Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمیجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےذہنی و فکری معذوری کے حامل بچوں کے لیے ڈے کیئر اور علاج و بحالی کے مراکز بنائے جائیں،سلمی سعید ہاشمی

احترام شہداء کربلا

احترام شہداء کربلا
تحریر،رخسانہ رخشی

واقعہء کربلا عہد حاضر میں بھی اسی دکھی اور دلگیر جذبات کیساتھ حقیقی پس منظر لیئے ہوئے ہے ۔ چودہ سو سال گزرنے کے باوجود آج تمام علی اور حسین کے چاہنے والے شہیدان کربلا کے غم کو رنجیدہ اور سوگ کی صورت میں منانا فطری عمل سمجھتے ہیں ۔
جب کوئی شہید ہوجائے تو بے اختیار دل سنجیدہ ہوکر مغموم ہوجاتا ہے رونا بھی بہت آتا ہے۔
پھر شہیدان کربلا کا غم ہر امتی اور مومنین کیلئے نہایت کرب ناک ہے کہ نواسہء رسول اپنے نانا کی گود میں پرورش پانے والے جگر گوشے فاطمہ زہرا کے لال عالم اسلام کیلئے اپنے کردار ، جرات و استقامت اور ایثارو قربانی کی داستان رقم کرگئے۔
کتنے بھی ولی اللہ، پیغمبر اور اولیاء گزرے ہیں کسی میں بھی قربانی کے ایسے اوصاف نہیں پائے جاتے جیسے علی اور فاطمہ زہرا کے جگر گوشوں میں تھے۔
بنی نوع انسان کی بھلائی کا سلسلہ رسول کی آغوش سے شروع ہوکر خانوادہء رسول ہی پر ختم ہے۔
آج بھی کچھ ایسے ملعون پائے جاتے ہیں جو کربلا کے واقعات کو غلط رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں ، کچھ کے نزدیک یہ دو شہزادوں کی جنگ تھی، کچھ ملعون تو یہ تک کہہ دیتے ہیں کہ یزید کے خلاف اقدام بغاوت کو اُبھارا گیا۔
آج بھی کوئی مولانا فرمارہے تھے کہ کربلا میں جنگ نہیں ہوئی، کُوفی ہی شہادت کے گناہگار ٹھہرے ، یعنی یزید کو سرے سے ملعون مانتے ہی نہیں ۔
عام لوگ بھی محرم کے احترام کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں یعنی کچھ طبقات شادی بیاہ، ناچ گانا، اور دوسری سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں جیسے عاشورہ کے ایام کوئی چھٹیوں کے زمرے میں آنے لگے تو چلو بھئی دعوتیں ، ضیافتیں اور سیر سپاٹے کر لئے جائیں!!
کچھ تو خوف خدا ہونا چاہئے فرض کیجیئے آپ کے گھر کے نہایت بزرگ شخص جنہوں نے اپنی زندگی بھرپور گزاری اور وہ موج و مستی میں گزار کے دنیا چھوڑ گئے تو آپ کیا انھیں ڈھول دھمکوں میں رخصت کریں گے یا پھر انھیں دوپہر کو دفنانے کے بعد شام میں انکے پوتے کی شادی رکھ لیں گے؟
نہیں نا؟ کچھ احترام اور تین دن کا سوگ تو آپ بھی کریں گے تو پھر ایک عظیم سانحہء کربلا سے رُوگردانی کیسی؟ کیا ہم واقعی شیطان کے پیروکار ہیں ؟ انسانیت سے مبرا ہیں یا پھر کسی مذہب و عقیدے سے کچھ لینا دینا ہی نہیں یعنی پھر آپ کیا ٹھہرے ؟؟
مسلمان وہ ہے جو سانحہء کربلا اور امام حسین کی عظیم قربانیوں کا گہرا احترام کرتے ہیں۔ کسی بھی مکتبہء فکر سے تعلق ہو انکی توہین و بے ادبی نہیں کی جاتی، سوگ اور دکھ کے انداز مختلف ہوسکتے ہیں مگر احترام سے چشم پوشی ممکن نہیں۔ امت مسلمہ کو یہ بات نہیں بھولنا چاہئے کہ سید الشہدا نواسہء رسول ہیں اور اسلام زندہ رکھنے کو یہ عظیم سانحہ ایک عظیم المیہ بھی ہے۔یہ صبر اور حق پرستی کی جنگ تھی، امت مسلمہ کی اصلاح کیلئے یہ فرض فاطمہ زہرا کے جگر گوشوں نے جان کی قربانیاں دیکر ادا کیا۔
کیا کہیں کہ خارجی اور ناصبی نظریات اسلامی تاریخ کا حصہ رہے ہیں اور روز محشر تک رہیں گے، یہ وہ گروہ رہے ہیں جو علی علیہ اسلام اور انکے خاندان کے خلاف دشمنی رکھتے تھے اسی لئے شہداء کربلا کے مقام و مرتبے سے غفلت برتتے ہیں ۔
اہل سنت و اہل تشیع سانحہء کربلا کے شہداء کو انتہائی عقیدت و احترام سے دیکھتے ہیں اور کسی بھی بڑی خوشی کو اپنے لئے اہم نہیں سمجھتے کہ دین میں احترام کو عظیم وصف قرار دیا گیا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *