Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

صحافت کی روشن پیشانی، حوصلے کی آواز اور قیادت کا معتبر استعارہ

ارشد انصاری
صحافت کی روشن پیشانی، حوصلے کی آواز اور قیادت کا معتبر استعارہ

منشا قاضی
حسبِ منشا

کچھ شخصیات اپنے عہد میں صرف عہدے نہیں سنبھالتیں بلکہ اداروں کی شناخت بن جاتی ہیں۔ ان کی شخصیت اپنے کردار، بصیرت اور عمل سے اس قدر نمایاں ہو جاتی ہے کہ لوگ ادارے کا نام لیں تو ساتھ ہی ان کا چہرہ بھی ذہن میں ابھر آئے۔ لاہور پریس کلب کے موجودہ صدر محمد ارشد انصاری انہی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے ایک متحرک صحافی، بے باک ترجمان اور مدبر منتظم کی حیثیت سے صحافتی برادری کے اعتماد کو مسلسل اپنے نام کیا ہے۔ اور کلب کا گھریلو ماحول پیدا کیا ۔ گھریلو تعلقات مفادات کے نہیں ہوتے اعتماد کے ہوتے ہیں ، ایک طویل عرصے سے میرے دوست سردار مراد علی خان مجھے جناب ارشد انصاری کی انکساری اور ان کی خدمات کی داستانیں سنا رہے تھے اور مجھے تحریک بھی دے رہے تھے , میں موصوف کے اوصاف حمیدہ اور ان کی خدمات کا اعتراف ایک کالم لکھ کر کروں ، مصروفیت کے آج چند لمحات ہاتھ لگے ہیں تو آپ کی شخصیت اور فن پر خامہ فرسائی کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔
لاہور پریس کلب، پاکستان کا سب سے بڑا، مؤثر اور باوقار صحافتی ادارہ ہے، جہاں قیادت کا منصب صرف انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ صحافت، آزادیٔ اظہار اور صحافیوں کے اجتماعی وقار کی حفاظت کا عہد بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ارشد انصاری کا مسلسل تیرہویں مرتبہ لاہور پریس کلب کا صدر منتخب ہونا ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔ سالانہ انتخابات میں 1,108 ووٹ حاصل کرکے کامیابی نے اس حقیقت پر مہر ثبت کر دی کہ صحافی برادری ان کی قیادت، دیانت اور خدمت پر بھرپور اعتماد رکھتی ہے۔
ارشد انصاری کی شخصیت کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض دفتر تک محدود رہنے والے منتظم نہیں بلکہ میدانِ صحافت کے وہ سپاہی ہیں جنہوں نے خبر کی حرمت، قلم کی آزادی اور صحافی کے وقار کو ہمیشہ اپنی ترجیح بنایا۔ انہوں نے صحافت کو پیشہ نہیں بلکہ ایک قومی امانت سمجھ کر نبھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے فیصلوں میں صحافیوں کے مسائل، ان کے حقوق اور ان کی عزتِ نفس ہمیشہ مقدم دکھائی دیتی ہے۔
ان کی قیادت کا ایک اہم پہلو آزادیٔ صحافت کے دفاع میں ان کا جرات مندانہ کردار ہے۔ جب NCCIA کی جانب سے بعض صحافیوں کو نوٹسز جاری کیئے گئے تو ارشد انصاری نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے دیگر صحافیوں کے ہمراہ لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ اس اقدام نے واضح کیا کہ وہ صحافیوں کے بنیادی حقوق اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کو محض تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ رویہ ہے جو ایک حقیقی قائد کی پہچان بنتا ہے۔
ارشد انصاری کی قیادت کا دوسرا روشن پہلو صحافیوں کی فلاح و بہبود ہے۔ ان کے وژن میں لاہور پریس کلب صرف ایک عمارت یا دفتر نہیں بلکہ ایک ایسا گھر ہے جہاں ہر صحافی کو تحفظ، عزت، سہولت اور ترقی کے مواقع میسر آئیں۔ کلب کی عمارت احساس ، اخلاص اور ذمہ داری کے ستونوں پر کھڑی ہے اور ارشد انصاری کے اپنے الفاظ اس وژن کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں:
“لاہور پریس کلب کا مقصد اپنے اراکین کو بہترین فلاحی سہولیات، تربیت کے مواقع اور پیشہ ورانہ ترقی فراہم کرنا ہے۔ صحافیوں کے حقوق کا تحفظ اور سنسرشپ کی ہر شکل کے خلاف مزاحمت ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔”
یہ محض ایک بیان نہیں بلکہ ان کی عملی قیادت کا منشور ہے، جس کی جھلک فلاحی منصوبوں، تربیتی پروگراموں، نوجوان صحافیوں کی رہنمائی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں واضح طور پر نظر آتی ہے۔
جدید دنیا میں صحافت قومی سرحدوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی روابط، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ تربیت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ارشد انصاری نے اس حقیقت کو بروقت محسوس کیا اور ان کی قیادت میں لاہور پریس کلب اور پاکستان پریس کلب ملائیشیا چیپٹر کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MoU) طے پائی۔ اس پیش رفت نے پاکستانی صحافیوں کے لیئے عالمی سطح پر تربیت، پیشہ ورانہ تبادلوں اور بین الاقوامی تعاون کے نئے امکانات روشن کیئے۔ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ وہ لاہور پریس کلب کو صرف قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی صحافتی برادری سے جوڑنے کا وژن رکھتے ہیں۔
ان کی خدمات کو حکومتی سطح پر بھی پذیرائی حاصل ہوئی۔
ارشد انصاری کی شخصیت کا ایک اہم وصف ان کی سادگی، شائستگی اور ہر سطح کے صحافی سے یکساں تعلق ہے۔ وہ نوجوان رپورٹر کی بات بھی اسی توجہ سے سنتے ہیں جس طرح سینئر صحافی کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔ ان کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، ان کی گفتگو میں تحمل ہوتا ہے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کا حوصلہ ان کی شخصیت کو مزید معتبر بنا دیتا ہے۔
وہ خود کہتے ہیں کہ:
“لاہور پریس کلب دہائیوں سے صحافتی دیانت داری کا مینار اور پریس فریڈم کا محافظ رہا ہے۔ ہماری ذمہ داری صرف وسائل فراہم کرنا نہیں بلکہ صحافیوں کے حقوق کا ہر سطح پر دفاع کرنا بھی ہے۔”
یہ الفاظ ان کے کردار کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے قیادت کو اقتدار نہیں بلکہ خدمت، نمائندگی اور ذمہ داری کا نام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کی شناخت تین بنیادی حوالوں سے قائم ہو چکی ہے: آزادیٔ صحافت کا بے خوف دفاع، صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لیئے مسلسل جدوجہد، اور لاہور پریس کلب کو عالمی سطح پر ایک مؤثر اور فعال ادارہ بنانے کا وژن۔
ارشد انصاری کا سفر ایک عام صحافی سے شروع ہو کر ایک ادارہ ساز رہنما تک پہنچا ہے۔ یہ سفر اس بات کی روشن مثال ہے کہ اصول، محنت، دیانت اور اجتماعی خدمت انسان کو صرف کامیاب نہیں بلکہ قابلِ اعتماد بھی بنا دیتی ہے۔ تیرہ مرتبہ صدر منتخب ہونا کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ، بلکہ برسوں کی انتھک محنت، صحافتی برادری سے مضبوط تعلق اور بے لوث خدمت کا اعتراف ہے۔
آج جب صحافت مختلف آزمائشوں، معاشی مشکلات، ڈیجیٹل تبدیلیوں اور اظہارِ رائے کے نئے چیلنجز سے گزر رہی ہے، ایسے وقت میں ارشد انصاری جیسے قائد صحافیوں کے لیئے امید، استقامت اور اعتماد کی علامت ہیں۔ ان کی قیادت یہ پیغام دیتی ہے کہ مضبوط ادارے مضبوط افراد سے نہیں بلکہ مضبوط اصولوں سے وجود میں آتے ہیں، اور وہ اصول سچائی، آزادی، انصاف اور اجتماعی خدمت ہیں۔
بلاشبہ ارشد انصاری کا نام لاہور پریس کلب کی تاریخ میں ایک ایسے قائد کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے صرف ایک ادارے کی سربراہی نہیں کی بلکہ صحافت کی عزت، صحافیوں کے وقار اور آزادیٔ اظہار کے چراغ کو روشن رکھنے میں اپنی توانائیاں صرف کیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید قیمتی اور تابناک ہوتا جاتا ہے۔ میں مکرر ممنون ہوں سردار مراد علی خان کا جنہوں نے ارشد انصاری کے اوصافِ حمیدہ جس طرح بتائے ، گذشتہ روز عجوبہ ء روزگار معالج رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے ہمراہ لاھور پریس کلب میں آم پارٹی میں ارشد انصاری صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا تو جس طرح سردار مراد علی خان سے سنا تھا ویسا ہی پایا ۔ عنقریب لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری اور رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز مفاہمتی یادداشت پر دستخط کریں گے اور صحافیوں کے لیئے گردوں کی صفائی کے گیارہ مرکز لاہور ، سیالکوٹ ، اسلام آباد ، کامونکی ، ڈسکہ ، فیصل آباد ، ملتان ، کراچی ، جہلم اور سرائے عالمگیر میں لاھور پریس کلب کے کسی بھی ممبر کو ڈائیلسز کی سہولت مفت فراہم کی جائے گی اور یہ شاندار کامیابی بھی ارشد انصاری کے قرطاس اعزاز پر ثبت ہو گی ۔ ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے ارشد انصاری کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ ء حسنِ کارکردگی ہلال امتیاز ملنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔ سینئر نائب صدر سلمان قریشی ، نائب صدر ناصر ایچ عتیق ، سیکرٹری جنرل افضل طالب ، جوائنٹ سیکرٹری عمران شیخ اور فنانس سیکرٹری سالک نواز احساس ، اخلاص ، ذمہ داری اور دوستی کے وہ ستون ہیں جنہوں نے کلب کو گھریلو ماحول دیا ہے اور آپ جانتے ہیں گھریلو تعلقات مفادات کے نہیں اعتماد کے ہوتے ہیں ۔ آم پارٹی میں ہمدمِ دیرینہ اعجاز بٹ کا ملنا مسیحا و خضر سے بہتر اور اعجاز شیخ کا ملنا اقبال کا سبق یاد دلاتا ھے ۔ ڈاکٹر طلعت صدیقی کے لیئے سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور مل گئی تھی ۔ ارشد انصاری کو یہ مقام طشتری میں رکھ کر گفٹ نہیں کیا گیا اس کے عقب میں برسوں کی ریاضت اور مہارت کار فرما ہے ۔

شفق لہو میں نہائی سحر اداس ہوئی

کلی نے جان گنوا دی شگفتگی کے لیئے

ارشد انصاری کے رفقائے کار بھی اپنے ہنر میں راہ چلتے چلتے ہنر مند نہیں ہوئے بلکہ

اس قدر گوندھنا پڑتی ہے لہو سے مٹی

ہاتھ گھل جاتے ہیں تب کوزہ گری آتی ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *