Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

ایک عہد کا اختتام اور تاریخ کا سب سے بڑا لمحہ۔۔۔

ایم زیڈ کنول۔ لاہور

ایران کی جدید تاریخ اپنےاندرکئی انقلابات، نشیب و فراز اور سنگ میل سمیٹے ہوئے ہے، لیکن بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک صفحہ نہیں پلٹتے، بلکہ پورے عہد کا رخ بدل دیتے ہیں۔ آج ایران ایک ایسے ہی تاریخی، غیر معمولی اور اعصاب شکن موڑ پر کھڑا ہے۔ تہران کی سڑکوں سے لے کر قم کے حوزات تک، اور مشہد کے گنبدوں سے لے کر اصفہان کے چوکوں تک—کروڑوں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کو آخری الوداع کہنے کے لیے صف آرا ہے۔ یہ محض ایک جنازہ نہیں، بلکہ ایرانی تاریخ کا وہ سب سے بڑا اور سنگین لمحہ ہے جہاں ماضی کی یادیں، حال کا سوگ اور مستقبل کے اندیشے ایک جگہ آ کر ٹھہر گئے ہیں۔
​کسی بھی قوم کے لیے اپنے اس رہنما کو رخصت کرنا جس نے ساڑھے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ملک کی تقدیر کا فیصلہ کیا ہو، ایک جذباتی اور نفسیاتی زلزلہ ہوتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنائی محض ایک سیاسی شخصیت نہیں تھے، بلکہ وہ اس نظریاتی اور علامتی ڈھانچے کا محور تھے جسے ولایتِ فقیہ کہا جاتا ہے۔ آج جو کروڑوں افراد سڑکوں پر موجود ہیں، ان کا یہ ہجوم صرف سیاسی وفاداری کا مظہر نہیں، بلکہ یہ اس گہرے وجودی ربط کا عکاس ہے جو ایک روایتی اور مزاحمتی معاشرے کو اپنے رہبر سے ہوتا ہے۔ نوحہ خوانی کی آوازیں، سیاہ پرچموں کی لہریں اور فضا میں گونجتی ہوئی سسکیاں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ایران کا یہ لمحہ صدی کا سب سے بڑا سماجی اجتماع بن چکا ہے۔ یہ رخصتی امام خمینی کے تاریخی جنازے کی یاد تازہ کر رہی ہے، جہاں تاریخ نے خود کو ایک بار پھر اسی شکوہ اور ملال کے ساتھ دہرایا ہے۔
​آیت اللہ علی خامنائی کا عہدِ قیادت عالمی سیاست میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان شدید ترین فکری اور تزویراتی تصادم کا دور رہا ہے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں ایران کی کمان سنبھالی جب خطہ جنگوں، پابندیوں اور اندرونی و بیرونی دباؤ کے حصار میں تھا۔ ان کی قیادت کا بنیادی مرکز “مزاحمت کی سیاست” تھا۔ مغربی دنیا کے شدید ترین معاشی بائیکاٹ، سفارتی تنہائی کی کوششوں اور مشرقِ وسطیٰ کے بارود زار میں انہوں نے ایران کے دفاعی اور نظریاتی وجود کو نہ صرف برقرار رکھا، بلکہ خطے میں ایک وسیع اثر و رسوخ قائم کیا۔ آج ان کی رخصتی کے اس لمحے پر عالمی دارالحکومتوں کی نظریں بھی تہران پر ٹکی ہوئی ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ اس الوداع کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر طاقت کا توازن کس رخ پر جائے گا۔ یہ لمحہ جہاں ایران کے اندر ایک خلا پیدا کر رہا ہے، وہاں عالمی سطح پر ایک نئے تزویراتی منظرنامے کا نقطہ آغاز بھی ہے۔
​روایتی نوحوں اور عقیدت کے اس ہجوم کے پیچھے ایک خاموش اور گہرا سوال بھی گردش کر رہا ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ ایران اس وقت تاریخ کے اس موڑ پر ہے جہاں اسے متعدد محاذوں پر سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف معاشی دباؤ ، نئی نسل کی بدلتی ہوئی فکری جہات اور سماجی مطالبات کا سامنا ہے، تو دوسری طرف قیادت کی منتقلی کا یہ مرحلہ ایرانی مقتدرہ اور نظام کے استحکام کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہوگا۔ مزید برآں، علاقائی تنازعات اور عالمی طاقتوں کے ساتھ معلّق تعلقات کو کس طرح آگے بڑھایا جائے گا، یہ بھی ایک بڑا سوال ہے۔ یہ الوداعی لمحہ جتنا ماضی کے ایک طویل باب کے بند ہونے کا اعلان ہے، اتنا ہی مستقبل کے ایک نئے، غیر یقینی اور کٹھن سفر کا آغاز بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بحرانوں کے بطن سے ہی نئی قیادتیں جنم لیتی ہیں، اور ایران کا یہ نظام اب تک اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے سخت امتحانات سے گزر چکا ہے۔
​جب کروڑوں سوگواروں کے یہ قدم اپنے رہبر کو رخصت کر کے واپس لوٹیں گے، تو تہران کی فضاؤں میں صرف مٹی کی خوشبو اور بارود کے دھوئیں کے سائے نہیں ہوں گے، بلکہ ایک نئی تاریخ لکھی جا رہی ہوگی۔ آیت اللہ علی خامنائی کی رخصتی ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا لمحہ اس لیے ہے کیونکہ یہ ایک فرد کی رخصتی نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کا غروب ہونا ہے۔ یہ الوداعی اجتماع دنیا کو یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ایرانی قوم اپنے نظریاتی تشخص کے ساتھ کتنی مضبوطی سے جڑی ہے، لیکن اب وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے، اور مستقبل کی تاریخ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ اس عظیم الوداع کے بعد ابھرنے والا نیا ایران دنیا کے نقشے پر اپنا کیا کردار متعین کرتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *