Banner
Daily Sahafat Quetta
October 27, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
​نیشنل پریس کلب میرپورخاص کا اہم اجلاس، صحافیوں کا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کا عزمقصبہ گجرات پولیس کی بہترین کارکردگی، چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کرکے مالک کے حوالےملیر جرنلسٹ پینل کا چوتھا اجلاس صدر علی بلیری کی زیرِ صدارت منعقد، صحافیوں کے مسائل پر غورسوشل میڈیا پر مؤثر فعالیت موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، مولوی عبدالوکیل حقیارگنداواہ: شہید مولوی محمد صادق ابڑو کی نمازِ جنازہ پیر محمد ایوب شاہ بخاری قبرستان میں ادا کر دی گئی، شہریوں اور معززین کی بڑی تعداد میں شرکتگنداواہ گزشتہ دنوں کھاری سے اغوا ہونے والے دو مزید اشخاص کی تشدد زدہ لاشیں برآمدحب سوک سینٹر میں محتسبِ اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کھلی کچہری، شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیےمیڈم حلیمہ نے مردان، نوشہرہ روڈ اور شمشی روڈ پر جاری صفائی آپریشن کا جائزہ لیا،او آئی سی کا فوری سربراہ اجلاس بلا کر امتِ مسلمہ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے،مولانا عبدالقادرلونیپنجاب حکومت آٹے کی ترسیل پر پابندی ختم کرے، صوبائی حکومت فوری رابطہ کرے: مولانا قاری مہراللہ​نیشنل پریس کلب میرپورخاص کا اہم اجلاس، صحافیوں کا پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کا عزمقصبہ گجرات پولیس کی بہترین کارکردگی، چوری شدہ موٹر سائیکل برآمد کرکے مالک کے حوالےملیر جرنلسٹ پینل کا چوتھا اجلاس صدر علی بلیری کی زیرِ صدارت منعقد، صحافیوں کے مسائل پر غورسوشل میڈیا پر مؤثر فعالیت موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، مولوی عبدالوکیل حقیارگنداواہ: شہید مولوی محمد صادق ابڑو کی نمازِ جنازہ پیر محمد ایوب شاہ بخاری قبرستان میں ادا کر دی گئی، شہریوں اور معززین کی بڑی تعداد میں شرکتگنداواہ گزشتہ دنوں کھاری سے اغوا ہونے والے دو مزید اشخاص کی تشدد زدہ لاشیں برآمدحب سوک سینٹر میں محتسبِ اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں کھلی کچہری، شہریوں نے شکایات کے انبار لگا دیےمیڈم حلیمہ نے مردان، نوشہرہ روڈ اور شمشی روڈ پر جاری صفائی آپریشن کا جائزہ لیا،او آئی سی کا فوری سربراہ اجلاس بلا کر امتِ مسلمہ کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے،مولانا عبدالقادرلونیپنجاب حکومت آٹے کی ترسیل پر پابندی ختم کرے، صوبائی حکومت فوری رابطہ کرے: مولانا قاری مہراللہ

تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن میں 100 فیصد اضافہ کا مطالبہ

تنخواہوں، الاؤنسز اور پنشن میں 100 فیصد اضافہ کا مطالبہ
صوبائی جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کی زیر صدارت پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کا اجلاس
گرینڈ الائنس قیادت کے خلاف جبری ریٹائرمنٹ اور تادیبی کارروائیاں فوری واپس لی جائیں، مزدور رہنماؤں کا مطالبہ
کوئٹہ (پ ر) پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان کا ایک اہم اجلاس صوبائی جنرل سیکرٹری پیر محمد کاکڑ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں چیف آرگنائزر شمس خلجی، محمد زمان، آغا ذوالفقار شاہ، ملک سعید، ہدایت درویش، اللہ بخش کرد، عزیز احمد سارنگزئی، اقبال بادینی، نعمت کاکڑ، حاجی عبدالمجید، محمد عمر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مزدور اور ملازم رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، سرکاری ملازمین، محنت کشوں، کان کنوں اور بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شرکاء نے حکومت بلوچستان کی جانب سے گرینڈ الائنس کی قیادت کے خلاف جبری ریٹائرمنٹ اور دیگر تادیبی کارروائیوں پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان اقدامات کو ملازمین کے آئینی، جمہوری اور قانونی حقوق پر قدغن قرار دیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر ان کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ملازمین رہنماؤں کے خلاف جاری تمام انتقامی اقدامات فوری طور پر واپس لیے جائیں اور گرینڈ الائنس کے ساتھ طے شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر مکمل اور فوری عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیر محمد کاکڑ، شمس خلجی اور دیگر مقررین نے کہا کہ ملک میں مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے سرکاری ملازمین، پنشنرز اور محنت کش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ موجودہ تنخواہیں اور پنشن اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو چکی ہیں، جس کے باعث لاکھوں خاندان شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔رہنماؤں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، تمام الاؤنسز اور پنشن میں کم از کم 100 فیصد اضافہ کیا جائے تاکہ ملازمین کو مہنگائی کے اثرات سے حقیقی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوامی اور ملازم دوست پالیسیوں پر عملدرآمد کی خواہاں ہے تو اسے محنت کش طبقے کی معاشی مشکلات کا فوری ادراک کرتے ہوئے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اجلاس میں بلوچستان کے کان کنوں اور مائنز ورکرز کی حالتِ زار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کان کن آج بھی بنیادی سہولیات اور سماجی تحفظ سے محروم ہیں۔ لہٰذا بلوچستان بھر کے تمام کان کنوں اور مائنز ورکرز کو سوشل سیفٹی نیٹ، ای او بی آئی، ورکرز ویلفیئر فنڈ اور دیگر سماجی تحفظ کی اسکیموں میں فوری طور پر رجسٹرڈ کیا جائے تاکہ حادثات، بیماری اور بڑھاپے کی صورت میں انہیں مناسب تحفظ حاصل ہو سکے۔ اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر کم از کم اجرت 50 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں کے ملازمین کو بروقت اور باقاعدگی سے تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے جبکہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ملازمین کو مستقل بنیادوں پر ریگولر کرکے کم از کم 37 ہزار روپے ماہانہ اجرت فراہم کی جائے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ محنت کشوں، مزدوروں، پنشنرز اور سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل کے بغیر معاشی استحکام اور سماجی ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن بلوچستان مزدوروں اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ، روزگار کے استحکام، بہتر اجرتوں اور فلاحی سہولیات کے حصول کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور جائز مطالبات کی منظوری تک ہر جمہوری، آئینی اور قانونی فورم پر بھرپور آواز بلند کرتی رہے گی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *