Banner
Daily Sahafat Quetta
September 15, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سہیل خان آفریدی اور ملک عادل بازئی گرفتار، پولیس نے گاڑی روانہ کر دیہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانمستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اہم پیش رفت ہے، شاہد رندجمہوریت کی طاقت عوام کی مؤثر شرکت اور قانون کی بالادستی میں ہے، نوابزادہ زرین مگسیبلوچستان میں ملک دشمنوں کیلئے صرف تباہی ہے، مینا مجید بلوچاسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے سیڈ منی دینے کا اعلانسہیل خان آفریدی اور ملک عادل بازئی گرفتار، پولیس نے گاڑی روانہ کر دیہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانمستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اہم پیش رفت ہے، شاہد رندجمہوریت کی طاقت عوام کی مؤثر شرکت اور قانون کی بالادستی میں ہے، نوابزادہ زرین مگسیبلوچستان میں ملک دشمنوں کیلئے صرف تباہی ہے، مینا مجید بلوچاسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے سیڈ منی دینے کا اعلان

سندھ سے اغوا ہو کر لاپتہ معصوموں کو آزاد کرایا جائے

سندھ سے اغوا ہو کر لاپتہ معصوموں کو آزاد کرایا جائے
تحریر، گلشن سندھو
میں ایک ماں ہوں۔ لکھنے کے بجائے دل چاہتا ہے کہ سینہ پھاڑ کر رو دوں۔ ہر دن یہاں کالی رات سے بھی بدتر دن ہو رہا ہے۔ دل کہتا ہے کہ رات کا دیا جلانے کے بجائے دن کا دیا جلاؤں اور اس اندھے معاشرے کو بتاؤں کہ یہاں ظلم ہے۔ یہاں روشنی کی ضرورت ہے، یہاں علم اور احساس کی ضرورت ہے۔
ہر نیا دن ایک نیا درد، ایک نئی پکار، ایک نیا نوحہ لے کر آتا ہے۔ لیکن یہاں کے ذمہ دار ادارے گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔ انہیں جگانے کے لیے کوشیں کی جاتی ہیں، مگر بیداری کی کرن ان کی آنکھوں تک نہیں پہنچتی۔
بچی پریا کماری اور اجالا سولنگی سمیت بہت سارے بچے اور بچیاں لاپتہ ہیں لاپتہ ہیں اس کے لیے احتجاج ہوتے ہیں، لیکن سندھ حکومت اپنے عہدوں کے نشے میں اس درد سے بے خبر ہے۔
سوشل میڈیا پر لاڑکانہ کے ادیبوں نے سڑک پر چونے سے “پریا کو آزاد کرو” لکھا ہے اور لاؤڈ اسپیکر پر شہر میں فریاد کی ہے کہ پریا کماری کو آزاد کیا جائے۔
پریا اور اجالا پروین کی رہائی کے لیے سکھر ببرلو میں احتجاج کیا گیا ہے۔ کافی دنوں سے وہاں کئی متاثرہ خاندان آ گئے ہیں جن کے بچے سالوں سے لاپتہ ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کس ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہمارے بچے بھی محفوظ نہیں؟
کیا ہم ووٹ دے کر ظالم حکمرانوں کو طاقت دے رہے ہیں جو ہمارے بچوں کے لیے بھی کچھ کرنے سے صاف انکار کر رہے ہیں؟
اب ہمیں اپنے بچوں کی آزادی کے لیے بات کرنی ہوگی اور عملی قدم اٹھانا ہوگا، کیونکہ اس ظالم راجا کی حکومت میں کچھ بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔
صرف ایک پریا یا اجالا سولنگی نہیں، کئی بیٹیاں ظلم کا شکار ہوئی ہیں۔
سندھ کے باشعور ادیب کو اس ظلم کے خلاف مسلسل عمل کی صورت میں آواز اٹھانی چاہیے، کیونکہ جب تک ظلم کے خلاف نہیں لکھا جائے گا، قلم کا حق ادا نہیں ہو گا۔
ٹیکنالوجی عام ہے۔ اس کا استعمال ہونا چاہیے۔ چھپا ہوا راز بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔
میں ایک ماں ہوں۔ مجھے ان ماؤں سے عملی ہمدردی ہے جن کے معصوم بچے لاپتہ ہیں۔
جب رات کی خاموشی میں پیر پھیلاتے ہیں تو ماؤں کے چہرے آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں۔
جب کوئی ماں محلے میں کسی بچے کو لوری دیتی ہے تو پریا کی ماں کا جگر پھٹتا ہو گا۔
جب کسی معصوم بیٹی کے اغوا کی بات ہوتی ہے تو اجالا کی ماں رب کو پکار کر کہتی ہو گی: “یا اللہ رحم ۔۔فرما۔
سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے۔ سچل اور سامی کی دھرتی ہے۔ جھوک دھنی اور لطیف سرکار کی دھرتی ہے۔ یہ امن کی آیت ہے۔ اس دھرتی کے بچوں کو آزاد کیا جائے۔
پریا اور اجالا کہ ساتھ جو بھی معصوم بچے لاپتہ ہیں، اگر انہیں آزاد نہیں کرایا گیا تو سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے بے شمار سوالات پیدا ہوں گے۔ ان کی سیاسی پالیسی بے نقاب ہو جائے گی اور عالمی سطح پر بدنامی ہوگی کہ پاکستان وہ ملک ہے جہاں معصوم بچے بھی محفوظ نہیں۔
اب سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ یہاں ظلم کے خلاف لکھنے کی کوئی حد مقرر نہیں۔
سندھ میں پہلے ہی ہزاروں تکالیف موجود ہیں جن سے عام آدمی لڑ رہا ہے۔ اوپر سے معصوم بچوں پر ظلم و ستم ناقابل برداشت ہے۔
ظلم اور ظالم کی طاقت تب تک ہے جب تک مظلوم خاموش ہے۔
حضرت امام حسین علیہ السلام کا فرمان ہے: “اپنے حقوق کے لیے جتنی دیر سے اٹھو گے، اتنی بڑی قربانی دینی پڑے گی”۔
اٹھو، لکھو، پکارو، پوچھو: ہمارے بچے کہاں ہیں؟ کس نے ہم سے بچے چھینے ہیں؟ کون ہمارے بچوں کو چھڑاکر لائے گا؟
یہ سوال ہی بیداری کی کرن ہے۔ یہ سوال ہی سوئی ہوئی کے کان میں سسکی ہے، چیخ ہے۔
قرآن شریف میں رب پاک نے واضح فرمایا ہے کہ “میں اس قوم پر رحم نہیں کرتا جو خود اپنے آپ پر رحم نہیں کرتی”۔
اس ریاست کے سر پر “اسلامی جمہوریہ پاکستان” کا سہرا ہے۔ اب قرآن میں رب العالمین فرماتا ہے کہ رحم کا واضح راستہ ہے۔ خود پر رحم کرنا چاہیے۔ ریاست کو اپنی بقا کے لیے عوام کے دکھوں کو سمجھ کر عمل کرنا چاہیے۔
سندھی قوم نے صدیوں سے قربانی دے کر عزت کمائی ہے، لیکن اٹھارہ سال سے جب سے پی پی اقتدار میں آئی ہے، سندھ کے لوگوں نے ووٹ کی قربانی دی، ذلت پائی ہے۔
جب پیار اور گناہ کا پیالہ بھر جاتا ہے تو بہنے لگتا ہے۔ اور اس کا راستہ فطری ہوتا ہے۔ نفع نقصان نہیں سوچتا۔
موجودہ سندھ کے سینے میں ناسور درد دھڑک رہا ہے، جسے زبانی تسلی نہیں بلکہ عملی پھیر کی ضرورت ہے۔
معصوم بچوں کی آزادی چاہیے۔ معصوم زندگیوں کو فطرت کے راستوں پر جینے دیا جائے، جیسا کہ رب پاک نے فرمایا ہے: “میں نے بچے کو فطرت پر پیدا کیا ہے”۔
میں ایک ماں ہوں۔ مجھے ممتا ہے بیچین کر رہی ہے۔ پریا ہو یا اجالا، فاطمہ پھروڑو ہو یا کوئی اور معصوم بیٹی، کسی کو باندی نہ بنایا جائے۔
میں لکھ نہیں رہی، رو رہی ہوں۔ جس نے مجھے رونے اور لکھنے کا حق دیا ہے، وہی قلم ہے میرے سانسوں کا ہمسفر، ہمراز اور ہم خیال ہے۔
میری ممتا ماتم کرنے کے ساتھ بال بکھیرے سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دروازہ کھٹکھٹا کر کہتی ہے: سندھ سے اغوا ہو کر لاپتہ معصوموں کو آزاد کرایا جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *