Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں سرمایہ کاری کا فروغ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے، ظہور بلیدیشہریوں کو مشکلات سے نجات دلانا ترجیح ہے، ایس ڈی پی او اکبر علیمرحوم خوشحال خان کی دسویں برسیالحمد اسلامک یونیورسٹی میں نیب بلوچستان کا آگاہی سیمینارپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصرپاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئےمائنس عمران خان فارمولا پاکستان کیلئے بربادی کا راستہ ہے، محمود اچکزئیکوئٹہ: پیپلز شٹل ٹرین کا افتتاح دوسری مرتبہ ملتویعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہبلوچستان میں سرمایہ کاری کا فروغ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے، ظہور بلیدیشہریوں کو مشکلات سے نجات دلانا ترجیح ہے، ایس ڈی پی او اکبر علیمرحوم خوشحال خان کی دسویں برسیالحمد اسلامک یونیورسٹی میں نیب بلوچستان کا آگاہی سیمینارپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصرپاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئےمائنس عمران خان فارمولا پاکستان کیلئے بربادی کا راستہ ہے، محمود اچکزئیکوئٹہ: پیپلز شٹل ٹرین کا افتتاح دوسری مرتبہ ملتویعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہ

بلوچستان اشتہاراتی پالیسی 2026 پر نظرثانی کی جائے، سید انور شاہ

کوئٹہ (پ ر)چیئرمین بلوچستان پرنٹ میڈیا سید انور شاہ نے صوبائی کابینہ کی جانب سے اشتہاراتی پالیسی 2026 کی منظوری اور یکم جولائی 2026 سے اس کے نفاذ کے فیصلے پر شدید تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ بلوچستان کے پرنٹ میڈیا، آزادیٔ اظہار اور جمہوری اقدار کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید میڈیا رجحانات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نئی ٹیکنالوجی کو حکومتی پالیسیوں کا حصہ بنانا یقیناً وقت کی ضرورت ہے، تاہم اس عمل میں پرنٹ میڈیا کے تاریخی، پیشہ ورانہ اور قومی کردار کو نظر انداز کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں اخبارات آج بھی عوام اور ریاست کے درمیان رابطے کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ہیں اور دور دراز علاقوں کے مسائل کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔سید انور شاہ نے کہا کہ اشتہاراتی پالیسی کے مجوزہ نکات سامنے آنے کے بعد صوبے کی متعدد سیاسی جماعتوں، صحافتی تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ پالیسی کو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے۔ گورنر بلوچستان نے بھی اس پالیسی کو مزید بہتر بنانے اور قابلِ قبول بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا، لیکن ان تجاویز اور تحفظات کو نظر انداز کرتے ہوئے پالیسی کی منظوری افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری اشتہارات کو محدود تعداد کے اخبارات تک محدود کرنے اور اشتہارات کی تقسیم کے طریقہ کار میں یکطرفہ تبدیلیوں سے صوبے کے درجنوں اخبارات، صحافیوں، کارکنوں، کمپوزرز، ڈیزائنرز، طباعتی عملے اور تقسیم کاروں کے روزگار کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں میڈیا کے تنوع، عوامی نمائندگی اور مختلف مکاتب فکر کی آوازوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔چیئرمین بلوچستان پرنٹ میڈیا نے وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی کابینہ کے معزز اراکین اور محکمہ اطلاعات سے مطالبہ کیا کہ اشتہاراتی پالیسی 2026 پر فوری نظرثانی کی جائے اور اس کے نفاذ سے قبل تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامعنی مشاورت کا عمل شروع کیا جائے تاکہ ایک ایسی متوازن، منصفانہ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ پالیسی تشکیل دی جا سکے جو ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی کے ساتھ ساتھ پرنٹ میڈیا کے تحفظ، آزادیٔ اظہار اور جمہوری روایات کو بھی یقینی بنائے۔سید انور شاہ نے کہا کہ آزاد، ذمہ دار اور متنوع میڈیا کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایسے فیصلوں سے گریز کیا جانا چاہیے جو عوام کی حقیقی آوازوں کو محدود کریں یا میڈیا کے ایک اہم اور قابلِ اعتماد شعبے کو کمزور کرنے کا سبب بنیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *