Banner

ماحول کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، ایڈمرل نوید اشرف

Share

Share This Post

or copy the link


ماحول کا عالمی دن ہر سال 5 جون کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد ماحول کی حفاظت اوراس کی بقاء کے لیے اجتماعی کاوشوں کو متحرک کرنا اور عالمی سطح پر آگہی کا فروغ ہے۔ یہ ایک عالمی ذمہ داری ہے کہ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پر وگرام کے تحت بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بحرانوں کو روکا جائے۔ اس سال ماحول کے عالمی دن کا موضوع” موسمیاتی تبدیلی کے تدارک کے لیے عالمی پکار” ہے جو اس امر کی بر وقت یاد دہانی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی انسانوں کو درپیش دور حاضر کے سنگین مسائل میں سے ایک مسئلہ ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سطح سمندر میں اضافہ، پگھلتے ہوئے گلیشیئرز، شدید ترین سیلاب، سخت خشک سالی اور حداعتدال سے متجاوز موسمی صورت حال لاکھوں زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں اور ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات عالمی، علاقائی اور قومی سطح پر فوری، مربوط اوردیر پا اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ ماحولیاتی تحفظ اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ہمہ جہتی انداز میں معاشی استحکام، خوراک کے تحفظ، انسانی صحت اور پائیدار ترقی سے جُڑا ہوا ہے۔ لہٰذا، حکومتوں، اداروں، صنعتوں اور معاشروں کو مل کرایسے جدید اور قابل عمل حل کے لئے کام کرنا ہوگا جو ماحولیاتی تنزلی کو کم کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے استحکام کو فروغ دیں۔

درجہ بندی کرنے والے مختلف عالمی اداروں نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں اورآٹھویں درجے پر رکھا ہے۔ پاکستان کوشدید ترین ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں ساحل کا کٹاو، پانی کی قلت، آلودگی،ہولناک سیلاب، شدید گرمی اور خشک سالی شامل ہیں۔ اس ضمن میں قومی و سائل اور ماحولیاتی نظام کا تحفظ قومی فریضہ بن چکا ہے جس کی ادائیگی کے لیے قوم کا اجتماعی عزم اور فعال اقدامات نا گزیر ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی صرف کسی ایک ملک کو متاثر نہیں کرتی بلکہ یہ سرحدوں سے ماورا ہے اور خطوں کو متاثر کرتی ہے جو پوری دنیاکو متاثر کرنے کی استعداد رکھتی ہے۔ ترقی یافتہ اور ترقی پذیر اقوام کو ٹیکنالوجی، وسائل اور جدت پر مبنی حل کے باہمی تبادلے کے ذریعے مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات کو کم کیا جائے۔ عالمی ادارے، اسکولز اور معاشرے، سر سبز طرزِ زندگی اپنانے کے سلسلے میں لوگوں میں آگہی اور ترغیب کو فروغ دے سکتے ہیں۔

پاکستان نیوی ماحول کے تحفظ او رموسمیاتی استحکام کے لیئے کی جانے والی قومی کاوشوں میں بھر پور تعاون کے لیے پر عزم ہے۔ ملک کی بحری سرحدوں کی محافظ ہونے کے ناطے پاکستان نیوی بحری ماحول کے تحفظ اور دیر پا ماحولیاتی طرز عمل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جامع اقدامات اُٹھا رہی ہے۔ سمندر اور ساحل کی صفائی کی باقاعدہ مہمات، ماحول سے متعلق آگہی کے فروغ کی کاوشوں اور عوامی شرکت کے پروگرامز کے ذریعے پاکستان نیوی بحری آلودگی کو کم کرنے اور بحیرہ عرب بالخصوص قومی ساحلی پٹی کے حیاتیاتی توازن کی بقا میں سر گرم کردار ادا کر رہی ہے۔

پاکستان نیوی اپنی ماحولیاتی کاوشوں کے سلسلے میں پاکستان کے ساحلی علاقوں میں واقع مینگرووز کے جنگلات کے تحفظ اور بحالی پرخصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ مینگرووز کے جنگلات ساحلی آبادی کو ساحلی کٹاؤاور شدید موسم سے بچانے، سمندری حیاتیاتی تنوع کو سہارا دینے اور گلوبل وارمنگ میں حصہ ڈالنے والے کاربن کے اخراج کو جذب کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری اداروں کے تعاون سے پاکستان نیوی وسیع پیمانے پر مینگرووز شجر کاری مہمات اور ساحل کے تحفظ کے منصوبے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ماحولیاتی پائیداری اور موسمیاتی استحکام کو مضبوط بنایا جائے۔

اس اہم دن کے موقع پر میں تمام شہریوں، اداروں اور شراکت داروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ماحول دوست طرزِ زندگی اپنائیں اور کرۂ ارض کے تحفظ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ چھوٹے مگر بامعنی اقدامات، جیسے سمندروں میں کچرا پھینکنے کی حوصلہ شکنی، توانائی کا مؤثر استعمال، پلاسٹک آلودگی میں کمی، اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو فروغ دینا، نہایت مثبت اور دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ آئیے ہم سب اتحاد، ذمہ داری اور عزم کے ساتھ اس عالمی پکار پر لبیک کہیں تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرسبز، پائیدار اور خوشحال پاکستان کو یقینی بنایا جا سکے-

ماحول کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، ایڈمرل نوید اشرف

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us