Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
TENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانیجمہوریت عوامی شمولیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیعوامی شکایات کے حل میں تاخیر قبول نہیں، کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانیجمہوریت عوامی شمولیت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مضبوط ہوتی ہے، سردارزادہ فیصل خان جمالیعوامی شکایات کے حل میں تاخیر قبول نہیں، کمشنر لورالائی ڈویژن ولی محمد بڑیچ

حکومت بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہو چکی ہے، مولانا عبدالرحمن رفیق

کوئٹہ()جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، ضلعی سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس، حاجی بشیراحمد کاکڑ، مولانا محیب اللہ، مولانا محمد ایوب، مولانا سعید احمد، سید حاجی عبدالواحد آغا، حاجی رحمت اللہ، حافظ مسعوداحمد، حاجی قاسم خان خلجی، حاجی محمد شاہ لالا، عبدالصمد حقیار، مفتی روزی خان بادیزئی، مولانا علی جان، مولوی جمال الدین حقانی، مولانا نقیب اللہ، مفتی رضا خان، مفتی محمد عارف شمشیر، حاجی ظفراللہ کاکڑ، حاجی عطا محمد شموزئی سمیت جمعیت علماء اسلام کے دیگر رہنماؤں، کارکنوں اور ماتحت یونٹوں کے ذمہ داران نے سانحہ ہنہ اوڑک کے شہداء کے لواحقین کی جانب سے جاری دھرنے میں شرکت کرکے متاثرہ خاندانوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اس موقع پر رہنماؤں نے کہا کہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال روز بروز ابتر ہوتی جارہی ہے حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ میں بری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں لوگ اپنے تحفظ کے مطالبے کےلیے سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور ہیں مگر بے حس حکمران اس سنگین صورتحال کا ادراک کرنے کے بجائے محض خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔انہوں نے ایک اور بیان میں ضلع زیارت کے علاقے کچھ مانگی میں مسلح افراد کے حملے کے نتیجے میں 9 لیویز و پولیس اہلکاروں کی شہادت اور تقریباً 20 اہلکاروں کے اغواء پر دلی رنج و غم اور شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعے کو انتہائی سفاکانہ وحشیانہ اور قابلِ مذمت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ضلع زیارت میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی شہادت اور اغواء نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعہ ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بلوچستان میں قتل و غارت گری روزمرہ کا معمول بنتی جا رہی ہے۔ آئے روز پیش آنے والے ایسے المناک واقعات پوری قوم کو سوگوار کر رہے ہیں اور ہر درد مند دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہے انہوں نے کہا کہ حکومتی رٹ عملاً ریڈ زون تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ صوبے کے بیشتر علاقے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ موجودہ حکومت بلوچستان میں امن و امان قائم کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ امن و امان کی صورتحال حکومتی کنٹرول سے باہر دکھائی دے رہی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *