Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

بین الاقوامی مسائل اور دنیا: جنگ کی طرف یا ترقی کی جانب؟

ایک تجزیاتی کالم
تحریر: یاسر دانیال وزیر
اکیسویں صدی کو علم، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، عالمی روابط اور انسانی ترقی کی صدی قرار دیا گیا تھا، مگر آج دنیا جس سمت بڑھ رہی ہے، وہ اس خواب سے خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف انسان خلا کی وسعتوں کو تسخیر کر رہا ہے، مصنوعی ذہانت نئی معیشت کی بنیاد بن رہی ہے اور سائنسی ترقی انسانی زندگی کو آسان بنا رہی ہے، جبکہ دوسری طرف جنگیں، انسانی المیے، معاشی عدم استحکام، موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، توانائی کا بحران اور عالمی طاقتوں کی کشمکش پوری انسانیت کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے یا ایک نئے عالمی تصادم کی جانب؟

غزہ میں جاری انسانی المیہ اس وقت پوری دنیا کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ ہزاروں معصوم فلسطینی، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، اپنی جانوں سے محروم ہو چکے ہیں، لاکھوں افراد بے گھر ہیں، جبکہ بنیادی انسانی ضروریات تک رسائی بھی محدود ہو چکی ہے۔ دوسری جانب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہ تنازعات مزید پھیلتے ہیں تو اس کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی منڈی، خوراک کی قیمتوں اور عالمی معیشت کو بھی متاثر کریں گے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف ایک خطے کا تنازع نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اسلامی دنیا اس بحران میں کس حد تک متحد نظر آتی ہے؟ اگرچہ متعدد مسلم ممالک نے سفارتی بیانات، انسانی امداد اور سیاسی حمایت کا اظہار کیا ہے، لیکن مجموعی طور پر امتِ مسلمہ ایک مشترکہ اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ مختلف ممالک کے اپنے قومی مفادات، علاقائی ترجیحات اور عالمی سفارتی دباؤ اس اتحاد میں رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ یہی وہ خلا ہے جسے پُر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ اور پائیدار امن کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کیا جا سکے۔

آج کی دنیا میں طاقت کی تعریف بھی بدل چکی ہے۔ ماضی میں عسکری قوت کو سب کچھ سمجھا جاتا تھا، مگر اب معاشی طاقت، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تعلیم، تحقیق اور انسانی وسائل کسی بھی ملک کی اصل قوت سمجھے جاتے ہیں۔ جو قومیں علم اور اختراع میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، وہی عالمی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس مسلسل جنگیں نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کرتی ہیں بلکہ ترقی کی رفتار کو بھی سست کر دیتی ہیں۔
پاکستان بھی ان عالمی حالات سے الگ نہیں۔ عالمی کشیدگی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، تیل کی قیمتوں، مہنگائی، برآمدات، درآمدات اور سرمایہ کاری پر پڑتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار ہمیشہ ایسے ممالک کا انتخاب کرتے ہیں جہاں سیاسی استحکام، شفاف پالیسیاں، مضبوط عدالتی نظام، توانائی کی دستیابی اور امن و امان موجود ہو۔ جب کسی ملک میں غیر یقینی کیفیت بڑھتی ہے تو سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے، جس کا نتیجہ بے روزگاری اور معاشی سست روی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں نئی صنعتیں قائم ہوں، فیکٹریوں کا جال بچھے، مقامی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات کو فروغ دیا جائے اور نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جائیں۔ مضبوط صنعتی بنیاد ہی کسی بھی ملک کو معاشی خودمختاری کی طرف لے جاتی ہے۔ اگر صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور برآمدات میں مستقل ترقی ہو تو بیرونی قرضوں پر انحصار بھی بتدریج کم کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کے نوجوان اس ملک کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں جدید تعلیم، مصنوعی ذہانت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، فری لانسنگ، تحقیق اور کاروباری مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھ رہی ہیں جو انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔
اس وقت دنیا کا ایک اور بڑا بحران موسمیاتی تبدیلی ہے۔ گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، پانی کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں، خشک سالی، شدید گرمی، غیر معمولی بارشیں اور تباہ کن سیلاب معمول بنتے جا رہے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ عالمی کاربن اخراج میں اس کا حصہ نسبتاً کم ہے۔گلگت بلتستان کے برفانی ذخائر پورے پاکستان کے آبی نظام کی بنیاد ہیں۔ اگر ان گلیشیئرز کا تحفظ نہ کیا گیا تو مستقبل میں پانی کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان گلیشیئرز کے تحفظ، موسمیاتی تحقیق، قدرتی آفات کی نگرانی اور آبی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے ایک بااختیار گلیشیئر پروٹیکشن اتھارٹی یا قومی ادارہ قائم کرے، تاکہ سائنسی بنیادوں پر مؤثر منصوبہ بندی کی جا سکے۔
دنیا کو اس وقت ہتھیاروں کی دوڑ سے زیادہ امن، انصاف، تعلیم، تحقیق، ماحول کے تحفظ اور معاشی تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اپنے وسائل جنگی تیاریوں کے بجائے انسانی ترقی پر خرچ کریں تو غربت، بھوک، بے روزگاری اور ماحولیاتی بحران جیسے مسائل پر نمایاں حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔ دنیا کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ جنگ، نفرت، طاقت کی سیاست اور تباہی کی طرف جاتا ہے، جبکہ دوسرا راستہ امن، انصاف، علم، تحقیق، معاشی استحکام اور مشترکہ ترقی کی طرف۔ تاریخ ہمیشہ انہی قوموں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے انسانیت، انصاف اور ترقی کو اپنا شعار بنایا۔ اگر عالمی برادری، اسلامی ممالک اور پاکستان دانشمندانہ فیصلے کریں تو آنے والی نسلوں کو ایک زیادہ محفوظ، خوشحال اور پُرامن دنیا دی جا سکتی ہے۔ یہی وقت ہے کہ دنیا جنگ کے بجائے ترقی، تصادم کے بجائے مکالمے اور نفرت کے بجائے انسانیت کو اپنا راستہ بنائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *