Banner
Daily Sahafat Quetta
September 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغواخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات، سیکیورٹی صورتحال پر سوالاتڈاکٹر گوہر خان نوشیروانی کے انتقال پر سردار منظور کاکڑ کا اظہار افسوس اور فاتحہ خوانیچاغی کی مریم بی بی نے MDCAT میں بلوچستان بھر میں اعزاز حاصل کرلیاکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1553/25-9-2026جماعتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے رابطے اور نظم و ضبط مضبوط بنایا جائے، مفتی سمیع الحقمستونگ روڈ حادثے میں محمد ابراہیم کرد عرف بابو جاں بحق محمد ابراہیم کرد کی فاتحہ خوانی سردار عزیر احمد لہڑی اسٹریٹ میں جاریدکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغواخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات، سیکیورٹی صورتحال پر سوالاتڈاکٹر گوہر خان نوشیروانی کے انتقال پر سردار منظور کاکڑ کا اظہار افسوس اور فاتحہ خوانیچاغی کی مریم بی بی نے MDCAT میں بلوچستان بھر میں اعزاز حاصل کرلیاکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1553/25-9-2026جماعتی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے رابطے اور نظم و ضبط مضبوط بنایا جائے، مفتی سمیع الحقمستونگ روڈ حادثے میں محمد ابراہیم کرد عرف بابو جاں بحق محمد ابراہیم کرد کی فاتحہ خوانی سردار عزیر احمد لہڑی اسٹریٹ میں جاری

ہنہ وڑک اور دہشتگردی

ہنہ وڑک اور دہشتگردی
تحریر: انور شاہین

ببری ہنہ وڑک کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جو کوئٹہ کینٹ کے علاقے سے تقریباً 23 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ گاؤں صرف 19 گھروں پر مشتمل ہے، لیکن اپنی تاریخ، بہادری اور پشتون روایتی اقدار کی وجہ سے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ اس گاؤں کی جغرافیائی حیثیت، لوگوں کا سماجی ڈھانچہ اور اپنے وطن کے دفاع کی روایت وہ خصوصیات ہیں جنہوں نے ببری کو ایک چھوٹی آبادی سے بڑھا کر ایک بڑی داستان بنا دیا ہے۔
ببری کے آس پاس “ناترزی” کے نام سے ایک پہاڑ واقع ہے۔ جہاں مختلف ادوار میں علاقے کے قبائل مشترکہ خطرے کے مقابلے میں اکٹھے ہوتے اور مزاحمت کا مرکز قائم کرتے تھے۔ سارنگزی، شموزئی، یاسینزی اور بازی وہ قبائل ہیں جن کا تعلق اس علاقے کی تاریخی روایات سے بتایا جاتا ہے۔ اسی تاریخی پس منظر نے یہاں کے لوگوں میں اپنے گاؤں، اپنی عزت اور اپنے وطن کے دفاع کا جذبہ مضبوط رکھا ہے۔علاقے کے لوگوں کے مطابق، تقریباً ایک ماہ قبل چار مسلح افراد دو موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ببری گاؤں آئے۔ انہوں نے گاؤں کی مسجد کے قریب لوگوں سے پوچھ گچھ کی اور پانی مانگا، لیکن گاؤں کے لوگوں نے گاؤں سے واپس جانے پر مجبور کیا۔ اس واقعے کے بعد گاؤں کے لوگوں نے مسلسل جرگے اور مشاورتی اجلاس شروع کیے تاکہ اپنے امن اور اتحاد کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔ اسی دوران مقامی لوگوں کے مطابق، چرواہوں اور دیگر ذرائع کے ذریعے مسلح افراد کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوتی رہیں کہ وہ گاؤں کے عمائدین اور اہم افراد کو نہیں چھوڑیں گے۔ایک ہفتے بعد تقریباً پچاس مسلح افراد علاقے میں آئے۔ لوگوں کے مطابق، ان کا مقصد گاؤں کے دو اہم افراد کو اپنے ساتھ لے جانا تھا۔ لیکن گاؤں کے لوگوں نے ہتھیار اٹھائے اور ان کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی، تاہم اس دن کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ بعد ازاں مسلح افراد وہاں سے واپس چلے گئے۔ اس واقعے کے بعد، مقامی لوگوں کے مطابق، مسلح افراد نے ببری گاؤں کے اطراف میں آگئے۔ شام تقریباً چار بجے انہوں نے گاؤں پر اچانک حملہ کیا اور عام شہریوں پر فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں چار افراد شہید ہوئے، جبکہ ایک شدید زخمی شخص تین دن بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ حملے کے دوران گاؤں کی خواتین بھی اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے پشتون روایتی اقدار کے مطابق اپنے دوپٹے اور چادریں مسلح افراد کے سامنے رکھیں اور مطالبہ کیا کہ مزید ان کے نوجوانوں کو قتل نہ کیا جائے۔ مقامی لوگوں کے مطابق، جب خواتین کی یہ کوشش ناکام ہوئی تو بعض خواتین نے مسلح افراد پر پتھر بھی پھینکے۔ یہ منظر اس درد اور مزاحمت کی عکاسی کرتا ہے جو بدامنی کے ماحول میں اپنی زندگی اور عزت کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس جنگ کے دوران مسلح افراد اس گاوں کے گیارہ لوگوں کو اپنے ساتھ لے گئے جو آج تک لاپتہ ہے۔ تمام واقعات کے دوران، اگرچہ ببری کوئٹہ کینٹ سے صرف 23 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، لیکن مقامی لوگوں کے مطابق سرکاری سکیورٹی اور انتظامی ادارے بروقت مدد کے لیے علاقے میں نہیں پہنچے۔ اسی وجہ سے گاؤں کے لوگوں نے اپنے امن اور دفاع کی ذمہ داری خود اپنے کندھوں پر محسوس کی۔ایسے واقعات کے سیاسی تجزیے کے لیے بعض مفکرین ریاست، طاقت اور اقتدار کے تحفظ کے بارے میں مختلف نظریات پیش کرتے ہیں۔نوآبادیاتی طاقتیں صرف فوج اور پولیس کے ذریعے اپنا اقتدار قائم نہیں رکھتیں، بلکہ بعض اوقات مقامی گروہوں، قبائلی اختلافات کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کے مطابق “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی اس لیے اختیار کی جاتی ہے تاکہ عوام کمزور رہیں اور حکمران طاقت کا کنٹرول برقرار رہے۔ ان کا نظریہ یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ طاقتور نظام بعض اوقات علاقائی اختلافات، سیاسی تنازعات اور سکیورٹی بحرانوں کو اپنے طریقے سے منظم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنوبی پشتونخوا میں بدامنی کے حوالے سے ریاستی اداروں کی جانب سے مختلف وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔ اگر سرکاری مؤقف یہ ہے کہ اس علاقے کی بدامنی کے پیچھے افغانستان کی سابقہ جمہوری حکومت کے باقی ماندہ مسلح عناصر کا ہاتھ ہے، تو اس حوالے سے کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کوئی سیاسی اور فوجی نظام اپنے ملک میں ختم ہو چکا ہو اور اس کا سرکاری ڈھانچہ موجود نہ رہا ہو، تو وہ دوسرے ملک میں اتنی منظم اور مسلسل سرگرمیاں کیسے جاری رکھ سکتا ہے؟ اس دعوے کے حق میں کون سے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں؟ اسی طرح اگر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان گروہوں کو بھارت کی حمایت حاصل ہے تو سوال یہ ہے کہ اس حمایت کا عملی راستہ کیا ہے؟ بھارت پاکستان کے ساتھ جغرافیائی طور پر پنجاب کے راستے قریب ہے، تو اگر مقصد صرف پاکستان کے اندر بدامنی پیدا کرنا ہے تو سرگرمیوں کا مرکز دوسرے راستوں سے کیوں جوڑا جاتا ہے؟ اور اگر یہ مدد افغانستان کے ذریعے ہوتی ہے تو پھر جب افغانستان کے موجودہ سیاسی حکومتی نظام قائم ہوا تو پاکستان میں سیاسی اور سکیورٹی حلقوں نے اس تبدیلی کو اپنے مفادات کے زاویے سے مثبت قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنوبی پشتونخوا کی بدامنی کے پیچھے صرف سکیورٹی عوامل نہیں بلکہ اس علاقے کی جغرافیائی اور معاشی اہمیت بھی ایک کردار رکھتی ہے۔ یہ خطہ وسیع زمین، کم آبادی، قدرتی حسن اور معدنی وسائل کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اسی لئے اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول کا مسئلہ طویل مدتی سیاسی اور معاشی مفادات سے جڑا ہوتا ہے۔زیارت، ہنہ، منگلہ، ہرنائی اور شعبان وہ باہم جڑے ہوئے علاقے ہیں جو تقریباً 280 کلومیٹر کے جغرافیائی دائرے پر مشتمل ہیں اور قدرتی حسن، پہاڑوں، جنگلات اور ممکنہ وسائل کی وجہ سے اہمیت رکھتے ہیں۔ اس تجزیے کے مطابق، جو بھی ان علاقوں پر مؤثر کنٹرول رکھتا ہے، وہ ان کے معاشی اور اسٹریٹجک فوائد سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
بعض مزاحمتی اور تنقیدی لکھاریوں کا استدلال ہے کہ ایسے علاقوں میں مسلسل بدامنی کبھی کبھار اس صورتحال کو جنم دیتی ہے جس میں مقامی لوگ کمزور ہو جاتے ہیں، ریاستی سکیورٹی کی موجودگی بڑھ جاتی ہے، اور علاقے کے وسائل کے استعمال اور انتظام کا طریقہ تبدیل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں توانائی، پانی اور دیگر قدرتی وسائل پر بڑھتی ہوئی مسابقت کے باعث اسٹریٹجک علاقے مستقبل کی سیاسی تبدیلیوں میں مزید اہمیت حاصل کر سکتے ہیں۔ہنہ وڑک کی کہانی صرف ایک مسلح واقعے کی کہانی نہیں، بلکہ یہ زندگی، امن و امان کی کمزوریوں، سیاسی بیانیوں کے ٹکراؤ، اور اس سوال کی کہانی بھی ہے کہ اسٹریٹجک علاقوں میں عوام، ریاست اور طاقت کے درمیان تعلقات کو کس طرح متعین کیا جاتا ہے۔ہنہ وڑک شہداء کے لواحقین پیچھلے چار پانچ دن سے دھرنے پر بیٹھے ہے۔ اور ابھی تک کوئی زمہ دار بااختیار مذاکراتی لوگ نہیں آئے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *