تصنیف: محمد عاصم صدیقی
قوموں کی تاریخ میں کچھ ایام ایسے بھی آتے ہیں جو محض کیلنڈر کی تاریخ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عزم و شجاعت کی روشن دلیل بن جاتے ہیں۔ 27 فروری 2019 کا دن بھی ایسا ہی ایک بابِ زرّیں ہے جب پاک فضائیہ نے آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ فضائیں ا±نہی کی امانت رہتی ہیں جو ا±ن کی حرمت کا پاس رکھتے ہیں. یہ کارروائی نہ صرف افواج پاکستان کی برق رفتاری اور بے مثال مہارت کی دلیل بنی، بلکہ فضائی جنگ کے قواعدِ کی پاسداری کرتے ہوئے ذمہ دارانہ طاقت کے استعمال کی ایک درخشاں مثال ثابت ہوئی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب شاہینوں نے یہ باور کروایا کہ جو قومیں بیدار رہتی ہیں، ا±ن کی سرحدوں پر اندھیرا ٹھہر نہیں سکتا۔ دشمن کی اشتعال انگیزی کا جواب نہ جذبات کی رو میں بہہ کر دیا گیا، نہ ہی غیر ذمہ دارانہ انداز میں بلکہ شاہینوں نے حکمت، توازن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اس طور پلٹ کر وار کیا کہ خطے میں طاقت کے توازن کو نئی معنویت حاصل ہوئی، نتیجتاً دشمن کے ذہنی انقباض کو مفکرِ پاکستان کے ان اشعار سے باخوبی جوڑا جا سکتا کہ: وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستانِ وجود ہوتی ہے بندائے مومن کی اذاں سے پ?دا فرمانِ قائد ہے کہ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال اور عقائد کا تحفظ ہے اور یہ ذمہ داری افواجِ پاکستان کے ذریعے ہی ممکن ہے۔بلاشبہ افواج پاکستان نے ملکی دفاع کے اس عہد کی تعمیل کی، جس میں ایک جانب 2019 کا معرکہئ عزم و جر?ت کی تمہید تھا تو 2025 میں آپریشن بنیان مرصوص اور آپریشن ضرب کرار اسی تمہید کی تکمیل بن کر سامنے آئے۔ ان معرکوں میں دشمن کے سات جدید طیاروں کو مار گرانا جن میں جدید فرانسیسی رافیل طیارے بھی شامل تھے، اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاک فضائیہ نے نہ صرف ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا بلکہ جدید فضائی حکمتِ عملی، نیٹ ورک سنٹرک وارفیئر اور تربیتی برتری کے ذریعے خود کو خطے کی ایک مو¿ثر اور قابلِ اعتبار فضائی قوت ثابت کیا۔ یہ فتح محض چند عسکری کارروائیوں کی دین نہیں بلکہ ایک جامع نظری? دفاع پر مکمل عملدرامدکا نتیجہ ہے ،ایسا نظریہ جو بدلتے ہوئے جنگی محرکات کے ساتھ مکمل ہم آہنگی قائم رکھتے ہوئے ہر نئے چیلنج کے مقابلے میں پاک فضائیہ کو ایک بنیان مرصوص بناتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جدید جے-10سی لڑاکا طیاروں کی شمولیت، جدید ریڈار سسٹمز، بغیر پائلٹ کے کام کرنے والے فضائی نطام ،لوئٹرنگ میونیشن صلاحیتیں اور لانگ رینج ویکٹرز کی آپریشنلائزیشن نے دفاعی استعدادکار میں غیر معمولی اضافہ کیا۔ مزید برآں نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک، سینٹر آف ایکسیلنس فار ایئر موبلٹی اینڈ ایوی ایشن سیفٹی اور کالج آف ایئر ڈیفنس جیسے اداروں کے فعال ہونے سے تحقیق و ترقی کو نئی جہتیں بخشیں، جبکہ سائبر اور اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں پے در پے کامیابیاں اس امر کی غماز ہیں کہ پاک فضائیہ مستقبل میں دشمن کی کسی بھی مزموم مہم جوئی کے لیے ہمہ وقت صف بستہ اور تیار ہے۔ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے امین، اس امر سے باخوبی واقف تھے کہ جو ہتھیار خود تراشے جائیں وہی عسکری لحاظ سے پر اعتمادی اور حقیقی خود مختاری کی ضمانت ہوتے ہیں۔ مقامی سطح پر ڈرون پروگرامز، ایویونکس اور پریسیڑن ویپنز کی تیاری اسی خود انحصاری کے سفر میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔ اس پر اعتماد قافلے کی قیادت ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کی جن کی بصیرت اور دور اندیشی بلاشبہ ایک روشن مینار کی مانند رہی۔ ا±ن کی دانشمندانہ کمانڈ اینڈ کنٹرول حکمتِ عملی، اسمارٹ انڈکشن پالیسی اور معیار و لاگت کے توازن پر مبنی فیصلوں نے پاک فضائیہ کو ضرب کرار کی عملی تصویر بنا دیا۔ انہوں نے جدید پلیٹ فارمز اور مقامی صلاحیتوں کا ایسا حسین امتزاج عمل میں لایا جس نے پاک فضائیہ کو نہ صرف خود کفیل بنایا بلکہ تیزی سے بدلتے ہوئے جغرافیائی و عسکری ماحول میں اسے بے مثال برتری بھی عطا کی۔ جنابِ ایئر چیف نے تربیت، نظری? حرب اور آپریشنل تیاری کو نئی روح بخشی اور یہی وہ عوامل ہیں جنہوں نے مئی 2025 کے معرکوں کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔مسلح افواج کی مشترکہ ہم آہنگی میں چیف آف ڈیفینس فورسز، چیف آف آرمی سٹاف جنرل سید عاصم منیر کی قیادت اور حکومت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ پالیسی سپورٹ بھی قابلِ تحسین ہے، جنہوں نے دفاعی برتری، تکنیکی ترقی اور انسانی وسائل کی بہتری کے لیے واضح سمت فراہم کی۔ یہی اشتراکِ عمل قومی سلامتی کے اس مضبوط قلعے کی بنیاد بنا۔ آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کی سالگرہ محض ایک یادگار نہیں بلکہ ماضی کے عہد کی تجدیدِ نو ہے کہ پاکستان کی فضائیں محفوظ ہیں اور رہیں گی۔ وہ عہد کہ جس کا پیغام ہے کہ جہاں عزم ہو فولاد سا، وہاں آندھیاں بھی سر جھکا دیتی ہیں۔ پاک فضائیہ آج ایک زندہ روایت ہے اور سوئفٹ ریٹورٹ سے بنیان مرصوص اور ضرب کرار تک ایک ایسا تسلسل جو بتاتا ہے کہ شاہینوں کی پرواز وقت کے ساتھ ساتھ افق کی نیلگوں بلندیوں کی جانب گامزن ہے۔ یہ عہد ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دفاع صرف ہتھیاروں سے نہیں وڑن، تربیت، اتحاد اور خود انحصاری سے مضبوط ہوتا ہے اور جب قوم اپنی فضاو¿ں کے پاسبانوں پر فخر کرے تو یہ فخر دراصل ا±س یقین کا نام ہے جو مستقبل کی ہر صبح کو محفوظ بناتا ہے۔



