Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصرپاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئےمائنس عمران خان فارمولا پاکستان کیلئے بربادی کا راستہ ہے، محمود اچکزئیکوئٹہ: پیپلز شٹل ٹرین کا افتتاح دوسری مرتبہ ملتویعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہعابد بخاری کی صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، بلوچستان میڈیا فورمصوبے مادر پدر آزاد نہیں، سندھ چاہے بھی تو اپنی نیوی نہیں بنا سکتا، طلال چوہدرینادرا کا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار، بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکممسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخبپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصرپاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئےمائنس عمران خان فارمولا پاکستان کیلئے بربادی کا راستہ ہے، محمود اچکزئیکوئٹہ: پیپلز شٹل ٹرین کا افتتاح دوسری مرتبہ ملتویعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہعابد بخاری کی صحافتی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، بلوچستان میڈیا فورمصوبے مادر پدر آزاد نہیں، سندھ چاہے بھی تو اپنی نیوی نہیں بنا سکتا، طلال چوہدرینادرا کا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار، بلوچستان ہائیکورٹ کا بڑا حکممسلم لیگ ن کے ڈاکٹر نجیب نقی آزاد کشمیر کے نئے صدر منتخب

پاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئے

پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں مبینہ طور پر افغان عناصر کے ملوث ہونے سے متعلق مزید شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ حملے میں مارے گئے فتنۃ الہندوستان سے وابستہ دہشتگردوں میں افغان شہری بھی شامل تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگرد ذوالفقار المعروف ابو عمر کے قبضے سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (GDI) کا کارڈ، جبکہ خلیل احمد کے پاس سے افغان تذکرہ برآمد ہوا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان طالبان انٹیلی جنس کے مبینہ روابط سے متعلق ایک انٹیلی جنس رپورٹ پہلے بھی سامنے آچکی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 2025 کے دوران دونوں فریقوں کے درمیان ایک مبینہ خفیہ نیٹ ورک موجود تھا۔

رپورٹ کے مطابق ’’را‘‘ کی جانب سے بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں اور دہشتگردی کے لیے 78 لاکھ ڈالر کی مبینہ ادائیگی کی گئی، جبکہ فتنۃ الہندوستان سے وابستہ عناصر کو اسلحہ اور لاجسٹک معاونت فراہم کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ طالبان رہنما ملا ہبۃ اللہ کی جانب سے فتنۃ الہندوستان کے عناصر کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق ایک خط بھی مبینہ روابط کے ثبوت کے طور پر سامنے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق افغان سرزمین کو دہشتگرد عناصر کی مبینہ تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کے لیے استعمال کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *