Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ اور گردونواح میں بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، ماجد سلیمگنداخہ: مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم میں زمینداروں کا نہری پانی کی کمی اور بھل صفائی کے حوالے سے اہم اجلاسیومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، سردار بابا غلام رسول عمرانی27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سینیٹر ثناء جمالیمتوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میںفرعونیت، درندگی اور ایک معصوم کی دردناک موتحبا فواد کاکڑ کی چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکتTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026مسلم باغ اور گردونواح میں بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، ماجد سلیمگنداخہ: مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم میں زمینداروں کا نہری پانی کی کمی اور بھل صفائی کے حوالے سے اہم اجلاسیومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، سردار بابا غلام رسول عمرانی27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سینیٹر ثناء جمالیمتوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میںفرعونیت، درندگی اور ایک معصوم کی دردناک موتحبا فواد کاکڑ کی چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکتTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026

گورنمنٹ سائنس کالج کے پروفیسر 30 سال بعد مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے میں پکڑے گئے


گورنمنٹ سائنس کالج کے پروفیسر مجاہد عمر مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے میں تقریباً 30 سال بعد تحقیقات کی زد میں آگئے۔

ذرائع کے مطابق پروفیسر مجاہد عمر نے مبینہ طور پر جعلی مگر اعلیٰ نمبروں والی تعلیمی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہی اسناد کی بنیاد پر انہیں قائداعظم گولڈ میڈل اور نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ بھی ملتی رہی۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد متعلقہ اداروں نے پروفیسر مجاہد عمر کی ڈگریوں اور دیگر تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال شروع کردی ہے، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق تحقیقات میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مبینہ طور پر مشکوک اسناد کس ادارے سے جاری ہوئیں، ان کی بنیاد پر سرکاری ملازمت کیسے حاصل کی گئی اور بعد ازاں انہی اسناد پر اعزازات اور اسکالرشپ کیسے دی جاتی رہیں۔

تحقیقات میں یہ پہلو بھی زیرِ غور ہے کہ اگر ڈگریاں جعلی ثابت ہوتی ہیں تو وہ تقریباً 30 سال تک متعلقہ اداروں کی نظروں سے کیسے اوجھل رہیں؟

اسی طرح یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ قائداعظم گولڈ میڈل اور نیشنل ٹیلنٹ اسکالرشپ کے اجرا کے وقت تعلیمی اسناد کی تصدیق کا عمل کس طرح مکمل کیا گیا تھا۔

تاہم، پروفیسر مجاہد عمر کے خلاف لگائے گئے الزامات ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہیں۔ متعلقہ اداروں کی حتمی رپورٹ کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ الزامات درست ہیں یا نہیں اور اس معاملے میں ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *