Banner
Daily Sahafat Quetta
September 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز – 1965 کی فضائی جنگاٹک سیمنٹ فیکٹری حب کا مستحق غریب خاندان کیلئے گھر کی تعمیر کا آغازعوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، محمد علی جمالیبڑیچ اور نورزئی قبائل کے درمیان قتل کا تصفیہ، فریقین میں صلح ہوگئیملک شدید معاشی بحران، انتظامی ابتری اور داخلی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیکندھ کوٹ میں مبینہ سیاہ کاری کے الزام پر شوہر نے بیوی کو قتل کردیاجمعیت نظریاتی مظلوم ملت کی آواز اور اکابرین دیوبند کی امانت ہے،مولانا محمود الحسن قاسمیمیر غلام قادر بگٹی، ایک عہد، ایک جدوجہد، ایک زندہ روایتقومی وحدتوں کی تقسیم کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں، عبدالمالک بلوچعقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حافظ عبدالغنی شہزادشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز – 1965 کی فضائی جنگاٹک سیمنٹ فیکٹری حب کا مستحق غریب خاندان کیلئے گھر کی تعمیر کا آغازعوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، محمد علی جمالیبڑیچ اور نورزئی قبائل کے درمیان قتل کا تصفیہ، فریقین میں صلح ہوگئیملک شدید معاشی بحران، انتظامی ابتری اور داخلی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیکندھ کوٹ میں مبینہ سیاہ کاری کے الزام پر شوہر نے بیوی کو قتل کردیاجمعیت نظریاتی مظلوم ملت کی آواز اور اکابرین دیوبند کی امانت ہے،مولانا محمود الحسن قاسمیمیر غلام قادر بگٹی، ایک عہد، ایک جدوجہد، ایک زندہ روایتقومی وحدتوں کی تقسیم کی پالیسی کسی صورت قبول نہیں، عبدالمالک بلوچعقیدہ ختمِ نبوت کا تحفظ پوری امت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حافظ عبدالغنی شہزاد

میر غلام قادر بگٹی، ایک عہد، ایک جدوجہد، ایک زندہ روایت

چیف آف بگٹی میر غلام قادر بگٹی مرحوم کی دسویں برسی کے موقع پر خراجِ عقیدت
تحریر ، شیخ عبدالرزاق

کچھ شخصیات اپنے عہد سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی زندگی صرف ذاتی کامیابیوں کا سفر نہیں ہوتی بلکہ اپنے لوگوں کی تقدیر بدلنے کی ایک مسلسل جدوجہد بن جاتی ہے۔ میر غلام قادر بگٹی بھی ایسی ہی شخصیت تھے، جن کا نام ڈیرہ بگٹی کی سیاسی، سماجی اور قبائلی تاریخ میں محض ایک فرد کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکر، ایک کردار اور ایک عہد کی حیثیت سے محفوظ ہے۔1949ءمیں ضلع ڈیرہ بگٹی کی پسماندہ تحصیل پھیلاوغ کے سنگلاخ علاقے بیکڑ میں چیف آف بگٹی میر جان محمد مسوری بگٹی کے گھر آنکھ کھولنے والے میر غلام قادر بگٹی نے زندگی کے ابتدائی ایام ہی میں محرومی اور پسماندگی کو قریب سے دیکھا۔ بیکڑ میں نہ آمدورفت کے آسان ذرائع تھے، نہ تعلیمی سہولیات میسر تھیں اور نہ ہی ترقی کے وہ مواقع جنہیں آج ایک بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہی محروم ماحول ان کے عزم کو کمزور کرنے کے بجائے مزید مضبوط کرتا گیا۔ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش انہیں بیکڑ سے ڈیرہ بگٹی تک طویل اور دشوار سفر پر مجبور کرتی رہی۔ وہ سہولتوں کے انتظار میں نہیں بیٹھے بلکہ مشکلات کو عبور کرتے ہوئے علم کی تلاش میں آگے بڑھتے رہے۔ یہی عزم بعد میں ان کی پوری زندگی کا بنیادی حوالہ بن گیا۔ ان کے نزدیک ترقی کا راستہ تعلیم، شعور اور اپنے لوگوں کو آگے بڑھانے سے ہو کر گزرتا تھا۔ زندگی کے ابتدائی دور ہی میں انہوں نے فرسودہ سماجی رویوں اور محرومی کے خلاف آواز بلند کی۔ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔ اس راستے میں سیاسی مخالفت، تنہائی، قید و بند اور مختلف النوع دباو¿ ان کے حصے میں آئے۔ بہت سے رفقا مشکل وقت میں دور ہوئے، بعض اپنوں نے بھی راستے جدا کر لیے، لیکن میر غلام قادر بگٹی اپنے مو¿قف پر قائم رہے۔ قید کی صعوبتیں ہوں یا حالات کی سختیاں، سیاسی دباو¿ ہو یا مخالفت کے دشوار مرحلے، انہوں نے اپنے اصولوں کو پسِ پشت نہیں ڈالا۔ ان کی زندگی کا یہ پہلو اس شعر کی کیفیت کو مجسم کرتا محسوس ہوتا ہے:

“جو ہم پہ گزری، ہم ہی جانتے ہیں
دنیا تو لطف لے گی میرے واقعات سے”

میر غلام قادر بگٹی کی جدوجہد کا ایک اہم ترین پہلو یہ تھا کہ انہوں نے اپنے لوگوں کی محرومی کو صرف سیاسی موضوع نہیں بنایا بلکہ اسے عملی خدمت کا میدان سمجھا۔ انہوں نے ڈیرہ بگٹی اور اس کے دور افتادہ علاقوں کے سینکڑوں نوجوانوں کی تعلیم کے اخراجات ذاتی طور پر برداشت کیے۔ ایسے وقت میں جب اس خطے میں تعلیمی مواقع نہایت محدود تھے، انہوں نے نوجوانوں کے لیے علم کے دروازے کھولنے کی کوشش کی۔ اسی طرح روزگار کی فراہمی اور لوگوں کو معاشی طور پر اپنے پاو¿ں پر کھڑا کرنے کے لیے بھی انہوں نے عملی کردار ادا کیا۔ ان کے لیے کسی نوجوان کا تعلیم حاصل کرنا، کسی خاندان کے فرد کا باعزت روزگار حاصل کرنا اور کسی گھر میں خوشحالی آنا محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پوری قوم کی ترقی تھی۔ میر غلام قادر بگٹی کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو ان کی وجاہت، اثر و رسوخ اور مقبولیت کے ساتھ ان کی عاجزی اور انکساری تھی۔ عہدہ، مقام اور عزت انسان کو بڑا نہیں بناتے، بلکہ اپنے لوگوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا کسی شخصیت کو حقیقی معنوں میں بڑا بناتا ہے۔ میر صاحب کے کردار میں یہی وصف نمایاں تھا۔
6 ستمبر 2016ءکو ان کا انتقال ہوا۔ آج ایک دہائی گزرنے کے باوجود ان کی یاد کمزور نہیں ہوئی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی زندگی محض تقریروں اور دعوو¿ں تک محدود نہیں تھی؛ انہوں نے اپنے لوگوں کی زندگیوں میں عملی تبدیلی لانے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیرہ بگٹی کی سیاسی اور سماجی تاریخ کا ذکر میر غلام قادر بگٹی کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ ان کی دسویں برسی 6 ستمبر کو پاکستان ہاو¿س سوئی، بیکڑ، پیرکوہ، لوٹی اور دیگر علاقوں میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ پاکستان ہاو¿س سوئی میں ہر سال کی طرح اس موقع پر ایک بڑی تقریب منعقد ہوگی، جہاں ضلع بھر سے ان کے عقیدت مند، قبائلی معتبرین، نوجوان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد جمع ہو کر اپنے مرحوم رہنما کی خدمات کو یاد کریں گے۔ میر غلام قادر بگٹی کے سیاسی اور سماجی خواب کو ان کے خاندان اور دیرینہ رفقا نے بھی ایک ذمہ داری کے طور پر آگے بڑھایا ہے۔ آج ان کے تینوں صاحبزادے، میر سرفراز بگٹی، میر جان محمد بگٹی اور میر آفتاب بگٹی، اپنے اپنے دائرہ? کار میں قوم اور علاقے کے لوگوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ میر غلام قادر بگٹی کے خاندان اور میر سرفراز بگٹی کے ساتھ آج بھی وہ رشتے اور وابستگیاں قائم ہیں جو وقت کی آزمائشوں میں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔ ان کے بھتیجے حاجی خان محمد میر سرفراز بگٹی کے بازو بن کر چٹان کی طرح ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسی طرح ان کے دیرینہ دوست شاہ مراد مسوری اور وڈیرہ غلام نبی شمبانی، جنہیں میر سرفراز بگٹی نے دو مرتبہ ڈسٹرکٹ کونسل کا چی¿رمین منتخب کروایا، آج بھی وفاداری، رفاقت اور اعتماد کی اعلیٰ مثال بن کر ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ تعلقات محض سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ان رشتوں کی تسلسل کی علامت ہیں جو میر غلام قادر بگٹی کے دور سے قائم چلے آ رہے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی آج بلوچستان کی وزارتِ اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ ان کی قیادت میں ڈیرہ بگٹی کو ترقی کے مرکزی دھارے میں لانے، عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، بنیادی سہولیات بہتر بنانے اور بڑے ترقیاتی منصوبوں پر کام آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایک الگ ضلع کے قیام سے لے کر مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع اور ترقیاتی منصوبوں تک، علاقے میں تبدیلی کے کئی پہلو نمایاں ہوئے ہیں۔ دوسری جانب میر آفتاب بگٹی پاکستان ہاو¿س سوئی کے ذریعے عوامی رابطے اور داد رسی کی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ بلوچی معاشرت کی روایات میں جرگہ، مشاورت اور بروقت انصاف کو ہمیشہ اہم مقام حاصل رہا ہے۔ پاکستان ہاو¿س میں لوگوں کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے براہِ راست رسائی اسی روایت کی ایک عملی صورت ہے یہی میر غلام قادر بگٹی کی زندگی کا سب سے بڑا سبق بھی ہے کہ قیادت صرف اختیار کا نام نہیں، بلکہ ذمہ داری کا نام ہے۔ عوام کی خدمت، ان کے مسائل سننا، نوجوانوں کو تعلیم دینا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور لوگوں کے وقار کا تحفظ کرنا ہی وہ اقدار ہیں جو کسی سیاسی و سماجی کردار کو آنے والی نسلوں کے لیے قابلِ احترام بناتی ہیں۔ میر غلام قادر بگٹی کی برسی دراصل صرف ایک شخصیت کو یاد کرنے کا دن نہیں؛ یہ اس عزم کی تجدید کا موقع ہے کہ تعلیم، روزگار، انصاف، ترقی اور قومی وقار کے سفر کو جاری رکھا جائے۔ ان کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ پسماندگی کے خلاف کھڑا ہونا آسان نہیں، اصولوں پر قائم رہنا آسان نہیں اور مشکل حالات میں اپنے لوگوں کا ساتھ نبھانا بھی آسان نہیں، مگر تاریخ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے راستے سے نہیں ہٹتے۔ میر غلام قادر بگٹی آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی فکر، ان کی جدوجہد اور ان کے ہاتھوں پروان چڑھنے والی نسلیں ان کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ ان کا خواب آج بھی تعلیم یافتہ، باوقار، خوشحال اور ترقی یافتہ معاشرے کی صورت میں زندہ ہے۔ یہ برسی ایک اختتام نہیں بلکہ ایک تسلسل کی علامت ہے؛ ایک ایسے سفر کا تسلسل جس کی بنیاد خدمت پر ہے، جس کا راستہ تعلیم اور روزگار سے گزرتا ہے اور جس کی منزل امن، انصاف، ترقی اور قومی وقار ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *