Banner
Daily Sahafat Quetta
October 20, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتوزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچکوئٹہ میں زور دار دھماکہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 زخمینئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستانبڑھاپے کا فلسفہ، وہ پانچ سادہ خوشیاں جنہیں ہم جوانی میں بھول جاتے ہیںمعیاری طبی سہولیات کی فراہمی ضروری، نجی اسپتالوں کو ریلیف دیا جائے، ڈاکٹر اعزاز علی شاہقومی ادبی اکیڈمیاں: خودمختاری، نمائندگی اور احتساب کا تقاضاعسکری طاقت ڈیڑھ گنا تک پہنچ گئی ہے، جنگ بڑھی تو سرپرائز دیں گے، ترجمان پاسداران انقلابزرعی مصنوعات اور معدنیات میں دلچسپی؛ پاک امریکا تجارتی معاہدے میں اہم پیشرفتوزیراعظم بلوچستان کے مسائل پر کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس بلائیں، لیاقت بلوچکوئٹہ میں زور دار دھماکہ، 2 پولیس اہلکار شہید، 3 زخمینئے اسکول بنانے کے بجائے موجودہ اسکول اپ گریڈ کیے جائیں، کمشنر ذیشان لاشاریمعذور افراد کے حقوق پر بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکم، تمام متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلبشہید میجر وجاہت وحید کی قربانی پر پوری قوم کو فخر ہے، گورنر بلوچستان

لورالائی کے علاقے سگھر میں خشک کاریز میں گر کر تین سالہ بچی جاں بحق

لورالائی: سگھر کے خشک کاریز میں گر کر تین سالہ معصوم بچی جاں بحق، انتظامیہ اور ایم پی اے سے فوری مرمت اور حفاظتی اقدامات کا مطالبہ، بصورت دیگر احتجاج کی دھمکی

لورالائی (میاں محمدعامربشیرآرائیں) لورالائی کے علاقے سگھر میں سردار ہاشم قلعہ سے شروع ہو کر مرحوم بابو رفیق کے علاقے تک پھیلا ہوا خشک کاریز مقامی آبادی، بچوں، طلبہ اور رہائشی خاندانوں کے لیے خطرے کا باعث بن گیا ہے۔ کاریز کے دونوں اطراف رہائشی مکانات قائم ہیں، جبکہ اس کے قریب اے بی ایف اسکول سمیت دیگر نجی تعلیمی ادارے بھی موجود ہیں، جہاں روزانہ بڑی تعداد میں بچے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے جاتے ہیں۔ اس خطرناک صورتِ حال کے باوجود کاریز کی مرمت اور حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث اہلِ علاقہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔اہلِ علاقہ کے مطابق اس خشک کاریز میں گرنے کے باعث ماضی میں بھی متعدد بچے زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایک روز قبل حمید اللہ نامی شہری کی تین سالہ معصوم بچی بھی اس کاریز میں گر کر جاں بحق ہوگئی۔ اس افسوس ناک واقعے نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے اور والدین میں اپنے بچوں کی سلامتی کے حوالے سے خوف و تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایک معصوم بچی کی المناک موت نے اس سنگین مسئلے کو ایک مرتبہ پھر اجاگر کر دیا ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے تو شاید اس طرح کے حادثات سے بچاؤ ممکن ہوتا۔اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ خشک کاریز کی خطرناک صورتِ حال کے بارے میں متعدد مرتبہ متعلقہ حکام اور حکومت کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اس مسئلے کو حلقے کے رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اتمانخیل کے نوٹس میں بھی لایا گیا، تاکہ کاریز کی مرمت اور حفاظتی اقدامات کے ذریعے بچوں، گھروں، اسکولوں اور علاقے کے مکینوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔ تاہم اہلِ علاقہ کے مطابق اب تک اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر عملی اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث خطرات بدستور موجود ہیں۔ اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع، رکن صوبائی اسمبلی حاجی محمد خان طور اتمانخیل، میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام سے پُرزور اپیل کی ہے کہ سگھر کے خشک کاریز کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور متعلقہ محکموں کے ذریعے اس کا ہنگامی بنیادوں پر معائنہ کرایا جائے۔ کاریز کی مرمت، خطرناک حصوں پر مضبوط حفاظتی دیواروں اور رکاوٹوں کی تعمیر، کھلے مقامات کو محفوظ بنانے اور بچوں کی آمدورفت کے لیے مناسب حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں رہنے والے خاندانوں کے بچے روزانہ گھروں سے اسکولوں کی طرف آتے جاتے ہیں۔ ایسے میں خشک کاریز کے اطراف مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونا والدین کے لیے مسلسل پریشانی کا باعث ہے۔ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو مستقبل میں مزید افسوس ناک حادثات رونما ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ متعلقہ حکام محض یقین دہانیوں تک محدود رہنے کے بجائے عملی اقدامات کریں اور اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔کیا معصوم بچوں کی جانوں کا تحفظ ہماری اجتماعی ذمہ داری نہیں؟اہلِ علاقہ نے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب پاکستانی ہیں، مسلمان ہیں اور ہمارے اپنے بھی بچے ہیں۔ ہمیں دوسروں کے بچوں کی زندگیوں کو بھی اتنی ہی اہمیت دینی چاہیے جتنی اپنے بچوں کی دیتے ہیں۔ ایک معصوم بچی کی جان کا ضیاع صرف اس کے خاندان کا دکھ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک بڑا سانحہ اور لمحۂ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے بنیادی مسائل حل کرنا اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔ کسی بھی علاقے میں ترقیاتی کاموں کا اصل مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہوتا ہے۔ اگر رہائشی علاقوں اور تعلیمی اداروں کے قریب موجود خطرناک مقامات کو محفوظ نہ بنایا جائے تو اس سے عام شہریوں، خصوصاً بچوں کی زندگیاں خطرے میں رہتی ہیں۔اہلِ علاقہ نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کو صرف ایک افسوس ناک حادثہ سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے بلکہ اس سے سبق حاصل کرتے ہوئے فوری اور مستقل بنیادوں پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، تاکہ آئندہ کسی دوسرے والدین کو اپنے بچے کی جدائی کا یہ ناقابلِ برداشت صدمہ نہ سہنا پڑے۔
متعلقہ حکام سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ علاقے کے مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خشک کاریز کے تمام خطرناک حصوں کی نشاندہی کرکے انہیں محفوظ بنایا جائے، ضروری مقامات پر حفاظتی دیواریں اور مضبوط رکاوٹیں تعمیر کی جائیں اور اسکولوں کے قریب بچوں کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مرمت کے کام کی نگرانی اور اس کی بروقت تکمیل کو بھی یقینی بنایا جائے، تاکہ مسئلہ وقتی طور پر نہیں بلکہ مستقل طور پر حل ہو سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس اہم عوامی مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی اور خشک کاریز کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو اہلِ علاقہ اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ عوام کا مقصد کسی کی مخالفت یا کسی ادارے کے خلاف محاذ آرائی نہیں، بلکہ اپنی جان و مال، اپنے بچوں اور اپنے تعلیمی اداروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اہلِ علاقہ نے ڈپٹی کمشنر لورالائی محمد حسیب شجاع، ایم پی اے حاجی محمد خان طور اتمانخیل اور تمام متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس معاملے کو اولین ترجیح دیں۔ ایک معصوم بچی کی المناک موت کے بعد مزید تاخیر مناسب نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر کاریز کی مرمت اور حفاظتی اقدامات شروع کیے جائیں، تاکہ سگھر کے رہائشیوں، اسکول جانے والے بچوں اور دیگر شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔اہلِ علاقہ کا دوٹوک مطالبہ ہے کہ خشک کاریز کو فوری طور پر محفوظ بنایا جائے، ذمہ دار ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور آئندہ کسی معصوم جان کے ضیاع کو روکنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *