Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتیں یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظمپولیس کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑا ہوں گا، مورچے میں بھی ساتھ دوں گا،وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے دورہ زیارت پر شٹر ڈاؤن ہڑتال، آل پارٹیز کا احتجاجدہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، اب ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آرڈی جی آئی ایس پی آر آج دوپہر اہم پریس کانفرنس کریں گےسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہاگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاںادبی سوسائٹی کی حلف برداری بلوچستان میڈیا فورم کا قیاممیڈم بتول بی بی مدر ٹریسا آف پاکستان ، تیس بیٹیاں ، ایک ماںجنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) دینے کی منظوریایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتیں یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعظمپولیس کے ساتھ ہر محاذ پر کھڑا ہوں گا، مورچے میں بھی ساتھ دوں گا،وزیراعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے دورہ زیارت پر شٹر ڈاؤن ہڑتال، آل پارٹیز کا احتجاجدہشت گردوں سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں، اب ہتھیار ڈالنے ہوں گے، ڈی جی آئی ایس پی آرڈی جی آئی ایس پی آر آج دوپہر اہم پریس کانفرنس کریں گےسونے اور چاندی کی عالمی و مقامی مارکیٹوں میں قیمت میں بڑا اضافہاگست میں ملازمین اور طلبہ کی موجیں؛ چھٹیاں ہی چھٹیاںادبی سوسائٹی کی حلف برداری بلوچستان میڈیا فورم کا قیاممیڈم بتول بی بی مدر ٹریسا آف پاکستان ، تیس بیٹیاں ، ایک ماںجنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) دینے کی منظوری

ماہ رنگ لانگو کو سزا، شبیر بلوچ کے لیے انصاف اور قانون کی بالادستی کا پیغام


تحریر۔ مصطفیٰ بزدار

بلوچستان میں سیکیورٹی اہلکار شبیر بلوچ کے قتل کے مقدمے میں عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد صوبے کے مختلف حلقوں میں اس فیصلے کو آئین، قانون اور انصاف کی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ریاست کے خلاف تشدد، قانون کو ہاتھ میں لینے اور عوام کے تحفظ پر مامور اہلکاروں پر حملے کسی بھی مہذب معاشرے میں قابل قبول نہیں ہو سکتے، لہٰذا عدالتی فیصلہ قانون کی حکمرانی کے اصول کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بنے گا۔

شبیر بلوچ ایک سیکیورٹی اہلکار تھے جو اپنی ڈیوٹی کے دوران امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ واقعے کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ احتجاج کے دوران ان پر پتھراؤ کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے۔ ان کی موت کو ان کے اہل خانہ، ساتھیوں اور متعدد شہری حلقوں نے قومی خدمت کے دوران دی جانے والی قربانی قرار دیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ شبیر بلوچ کے ہاتھ میں اسلحہ موجود تھا اور وہ چاہیں تو طاقت کا استعمال کر سکتے تھے، تاہم انہوں نے پیشہ ورانہ ذمہ داری، ریاستی پالیسی اور عام شہریوں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق یہی ذمہ داری اور ضبط و برداشت ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔

عدالت نے مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور قانونی تقاضوں کا جائزہ لینے کے بعد گرفتار ملزمان، جن میں ماہ رنگ لانگو، صبغت اللہ اور دیگر شامل ہیں، کو عمر قید کی سزا سنائی۔ اس فیصلے کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں سے ردعمل سامنے آیا، جہاں شہریوں نے اسے انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم احتجاج کی آڑ میں تشدد، سرکاری اہلکاروں پر حملے اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کے اظہار کے لیے قانونی اور آئینی راستے موجود ہیں، جبکہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے صرف بدامنی اور انتشار کو فروغ ملتا ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امن و استحکام کے خلاف سرگرم عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن، ترقی اور عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کے مطابق عدالتی فیصلہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کو بالآخر قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مبصرین کے نزدیک یہ فیصلہ نہ صرف شبیر بلوچ کے اہل خانہ کے لیے انصاف کی ایک صورت ہے بلکہ ان تمام اہلکاروں کے لیے بھی حوصلہ افزا پیغام ہے جو روزانہ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امن کے قیام اور قانون کی حکمرانی کے لیے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان باہمی اعتماد اور تعاون ناگزیر ہے، اور اسی راستے پر چل کر بلوچستان کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی جانب لے جایا جا سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *