Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
چمن میں مزدور کیمپ پر دستی بم حملہ، ایک مزدور جاں بحق، چار زخمیرکنی ٹول پلازہ پر کشیدگی، ڈرائیوروں نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کے سامنے 17 نکات پیش کر دیےپاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر آج منایا جا رہا ہےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاوٴنسز میں نظرثانی سے متعلق وزارت خزانہ کا اہم بیانرواں برس عید میلاد النبی ﷺ کب منائی جائے گی؟ ربیع الاول کے چاند سے متعلق محکمہ موسمیات کا اہم بیانحب میں یومِ استحصالِ کشمیر پر یکجہتی واک، شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکتپاکستانی عدالتی نظام میں اے آئی کا کردار ، ایک مکمل آرٹیکلسرمایہ کی منتقلی، تخریب کاری اور پاکستان کی معاشی تاریخ کا تاریک بابعالم کفر کے پوشیدہ عزائمچمن میں مزدور کیمپ پر دستی بم حملہ، ایک مزدور جاں بحق، چار زخمیرکنی ٹول پلازہ پر کشیدگی، ڈرائیوروں نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کے سامنے 17 نکات پیش کر دیےپاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر آج منایا جا رہا ہےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاوٴنسز میں نظرثانی سے متعلق وزارت خزانہ کا اہم بیانرواں برس عید میلاد النبی ﷺ کب منائی جائے گی؟ ربیع الاول کے چاند سے متعلق محکمہ موسمیات کا اہم بیانحب میں یومِ استحصالِ کشمیر پر یکجہتی واک، شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکتپاکستانی عدالتی نظام میں اے آئی کا کردار ، ایک مکمل آرٹیکلسرمایہ کی منتقلی، تخریب کاری اور پاکستان کی معاشی تاریخ کا تاریک بابعالم کفر کے پوشیدہ عزائم

عالم کفر کے پوشیدہ عزائم

قارئین کرام، عالمی منظر نامے پر آج جو کچھ بھی رونما ہو رہا ہے وہ محض اتفاقی حادثات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہرے فکری اور تہذیبی تصادم کی سوچی سمجھی گھناؤنی داستان ہے جس میں عالم کفر کے پردہ پوش عزائم اور خفیہ سازشیں انسانیت کو فکری غلامی اور اخلاقی پستی کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکیلنے کے لیے شبانہ روز سرگرم عمل ہیں اور اس جدید دور کے فرعون و ہامان اپنی ظاہری چمک دمک اور ترقی یافتہ ٹیکنالوجی کے پیچھے ایسے تاریک ہتھکنڈے چھپائے بیٹھے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف اسلامی اقدار کا خاتمہ اور روایتی خاندانی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنی دینی شناخت اور تہذیبی ورثے سے کلی طور پر محروم ہو جائیں اور مغربی استعمار کے ایجنڈے کو بغیر کسی مزاحمت کے قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اسلام ہی وہ واحد قلعہ ہے جو ان کے سرمایہ دارانہ نظام اور مادہ پرستانہ فلسفے کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے اس لیے اس مضبوط دیوار کو گرانے کے لیے کبھی فکری یلغار کا سہارا لیا جاتا ہے اور کبھی میڈیا کے زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے اذین کو مسخ کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے ہی دین اور روایات سے متنفر ہو کر مغرب کی اندھی تقلید کو اپنی ترقی اور روشن خیالی کی معراج سمجھ بیٹھیں اور یوں ایک خاموش اور خونریز جنگ لڑی جا رہی ہے جس میں ہتھیاروں کی بجائے نظریات اور ثقافتی اقدار کو بطور گولہ بارود استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قوموں کی سوچ کو غلام بنایا جا سکے اور ان کے قدرتی وسائل پر بلا شرکت غیرے قبضہ جمانے کی راہ ہموار کی جا سکے اور ان پوشیدہ عزائم کی تکمیل کے لیے بین الاقوامی اداروں اور فنڈنگ ایجنسیوں کا جال اس مہارت سے پھیلایا گیا ہے کہ بظاہر فلاحی امداد اور انسانی حقوق کے پرفریب نعروں کے پیچھے اخلاقی بگاڑ اور بے حیائی کے بیج بوئے جاتے ہیں تاکہ معاشرے کا اندرونی توازن بگڑ جائے اور کوئی بھی فرد یا طبقہ اجتماعی مزاحمت کرنے کے قابل نہ رہے بلکہ ہر کوئی اپنی ذاتی خواہشات اور نفسانی تسکین کے دائرے میں مقید ہو کر رہ جائے جس سے اجتماعی بیداری کا احساس دم توڑ دیتا ہے اور امت مسلمہ جو کہ اپنے اتحاد اور باہمی تعاون کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی تھی وہ اندرونی فرقہ واریت اور لسانی تعصبات میں الجھ کر رہ جاتی ہے اور یہی وہ بنیادی مقصد ہے جو دشمنان اسلام کامیابی کے ساتھ حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور وہ مختلف ملکوں میں خانہ جنگی اور انتشار کو ہوا دے کر مسلم ریاستوں کو معاشی اور عسکری طور پر مفلوج کرنے کے درپے ہیں تاکہ کوئی بھی ابھرتی ہوئی طاقت ان کے تسلط کو چیلنج نہ کر سکے اور ان کی اس تاریک حکمت عملی کا سب سے خطرناک رخ یہ ہے کہ وہ نوجوان طبقے کے ذہنوں میں شک اور لا دینیت کے ایسے زہر آلود بیج بو رہے ہیں جن سے عقل و شعور کی صلاحیتیں زنگ آلود ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے خالق و مال سے کٹ کر مادہ پرستی کا پجاری بن جاتا ہے جو کہ کسی بھی معاشرے کی تباہی کا سب سے پہلا زینہ ہوتا ہے اور اس تمام صورتحال میں ضروری ہے کہ بیدار مغز طبقات اور دین کے سچے متوالی اس گہرے فکری غار اور سازشوں کے جال کو نہ صرف خود سمجھیں بلکہ نئی نسل کو بھی اس سے ہوشیار رکھیں تاکہ ان پوشیدہ دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا جا سکے اور دنیا کو ایک پرامن اور عدل پر مبنی معاشرہ فراہم کرنے کی اصل اسلامی روح کو زندہ کیا جا سکے کیونکہ غفلت کی یہ طویل نیند اب مزید مہنگی پڑ سکتی ہے اور اگر وقت پر ہوش کے ناخن نہ لیے گئے تو یہ سازشیں ہمارے وجود کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے رکھ دیں گی اور تاریخ ہمیں اس مجرمانہ غفلت پر کبھی معاف نہیں کرے گی لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ باطل کے ان تمام مکر و فریب پر مبنی ہتھکنڈوں کا مقابلہ حکمت اور اتحادِ امت کے ساتھ کیا جائے تاکہ ایک بار پھر حق کا بول بالا ہو اور ظلم کے یہ کالے بادل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھٹ جائیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *