Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئیسونے کی قیمت میں پھر اضافہ ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟معروف اداکار اور موسیقار خالد نظامی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےکیچ میں مزدوروں کے قتل کی مذمت، دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ کے ترقیاتی منصوبوں اور ٹریفک نظام سے متعلق بلوچستان ہائیکورٹ کے اہم احکاماتپانی ، نعمت بھی ، ذمہ داری بھی۔۔۔پاکستان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کیلئے فریقین سے رابطے میں ہے ،ترجمان دفتر خارجہڈی آئی خان ، پولیس لائنز کے مال خانے میں دھماکا ، بم ڈسپوزل اسکواڈ کے انچارج زخمیجنگل کی حکمرانی اور تماشائی سیاست کا المیہقلات خالق آباد بازار ایک ہفتے بعد دوبارہ کھل گیا، تجارتی سرگرمیاں بحالتربت سے ملنے والی 6 لاشیں مغوی مزدوروں کی نکلیں، بابر یوسفزئی

بلوچستان میں بڑھتی بے روزگاری خطرناک ہے، پروفیسر حلیم صادق

بلوچستان میں بڑھتی بے روزگاری خطرناک ہے، پروفیسر حلیم صادق
بیروزگاری کے ھاتھوں نوجوانوں کی خودکشیاں حکومتی ناکامی کا ثبوت ہیں۔صوبائی جنرل سیکرٹری
صوبائی بجٹ میں روزگار کے مواقع اور سرکاری بھرتیوں کے حوالے سے واضح پالیسی کا فقدان افسوسناک ہے۔ سے پی پی
کوئٹہ: عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور کوئٹہ میں ایک ہفتے کے دوران بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث تین نوجوانوں کی مبینہ خودکشی کے واقعات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعات پورے معاشرے اور حکومتی اداروں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم رہیں، مستقبل سے مایوس ہو جائیں اور معاشی دباؤ کا شکار ہوں تو ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں جن کی ذمہ داری متعلقہ حکومتی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے حالیہ صوبائی بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شعبوں کے لیے مختلف اعلانات تو کیے ہیں، تاہم صوبے کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی اور سرکاری ملازمتوں کے حوالے سے کوئی جامع اور واضح پالیسی سامنے نہیں لائی گئی، جو انتہائی افسوسناک امر ہے۔انہوں نے کہا کہ نوجوان طبقہ اس وقت شدید بے چینی کا شکار ہے اور سرکاری محکموں میں ہزاروں خالی آسامیوں کے باوجود بھرتیوں کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ صوبے میں بے روزگاری صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان مایوسی، ذہنی دباؤ اور مختلف سماجی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس مسئلے کو محض اعداد و شمار تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کرے اور فوری طور پر تمام خالی سرکاری آسامیوں پر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر بھرتیوں کا اعلان کرے۔انہوں نے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی نوجوانوں کے مسائل کو اپنی سیاسی جدوجہد کا اہم حصہ سمجھتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، صنعتی سرگرمیوں کے فروغ، فنی تعلیم کے مراکز کے قیام اور نوجوانوں کے لیے خصوصی روزگار پروگرام متعارف کرانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں نوجوانوں کی خودکشی کے حالیہ واقعات انتہائی افسوسناک ہیں اور حکومت کو ان واقعات کی وجوہات کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہوئے ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے نوجوانوں کو امید، روزگار اور بہتر مستقبل میسر آ سکے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام پاکستان پارٹی ہر اس آواز کے ساتھ کھڑی ہوگی جو نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور روزگار کے حق کے لیے بلند ہوگی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *