Banner

“ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” وطن، عزم اور قربانیوں کا منظوم مرقع

Share

Share This Post

or copy the link

“ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں”
وطن، عزم اور قربانیوں کا منظوم مرقع

منشا قاضی
حسبِ منشا

اردو ادب کی درخشاں روایت میں کچھ کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک عہد، ایک جذبہ، ایک تاریخ اور ایک زندہ ضمیر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی تازہ تصنیف “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” بھی ایسی ہی ایک کتاب ہے جو اپنے عنوان ہی سے دل میں وطن دوستی، وفاداری، اور قربانی کے چراغ روشن کر دیتی ہے۔ یہ صرف ایک شعری کتاب نہیں، بلکہ پاکستان کے جانباز سپاہیوں، شہداء کے لہو، غازیوں کے عزم، اور فوجِ پاکستان کی بے مثال خدمات کے نام ایک والہانہ خراجِ عقیدت ہے۔ یہ کتاب دراصل اس اجتماعی احساس کی ترجمان ہے جس میں قوم اپنی سلامتی، اپنی عزت، اور اپنی بقا کو اپنے محافظوں کے مقدس ہاتھوں میں محفوظ دیکھتی ہے۔

ڈاکٹر خالد عباس الاسدی، جو مکہ مکرمہ، سعودی عرب میں مقیم ایک معروف پاکستانی شاعر، ادیب اور سماجی خدمت گزار ہیں، اپنی ادبی اور فکری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ملتِ پاکستان کے جذبات کی بھی پاسبانی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی یہ کتاب ان کے تخلیقی سفر کی تیرہویں کتاب ہے، جو ان کی عسکری دانشوری کی عکاس ہے، اور یہ حقیقت خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا قلم محض مشقِ سخن تک محدود نہیں، بلکہ ایک مسلسل فکری اور تہذیبی کارنامہ سرانجام دے رہا ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں اپنے شعور، اپنے درد، اپنی محبت اور اپنے وطن سے رشتۂ وفا کو اس انداز میں سمویا ہے کہ ہر مصرعہ ایک سجدۂ عقیدت محسوس ہوتا ہے۔

“ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” کا بنیادی موضوع پاکستان کی مسلح افواج کی عظیم خدمات، ان کی قربانیاں، اور خصوصاً معرکۂ “بنیان المرصوص” کی شان و شوکت ہے۔ یہ وہ عنوان ہے جو محض عسکری کامیابی کا اعلان نہیں کرتا بلکہ اس کے پسِ منظر میں موجود اس نظریاتی استقامت کو بھی نمایاں کرتا ہے جس سے قومیں بنتی اور محفوظ رہتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد عباس الاسدی نے اس معرکے کو کسی خشک عسکری رپورٹ کی طرح پیش نہیں کیا، بلکہ اسے جذبے، وقار، حماست، اور شعری آہنگ کے ساتھ یوں بیان کیا ہے کہ قاری کے دل میں فخر، تشکر، اور عقیدت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری دانشوری کو یوں منظوم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں

معرکہ ء حق میں ہیں آپ کی قیادت میں

بالیقین جیتیں گے شک نہیں ہے جرات میں

جب عدو نے للکارا میرے جان نثاروں کو

سرحدوں پہ پہنچے ہیں جذبہ شہادت میں

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ جنگ کو جنگ کی سطح پر نہیں رہنے دیتی بلکہ اسے وفا، ایمان، قربانی، اور قومی تشخص کے استعارے میں ڈھال دیتی ہے۔ شاعر جب وطن کے سپاہی کو مخاطب کرتا ہے تو اس کی زبان میں صرف مدح نہیں، بلکہ ایک ملت کی دھڑکن بولتی ہے۔ وہ سپاہی جو سرحدوں پر جاگتا ہے، وہ غازی جو زخم کھا کر بھی مسکراتا ہے، اور وہ شہید جو اپنے لہو سے پرچم کی آبرو لکھتا ہے—اس کتاب میں ان سب کے لیئے محبت کے پھول بھی ہیں اور عقیدت کے چراغ بھی۔

ائر چیف مارشل ظہیر الدین بابر سدھو کو یوں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

ظہیر الدین بابر کی قیادت فاتحانہ ہے

اسی کردار میں ڈھلتا ہوا قومی ترانہ ہے

اسی طیار سے سیکھی ہوا بازوں نے جان بازی

ہوائے تند پر جس کا تصرف جاودانہ ہے

اور امیر البحر کو بھی( چیف پاکستان نیوی) ایڈمرل نوید اشرف کو بھی بڑی خوبصورتی سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں

دلاور بحریہ کا ہر جواں ہے

شجاعت کی مکمل داستان ہے

امیر البحر کی زیر قیادت

سمندر بولتا اردو زبان ہے

پاکستان زندہ باد

لبوں پہ جب بھی مہکتا ہے نامِ پاکستان

دل و نظر میں چہکتا ہے نامِ پاکستان

عقیدتوں کی زمین پر لکھوں جو زندہ باد

تو آسماں پہ دمکتا ہے نامِ پاکستان

یہ کتاب دراصل ایک ایسی ادبی دستاویز ہے جو نئی نسل کے لیئے سبق بھی ہے اور جذبہ بھی۔ آج کے ہنگامہ خیز دور میں جب فکری انتشار، اخلاقی زوال، اور قومی بے حسی کے اندھیرے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” جیسی کتابیں ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ وطن صرف زمین کا نام نہیں، وطن ایک امانت ہے؛ اور اس امانت کی حفاظت کرنے والے وہ مردِ مجاہد ہیں جن کے قدموں تلے تاریخ خود سلام کرتی ہے۔ گذشتہ روز آپ کی اس کتاب کی تقریبِ رونمائی جرمن زبان کے سکالر پاکستان کی نیک نامی کے محبت کے سفیر پاک آسٹریا فرینڈ شپ کےسربراہ فضیلتِ مآب جناب عامر رفیق کی سرپرستی میں موزاڑٹ ہاؤس ماڈل ٹاؤن میں منعقد ہوئی ، جس میں بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی عزتِ مآب شہزادہ عالمگیر مہمان خاص کی حیثیت سے خصوصی طور پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے تشریف لائے تھے ۔ ملک کے چوٹی کے شاعر جناب نذیر قیصر اور محمد مجیب قیوم مہمانوں کے لیئے دیدہ و دل فرشِ راہ کیئے ہوئے تھے ۔ ان کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ یوں لگتا تھا کہ صاحبِ کتاب مدینہ منورہ سے تشریف لا رہے ہیں اور ہم سب ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لٙو میں اُن کا خیر مقدم کرنے کے لیئے شہزادہ عالمگیر کے ساتھ ایستادہ ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ

آمد جو سنی ان کی اللہ رے انتظار

آنکھیں بچھا دیں ہم نے جہاں تک نظر گئی

بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، دانشور، ادیب ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کا یہ شہرہ ء آفاق شعر جو نعت خوان حضرات نے حرزِ جاں بنا رکھا ہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ لفظوں کو وضو کرائے بغیر ُاُس ہستی کا نام نہیں لیا جا سکتا وہ ہستی جو وجہ ء تخلیقِ کائنات ہے ۔ بقول چوھدری افضل حق ہوشیار پوری کے کہ جنہوں نے ہمیں ایمان دیا اسلام دیا اور صحیح شرف انسانیت سے روشناس کرایا جنہوں نے نسل و خون کے امتیازات کو ختم کر کے رکھ دیا جن کی حیا سے دنیا پارسائی کا درس لیتی تھی جن کا تبسم ظلمت میں اجالا کر دیا کرتا تھا اور جن کے دلکشا تیوروں میں مشکل کشائی کے ارادے کروٹیں لے رہے تھے ۔ جن کی سادہ زندگی اپنے اندر قناعت و غنا کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے تھی اور دنیا کا نقشہ جن کے پاؤں تلے یوں بچھا ہوا تھا کہ ان کا دامنِ کرم اُڑتا اُڑتا عرب و عجم کو اپنے سائے میں لے لیتا تھا وہ شخصیت جن کو سب سے بڑے صناع کی افضل ترین مخلوق ہونے کا شرف حاصل ہے۔

داستانِ حسن جب پھیلی تو لامحدود تھی

ا جب سمِٹی تو رسولِ پاک ہو کر رہ گئی ۔

ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کا یہ شعر انہیں صبحِ قیامت تک زندہ رکھے گا اور آپ کے لیئے توشہ ء آخرت ثابت ہوگا

لفظ جب تک وضو نہیں کرتے

ہم تیری گفتگو نہیں کرتے

ادبی اعتبار سے ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کا اندازِ بیان سادہ بھی ہے اور پرشکوہ بھی۔ ان کے ہاں جذبے کی روانی، الفاظ کی وقعت، اور خیال کی گہرائی یکجا ہو جاتی ہے۔ وہ قاری کو محض متاثر نہیں کرتے بلکہ اسے ایک داخلی سفر پر لے جاتے ہیں—ایسا سفر جہاں دل، دماغ اور ضمیر ایک ہی سمت میں رواں ہو جاتے ہیں: وطن سے محبت کی سمت۔ ان کی شاعری میں خطابت کی گھن گرج بھی ہے اور نرمی کی تاثیر بھی، جس کے باعث یہ کتاب نہ صرف پڑھنے کے لائق بنتی ہے بلکہ محسوس کرنے کے قابل بھی۔

اس کتاب میں موجود وطن پرستی کا رنگ سطحی یا نعرہ زدہ نہیں، بلکہ خالص، باوقار اور فطری ہے۔ یہاں فوج کی تعریف محض رسمی نہیں، بلکہ اس قوم کی اجتماعی روح کا اظہار ہے جس نے اپنے محافظوں کو ہمیشہ عزت، اعتماد اور محبت سے نوازا۔ شہداء کے لیئے اس کتاب میں جو لہجہ اختیار کیا گیا ہے، وہ آنسوؤں سے بھی زیادہ پاکیزہ اور عقیدت سے بھی زیادہ روشن ہے۔ غازیوں کے لیئے جو الفاظ چنے گئے ہیں، وہ حوصلے کی تلوار اور احترام کی ڈھال بن جاتے ہیں۔

غازی مرا کرتے نہیں مر مر کے جیا کرتے ہیں

تم سلامت رہو ہر روز کے مرنے والے

یہ کہنا بجا ہوگا کہ “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” ایک ادبی تحفہ ہے، ایک قومی پیغام ہے، اور ایک روحانی نذرانہ بھی۔ یہ کتاب پاکستانی فوج کے بہادر سپاہیوں، شہداء اور غازیوں کے لیئے ایک ایسا خراجِ تحسین ہے جو کاغذ پر لکھا ضرور گیا ہے، مگر اس کی بازگشت دلوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ کتاب اس سچائی کو مضبوطی سے اجاگر کرتی ہے کہ قومیں صرف معیشت یا سیاست سے نہیں، بلکہ قربانی، نظم، ایمان اور وفا سے زندہ رہتی ہیں۔

ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کی یہ تخلیق ان کے شعری سفر کا ایک نمایاں سنگِ میل ہے۔ ان کی ادبی سنجیدگی، قومی وابستگی اور انسانی خدمت کا جذبہ اس کتاب میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ خاص طور پر یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ وہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے بھی اپنے وطن سے اس شدت سے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کا قلم ہر سانس میں پاکستان کی خوشبو بکھیرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کسی پاکستانی ادیب کی وفاداری اور کیا ہوگی کہ وہ دور دیار میں رہ کر بھی اپنے وطن کے سپاہیوں کے لیئے لفظوں کے ہار بُن رہا ہو۔

آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ “ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” ایک ایسی کتاب ہے جو محض پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے؛ محض سنی نہیں جاتی، دل میں اتاری جاتی ہے۔ یہ کتاب پاکستان کے ان ہیروز کے نام ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر وطن کی مٹی کو مقدس بنایا، اور ان غازیوں کے نام ہے جنہوں نے زخموں کے باوجود حوصلے کے پرچم کو کبھی گرنے نہ دیا۔ یہ کتاب دراصل ایک اعلان ہے کہ ہم زندہ ہیں، کیونکہ ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں۔ میری شہزادہ عالمگیر صاحب سے گزارش ہوگی کہ وہ اس کتاب کو فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کے پاس لے کر جائیں اور پاک افواج کی جتنی لائبریریاں ہیں ، برٙی ، بحری اور فضائیہ وہاں اس کتاب کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے ممتاز کالم نگار بین الاقوامی شہرت یافتہ لکھاری ارشد شاہد صاحب اس سلسلے میں کافی مدد کر سکتے ہیں میری ان سے بات ہو گئی ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ کتاب فوج کے ہر سپاہی کے ہاتھ میں ہونی چاہیئے ۔ اس سے بہتر خوبصورت خراج تحسین پاک افواج کو پیش نہیں کیا جا سکتا اور ہم اپنی پاک آرمی کو کبھی فراموش نہیں کر سکتے ، اس سلسلے میں جناب ڈاکٹر عامر رفیق نے وقت کی آذان دی ہے اور انہوں نے کتاب کی تقریبِ رونمائی میں سہولتوں اور ضرورتوں کے اسباب پیدا کیئے ہیں ، میں ان کا بے پناہ ممنونِ احسان ہوں ۔ نذیر قیصر صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں اور ان کی شریکِ حیات جن کی کامیابی کا راز طشت از بام ہو گیا ہے کہ وہ خود فرماتی ہیں کہ

میرا کمال، میرا ہنر پوچھتے ہیں لوگ

اک باکمال شخص میری دسترس میں ہے

عابدہ قیصر کی پر خلوص کاوش اللہ کی نوازش ہے ۔ ملک کے نامور مصور و خطاط ہارون الرشید کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں وہ اس سلسلے میں ڈاکٹر خالد عباس الاسدی کے نام کا پورٹریٹ بنا رہے ہیں اور وہ جب مدینہ منورہ سے پاکستان کی سرزمین پر قدم رکھیں گے ارادت و عقیدت کے چراغوں کی روشنی کی لو میں شہزادہ عالمگیر کے دستِ مبارک سے پیش کریں گے ۔ ایک نسخہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر عمران صدیقی تک پہنچایا جائے گا ۔ کتاب کی ایک تقریب کا اہتمام اسلام آباد میں رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی سرپرستی میں ہو گا ۔۔ڈاکٹر فضیلت بانو کو بھی کتاب پہنچائی جائے اور وہ اس پر خوبصورت تبصرہ بھی کریں گی اور تقریبِ رونمائی میں مہمانِ اعزاز کے طور پر تشریف لائیں گی ۔ آخر میں اپنی آرزو کی جستجو میں ایک
شعر جو میرا خیال ہے کہ یہ امن و اخوت و رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کا غماز ہو گا ۔

بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو

اے کاش ! ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

“ہم عہدِ وفا میں زندہ ہیں” وطن، عزم اور قربانیوں کا منظوم مرقع

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us