ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے ایندھن کے موجودہ ذخائر کا مؤثر استعمال اور طلب میں کمی ممکن بنائی جائے گی۔ پلان کے تحت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کا طریقہ کار بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کے مطابق ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بریفنگ کے بعد وزیراعظم آج اس حوالے سے اہم فیصلے کریں گے۔



