Banner
Daily Sahafat Quetta
September 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تعیناتی سے متعلق متنازع مواد نشر کرنے پر صحافی بلال غوری گرفتارحماد اظہر کی گرفتاری سیاسی انتقام اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے، پاکستان تحریک انصافیوم دفاع؛ مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب، پاک فضائیہ کے کیڈٹس نے فرائض سنبھال لیےلاہور : پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر گرفتاروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی میر غلام دستگیر بادینی سے تعزیتفتنہ قادیانیت تاریخ اسلام میں سب سے بڑا ارتدادی فتنہ ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ہے،سیدال خان ناصرمستونگ میں زمینداروں کے باغات کی مبینہ کٹائی، تشویش کی لہرکوئٹہ ریلوے میں بڑا انکشاف، اسٹیشن ماسٹر سمیت 3 ملازمین گرفتارگنداواہ میں کوٹڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ ناکامنیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تعیناتی سے متعلق متنازع مواد نشر کرنے پر صحافی بلال غوری گرفتارحماد اظہر کی گرفتاری سیاسی انتقام اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے، پاکستان تحریک انصافیوم دفاع؛ مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب، پاک فضائیہ کے کیڈٹس نے فرائض سنبھال لیےلاہور : پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر گرفتاروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی میر غلام دستگیر بادینی سے تعزیتفتنہ قادیانیت تاریخ اسلام میں سب سے بڑا ارتدادی فتنہ ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ہے،سیدال خان ناصرمستونگ میں زمینداروں کے باغات کی مبینہ کٹائی، تشویش کی لہرکوئٹہ ریلوے میں بڑا انکشاف، اسٹیشن ماسٹر سمیت 3 ملازمین گرفتارگنداواہ میں کوٹڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ ناکام

گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سوراب تباہی کے دہانے پر، طلباء بنیادی سہولیات سے محروم

خستہ حال عمارت، کلاس رومز کی دیواروں میں دراڑیں، چھت کا پلستر گرنے لگا، ہیڈ ماسٹر کی آسامی بھی خالی

سوراب (رپورٹ: ابوبکر دانش میروانی بلوچ): گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سوراب، جو ضلع سوراب کا بنیادی اور مرکزی تعلیمی ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے علاقے کے طلباء کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا آ رہا ہے، اس وقت شدید انتظامی غفلت اور بنیادی سہولیات کے فقدان کا شکار ہے۔ اسکول کی خستہ حال عمارت اور نامکمل سہولیات نے طلباء، اساتذہ اور والدین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسکول کے متعدد کلاس رومز کی حالت انتہائی خراب ہوچکی ہے، کئی دیواروں میں نمایاں دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ بعض کمروں کی چھتوں سے پلستر بھی گر چکا ہے۔ عمارت کی موجودہ صورتحال کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے، جس کے باعث طلباء اور اساتذہ کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ تعلیمی سرگرمیوں کے دوران خستہ حال عمارت میں طلباء کا بیٹھنا ایک سنگین تشویش کا باعث بن گیا ہے۔
سب سے تشویشناک امر یہ ہے کہ ضلع سوراب کے اس بڑے اور مرکزی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم طلباء کو واش روم جیسی بنیادی اور ضروری سہولت بھی میسر نہیں۔ طلباء کو اس بنیادی ضرورت کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف تعلیمی ماحول بلکہ طلباء کی صحت اور حفظانِ صحت کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔
والدین اور شہریوں کا کہنا ہے کہ جس ادارے میں ضلع بھر سے طلباء تعلیم حاصل کرنے آتے ہیں، وہاں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی انتہائی افسوسناک ہے۔ حکومت کی جانب سے تعلیمی ترقی اور سہولیات کی فراہمی کے دعووں کے باوجود ایک مرکزی سرکاری اسکول کی ایسی صورتحال متعلقہ حکام کی توجہ کی متقاضی ہے
گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سوراب کی موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ وہی تعلیمی ادارہ ہے جس نے ماضی میں ضلع سوراب کو بلند پایہ افسران، اساتذہ، وکلاء، ڈاکٹرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات فراہم کیں، مگر آج خود ایک مستقل ہیڈ ماسٹر سے محروم ہے۔
ہیڈ ماسٹر کی عدم موجودگی کے باعث ادارے کے انتظامی معاملات اور تعلیمی نظم و نسق کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے اور اہم تعلیمی ادارے کو مستقل سربراہ کی فراہمی حکومت اور محکمہ تعلیم کی اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔
علاقہ مکینوں، طلباء کے والدین اور تعلیمی حلقوں نے صوبائی محکمہ تعلیم، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سوراب کی خستہ حال عمارت کا فوری طور پر تکنیکی معائنہ کرایا جائے، خطرناک کلاس رومز کی مرمت و بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور طلباء کو واش روم سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
شہریوں نے مزید مطالبہ کیا کہ اسکول میں مستقل ہیڈ ماسٹر تعینات کرکے انتظامی خلا کو ختم کیا جائے تاکہ ادارے کے تعلیمی و انتظامی امور بہتر انداز میں چلائے جاسکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر آج اس اہم تعلیمی ادارے کی حالت پر توجہ نہ دی گئی تو خدانخواستہ کل کسی بڑے حادثے کے بعد ذمہ داروں کی جانب سے افسوس اور تحقیقات کے بجائے بروقت عملی اقدام کی ضرورت ہے۔
عوامی حلقوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول سوراب کو فوری طور پر بنیادی سہولیات سے آراستہ کرکے اسے دوبارہ ایک مثالی تعلیمی ادارہ بنایا جائے، کیونکہ ایک تعلیمی ادارے کی مضبوط عمارت اور بہتر انتظام صرف طلباء ہی نہیں بلکہ پورے ضلع کے مستقبل کی ضمانت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *