Banner
Daily Sahafat Quetta
November 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خضدار: زیرو پوائنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحقسردار منظور کاکڑ کی آغا عبداللہ جان احمدزئی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیتیومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغامگر منصف جاگ رہا ہوعلامہ اقبالؒ: ایک ایسی شخصیت جسے کسی ایک تعارف میں قید نہیں کیا جا سکتاپاکستان عالمی مائننگ کمپنیوں کی میزبانی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تیارٹرمپ نے سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیامسلم باغ پولیس کی بروقت کارروائی، چوری کی واردات میں ملوث 3 ملزمان گرفتارمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں 8 سے 14 نومبر تک گرینڈ شمولیتی مہم چلائے گی، جمال شاہ کاکڑسکینہ عبداللہ خان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، عوامی اور خواتین کے مسائل پر گفتگوخضدار: زیرو پوائنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحقسردار منظور کاکڑ کی آغا عبداللہ جان احمدزئی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیتیومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغامگر منصف جاگ رہا ہوعلامہ اقبالؒ: ایک ایسی شخصیت جسے کسی ایک تعارف میں قید نہیں کیا جا سکتاپاکستان عالمی مائننگ کمپنیوں کی میزبانی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تیارٹرمپ نے سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیامسلم باغ پولیس کی بروقت کارروائی، چوری کی واردات میں ملوث 3 ملزمان گرفتارمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں 8 سے 14 نومبر تک گرینڈ شمولیتی مہم چلائے گی، جمال شاہ کاکڑسکینہ عبداللہ خان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، عوامی اور خواتین کے مسائل پر گفتگو

علامہ اقبالؒ: ایک ایسی شخصیت جسے کسی ایک تعارف میں قید نہیں کیا جا سکتا

علامہ اقبالؒ: ایک ایسی شخصیت جسے کسی ایک تعارف میں قید نہیں کیا جا سکتا

تحریر: ندیم ملک

علامہ محمد اقبالؒ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ آپ کشمیری النسل خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم سیالکوٹ، اعلیٰ تعلیم لاہور اور بعد ازاں یورپ سے حاصل کی۔ جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ آپ شاعر، فلسفی، مفکر اور قانون دان تھے۔ مشہور تصانیف میں بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم، اسرارِ خودی اور جاوید نامہ شامل ہیں۔ آپ نے 1930ء میں خطبہ الہ آباد کے ذریعے مسلمانوں کے لیے الگ سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا۔ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پائی۔ مزار بادشاہی مسجد کے قریب حضوری باغ میں واقع ہے نومبر کا مہینہ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ کی سرزمین پر ایک ایسی شخصیت نے جنم لیا جس نے اپنی فکر، فلسفے، شاعری اور سیاسی بصیرت سے نہ صرف برصغیر بلکہ پوری مسلم دنیا کو متاثر کیا۔ یہ شخصیت شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان، حکیم الامت حضرت علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی ہے۔ اقبالؒ محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فکری تحریک کا نام ہیں جس نے سوئی ہوئی قوم کو اس کی شناخت، خودداری اور منزل کا احساس دلایا
ہم پہلی جماعت سے اپنے قومی ہیروز، خصوصاً قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ اور سرسید احمد خان کے بارے میں پڑھتے آ رہے ہیں۔ اردو کی کتاب میں علامہ اقبالؒ کی جو پہلی نظم پڑھنے کو ملی، وہ ’’ہمدردی‘‘ تھی، جس میں ایک جگنو اور بلبل کا مکالمہ بیان کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ’’بچے کی دعا‘‘، ’’مکڑا اور مکھی‘‘، ’’پہاڑ اور گلہری‘‘، ’’گائے اور بکری‘‘ اور ’’پرندے کی فریاد‘‘ جیسی نظمیں پڑھنے کو ملیں۔ یہ نظمیں اقبالؒ کے پہلے مجموعہ کلام ’’بانگِ درا‘‘ کا حصہ ہیں
ایف اے میں اردو کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران اقبالؒ کو بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے یاد ہے کہ طلبہ اکثر یہ کہتے نظر آتے تھے کہ علامہ اقبالؒ کی شاعری بہت مشکل ہے، لیکن مجھے ان کے کلام کو پڑھنے اور سمجھنے میں کبھی کوئی خاص دشواری محسوس نہیں ہوئی۔ کئی سال بعد جب قرآن و حدیث کا مطالعہ شروع کیا تو احساس ہوا کہ اقبالؒ کی شاعری دراصل قرآنی فکر، اسلامی تعلیمات اور انسانی کردار کی تعمیر کا ایک خوبصورت اظہار ہے۔ خودی، تقویٰ، عمل، ہمدردی، خودداری، حسنِ ظن اور انسانیت سے محبت، ان کی شاعری کے بنیادی موضوعات ہیں۔ شاید ہم قرآن و حدیث کی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں، اسی لیے ہمیں اقبالؒ کا پیغام بھی مشکل محسوس ہونے لگا ہے
علامہ اقبالؒ کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے افکار اور شاعری کو صرف برصغیر تک محدود نہیں سمجھا گیا بلکہ مغرب کے علمی و ادبی حلقوں میں بھی انہیں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی شاعری کے تراجم دنیا کی متعدد زبانوں میں ہو چکے ہیں اور ان کے فلسفے پر مختلف ممالک کی جامعات میں تحقیق کی جاتی رہی ہے
معروف برطانوی مستشرق اور کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر رینالڈ اے نکلسن (R. A. Nicholson) نے اقبالؒ کی فارسی مثنوی ’’اسرارِ خودی‘‘ سے اس قدر متاثر ہو کر اس کا انگریزی ترجمہ کیا کہ اس کتاب کے ذریعے اقبالؒ کا پیغام مغربی دنیا تک پہنچا۔ نکلسن نے اپنے دیباچے میں لکھا کہ انہوں نے یہ کتاب پڑھی تو اسے اتنا اہم سمجھا کہ خود اقبالؒ سے اس کے انگریزی ترجمے کی اجازت طلب کی۔ انہوں نے اقبالؒ کو ایک ایسا شاعر قرار دیا جس کی شاعری میں غیر معمولی قوت ہے اور جو اپنے پیغام سے لوگوں کے دلوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نکلسن کے مطابق اقبالؒ کا پیغام صرف ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ہے یہ محض ایک مترجم کی رائے نہیں تھی بلکہ ایک ایسے مغربی محقق کا اعتراف تھا جو فارسی ادب اور فلسفے کا گہرا مطالعہ رکھتا تھا
اقبالؒ کے استاد اور معروف مستشرق پروفیسر سر تھامس آرنلڈ (Sir Thomas Arnold) بھی ان کی علمی و فکری صلاحیتوں کے معترف تھے۔ اقبالؒ نے جب شاعری ترک کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو ان کے قریبی علمی حلقے نے انہیں اس فیصلے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ آرنلڈ کی رائے بھی یہی تھی کہ اقبالؒ کی شاعری ایک ایسی قوت ہے جو ان کی قوم کے مسائل اور فکری زوال کے علاج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے خیال میں اقبالؒ کو شاعری ترک نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ان کا کلام ان کی قوم کے لیے ایک بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے
معروف فلسفی اور دانش ور حلقوں میں بھی اقبالؒ کی شخصیت کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ رِفعت حسن نے راؤٹلج انسائیکلوپیڈیا آف فلاسفی میں اقبالؒ کو بیسویں صدی کے بااثر ترین مسلم مفکرین میں شمار کیا ہے۔ ان کے مطابق اقبالؒ کا فلسفہ بنیادی طور پر قرآن سے جڑا ہوا ہے اور ان کی فکر کا مرکزی تصور ’’خودی‘‘ ہے۔ یہ خودی محض اپنی ذات پر فخر کرنے کا نام نہیں بلکہ انسان کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچاننے، انہیں پروان چڑھانے اور اپنی زندگی کو بامقصد بنانے کا فلسفہ ہے
اسی طرح معروف جرمن اسکالر این میری شمل (Annemarie Schimmel) نے اقبالؒ کی فارسی شاعری اور فلسفے کو عالمی سطح پر متعارف کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اقبالؒ کی تصنیف ’’جاوید نامہ‘‘ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ ان کے افکار اور شاعری پر علمی کام کیا۔ اقبالؒ کی فکر میں مشرقی روحانیت، اسلامی فلسفے اور جدید مغربی فکری مباحث کا جو امتزاج ملتا ہے، وہ انہیں اپنے عہد کے دوسرے شعرا سے ممتاز کرتا ہے
اقبالؒ کی عالمی ادبی اہمیت کا ایک خوبصورت حوالہ برطانیہ کے تاریخی شہر اسٹریٹ فورڈ اپون ایون (Stratford-upon-Avon) سے بھی ملتا ہے، جو عظیم انگریزی ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر کی جائے پیدائش ہے۔ 2010ء میں شیکسپیئر کی جائے پیدائش پر علامہ اقبالؒ کی یاد میں ایک تختی کی نقاب کشائی کی گئی، جس پر شیکسپیئر کے بارے میں اقبالؒ کی نظم کے اردو، فارسی اور انگریزی نسخوں کی خطاطی موجود ہے۔ یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ ادب اور فکر کی دنیا میں عظمت کسی جغرافیائی سرحد کی پابند نہیں ہوتی
اقبالؒ کی شخصیت کا سب سے منفرد پہلو یہ ہے کہ انہیں کسی ایک شعبے یا شناخت تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اردو اور فارسی کے عظیم شاعر ہیں، مگر ان کی اصل شناخت محض شاعری نہیں۔ وہ مسلم دنیا کے ممتاز فلسفی اور مفکر ہیں، لیکن فلسفہ بھی ان کی شخصیت کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔ ان کی کتاب ’’The Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘ جدید اسلامی فلسفے میں ایک اہم علمی کاوش سمجھی جاتی ہے
وہ تصوف کی روایت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، ان کے کلام میں عشقِ حقیقی، معرفت اور روحانیت کی گہرائی نمایاں ہے، لیکن اس کے باوجود وہ روایتی تصوف کے بعض تصورات پر تنقیدی نظر بھی رکھتے ہیں۔ وہ سیاست دانوں کی طرح سیاسی بصیرت رکھتے ہیں، لیکن ان کی شخصیت کسی روایتی سیاست دان کی شخصیت نہیں تھی
اقبالؒ نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی مستقبل کا تصور پیش کیا۔ دسمبر 1930ء میں مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد میں ان کا صدارتی خطبہ تحریکِ پاکستان کی فکری تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ سیاسی وحدت کا تصور پیش کیا، جسے بعد ازاں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں عملی تعبیر ملی
گویا اقبالؒ بیک وقت شاعر، فلسفی، مفکر، صوفی اور سیاسی رہنما ہیں، مگر ان میں سے کوئی ایک تعارف بھی ان کی پوری شخصیت بیان کرنے کے لیے کافی نہیں۔ ان کی شخصیت اتنی وسیع ہے کہ وہ مختلف علوم و فنون کو اپنے اندر سمو لیتی ہے، مگر کوئی ایک شعبہ ان پر حاوی نہیں ہو پاتا
دنیا کی ہر مہذب قوم اپنے قومی ہیروز کو اپنا سرمایہ سمجھتی ہے۔ ان کی زندگی سے وابستہ مقامات، یادگاروں اور تاریخی اشیا کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے محسنوں کی زندگی اور خدمات سے آگاہ رہ سکیں۔ بدقسمتی سے ہم اس معاملے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں
قائداعظمؒ کی علالت کے دوران ایمبولینس کی عدم دستیابی کا افسوس ناک واقعہ ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ لیاقت علی خان کو سرعام قتل کر دیا گیا۔ قائداعظمؒ سے وابستہ زیارت ریزیڈنسی دہشت گردی کا نشانہ بنی۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبالؒ کا سیالکوٹ میں واقع آبائی گھر بھی ہماری خصوصی توجہ اور دیکھ بھال کا مستحق ہے۔ مغل دور کے تاریخی قلعے ہوں یا قومی شخصیات سے وابستہ مقامات، ان کی حفاظت اور بحالی کے لیے جس سنجیدگی کی ضرورت ہے، وہ اکثر دکھائی نہیں دیتی
المیہ یہ بھی ہے کہ اگر کوئی دوسرا ملک یا قوم ہمارے قومی ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرے تو ہم اس کی تحسین کرنے کے بجائے غیر ضروری تنقید شروع کر دیتے ہیں۔ بعض حلقوں کی جانب سے اقبالؒ کو موجودہ دور میں غیر متعلق قرار دینے کی کوشش بھی اسی فکری رویے کی عکاسی کرتی ہے جس شخصیت کی شاعری اور فکر پر دنیا بھر میں تحقیق ہو رہی ہو، جس کی تصانیف کے تراجم مختلف زبانوں میں موجود ہوں اور جس کے افکار آج بھی علمی مباحث کا حصہ ہوں، اسے غیر متعلق قرار دینا دراصل اپنی علمی و فکری کم مائیگی کا اظہار ہے
اقبالؒ نے مسلمان کو محض ماضی کی عظمت پر فخر کرنے کے بجائے اپنے حال کو سنوارنے اور مستقبل کی تعمیر کا درس دیا۔ ان کا فلسفہ خودی انسان کو اپنی پہچان، صلاحیتوں اور مقام کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو شاہین کا استعارہ دے کر بلند پروازی، خودداری، آزادی اور مسلسل جدوجہد کا پیغام دیا۔
آج پاکستان جن معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل سے دوچار ہے، ان سے نکلنے کے لیے اقبالؒ کی فکر پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو معاشی طور پر خودمختار، علمی اعتبار سے مضبوط، انصاف کے اصولوں پر قائم اور عالمی سطح پر باوقار ہو
آج قومی سطح پر پیش کیا جانے والا ’’اُڑان پاکستان‘‘ کا وژن بھی اگر خودداری، علم، تحقیق، معاشی استحکام، قومی اتحاد اور عملی جدوجہد کے اصولوں پر استوار ہو تو اسے اقبالؒ کے تصورِ خودی اور قومی تعمیرِ نو کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم اقبالؒ سے حقیقی وابستگی محض ان کے نام کو کسی قومی منصوبے سے جوڑنے میں نہیں بلکہ ان کے افکار کو عملی زندگی میں اپنانے میں ہے۔ نئی نسل کو اقبالؒ کی شاعری رٹانے کے بجائے اس کا مفہوم سمجھایا جائے تاکہ وہ خودی، کردار، علم، عمل اور خودداری کی حقیقی اہمیت سے آگاہ ہو سکے
اقبالؒ نے ہمیں بتایا تھا کہ قوموں کی زندگی محض وسائل سے نہیں بلکہ کردار، یقین، علم اور مسلسل جدوجہد سے بنتی ہے۔ آج ہمیں اپنے قومی رویوں کا جائزہ لینے اور اپنی فکری سمت درست کرنے کی ضرورت ہے
ہمیں اپنے قومی ہیروز کی عزت کرنا، ان کے علمی و تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنا اور ان کی فکر کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا سیکھنا ہوگا، کیونکہ جو قوم اپنے محسنوں کو فراموش کر دیتی ہے، وہ اپنی تاریخ اور شناخت سے بھی دور ہوتی چلی جاتی ہے
اقبالؒ کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہے کہ ہم ان کے افکار کو سمجھیں، ان پر عمل کریں اور ایک خوددار، باوقار، علم دوست اور ترقی یافتہ پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کریں
اقبالؒ کی عظمت کا اعتراف صرف دنیا سے کروانا کافی نہیں، ہمیں خود بھی ان کے افکار کی قدر کرنا اور ان پر عمل کرنا چاہیے

کہیں ذکر رہتا ہے اقبالؔ تیرا
فسوں تھا کوئی،تیری گفتار کیا تھی!

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *