Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان کے ضلع تربت میں لرزہ خیز وقوعہ 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدلاہور میں گھر کی چھت گر گئی ، 9 افراد جاں بحق ، 3 زخمیبی آر سی لورالائی کے طلبہ کا یونیورسٹی آف لورالائی کا تعلیمی دورہسعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالی سہارا، 3 ارب ڈالر قرض رول اووربی ایم ڈبلیو کا بڑا فیصلہ، جرمنی میں 8 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان کے ضلع تربت میں لرزہ خیز وقوعہ 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمدلاہور میں گھر کی چھت گر گئی ، 9 افراد جاں بحق ، 3 زخمیبی آر سی لورالائی کے طلبہ کا یونیورسٹی آف لورالائی کا تعلیمی دورہسعودی عرب کا پاکستان کے لیے بڑا مالی سہارا، 3 ارب ڈالر قرض رول اووربی ایم ڈبلیو کا بڑا فیصلہ، جرمنی میں 8 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا منصوبہکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیق

مولانا فضل الرحمان نے ایسی کونسی بات کی جس پر معافی کا مطالبہ کیا جائے؟ جے یو آئی

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان پر معافی کا مطالبہ بلاجواز ہے، معافی تو ان لوگوں کو مانگنی چاہیے جنہوں نے عوام کو لشکر بنانے کا مشورہ دیا۔

صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران، ایک سوال کے جواب میں کہ کیا محمود خان اچکزئی کے بعد مولانا فضل الرحمان کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے، کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ مولانا نے ایسی کون سی بات کی ہے جس پر معافی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے خیبرپختونخوا میں متوازی لشکر بنانے یا عوام کو خود مقابلے کے لیے تیار ہونے کا کہا ہے تو جوابدہی اس کی ہونی چاہیے، نہ کہ مولانا فضل الرحمان کی۔

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی خراب صورتحال اور گورننس کی ناکامی پر حکومت کو جواب دینا چاہیے۔ ان کے بقول اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو ایسے حالات کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے صرف یہ نشاندہی کی تھی کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں جہاں بعض حلقوں کی جانب سے لوگوں کو لشکر بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اگر ایسا کہا گیا ہے تو معافی ان لوگوں کو مانگنی چاہیے جنہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا، نہ کہ اس پر اعتراض اٹھانے والوں کو۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیان پر وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنے والے بیان پر تنقید کی تھی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *