Banner

شہید نواب یوسف عزیز مگسی کی شخصیت مولانا ظفر علی خان کی نظر میں!

Share

Share This Post

or copy the link

شہید نواب یوسف عزیز مگسی کی شخصیت
مولانا ظفر علی خان کی نظر میں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تم کو خفی عزیز ہے،
ہم کو جلی عزیز ہے

عارض کا گل تمہیں، ہمیں دل کی کلی عزیز ہے

لفظ بلوچ مہر و وفا کا کلام ہے
معنی ہے اس کلام کے،
یوسف علی عزیز ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(خصوصی تحریر: عبدالحمید مگسی)

بلوچ تاریخ کے دیومالائی کردار شہید نواب یوسف عزیز مگسی 1908ء میں مگسی قبیلے کے نواب قیصر خان کے گھر ضلع جھل مگسی میں پیدا ہوئے ذہین، دوراندیش اور بظاہر لبرل مزاج رکھنے والے نواب قیصر خان نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے جدید انداز اپنایا۔
شہید نواب یوسف عزیز مگسی کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں نواب یوسف عزیز مگسی جوکہ وہ مگسی قوم کی شان مگسی قوم کی پہچان ہیں آپ نے اپنے قوم کے لیے اپنی زندگی وقف کردی ان کی زبردست محنت سے ضلع جھل مگسی شہر میں تعلیم عام ہوا آ پ اپنی قوم سے بہت محبت کرتے تھے نواب یوسف عزیز مگسی آج بھی ہمارے مگسی قبائل کے دلوں میں زندہ ہیں۔

شہید نواب یوسف عزیز مگسی کو بائے بائے صحافت کا لقب بھی دیا جاتا ہے شہید نواب یوسف عزیز مگسی راسخ العقیدہ قسم کے انسان تھے قید و بند کی صعوبتیں، جرمانے اور قسم قسم کی مشکلات ان کے عزائم کو کمزور نہ کر سکیں مئی ۱۹۳۳ میں آپ نے “بلوچستان کی آواز” کے نام سے ایک پمفلٹ شائع کرا کے برطانوی پارلیمان لندن کو بھجوایا اور اپنے عوام کے مطالبات اور علاقائی مسائل کی خاطر بلوچستان کے تاریخ کا پہلا ” اخبار بلوچستان” بھی آپ ہی کی کوششوں سے وجود میں آیا اس کے بعد اعلیٰ الترتیب “البلوچ ” ” بلوچستان جدید ” ” ینگ بلوچستان ” نجات ” آزاد ” ہمدرد” زمینداران ” انقلاب” جاری ہوئے ان سب اخبارات کے بانی اعلیٰ آپ ہی تھے۔
ان اخبارات کا مرکز بلوچستان کا درالحکومت کوئٹہ، کراچی، لاہور اور دہلی تھا اور سرپرست شہید نواب یوسف عزیز مگسی ہی تھے۔ ان اخباروں کے ایڈیٹر میر محمد حسین عنقا تھے مذکورہ اخبار یکے بعد دیگرے ضبط ہوئے۔
شہید نواب یوسف عزیز مگسی وہ ایک ممتاز صحافی، ادیب، دانشور اور شاعر تھے انہوں نے مضامین ،آرٹیکلز اور اشعار مختلف رسائل ،جرائد اور انکے لکھے مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں اس کے علاوہ مختلف سیمینارز ، مجالس ،علمی ادبی اور سیاسی پروگرامز میں وہ اظہار خیال بھی کرتے رہتے ہیں شہید نواب یوسف عزیز مگسی کو آج مگسی قبائل سمیت بلوچ قوم اپنے اس عظیم قومی رہنما، مفکر، مصلح اور تعلیم دوست شخصیت کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے ان کا نام تاریخ کے صفحات میں ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد کیا جاتا رہے گا۔
رہبر بلوچ قوم شہید نواب یوسف عزیز مگسی کو آج انکی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوۓ شہید نواب یوسف عزیز مگسی بلوچ قوم کی تاریخ کا ایک ایسا روشن اور تابناک باب ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی بلوچ اپنے عوام کی خدمت، سیاسی، سماجی، تعلیمی اور قومی بیداری کے لیے وقف کر دی وہ محض ایک سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ ایک نظریہ، ایک فکر اور ایک ایسی تحریک تھے جس کے اثرات آج بھی مگسی قبائل اور بلوچ قومی سیاست اور اجتماعی شعور میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں ان کی جدوجہد، قربانیاں اور خدمات مگسی قبائل اور بلوچ قوم کے لیے ایک عظیم سرمایہ ہیں جنہیں تاریخ ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھے گی۔
شہید نواب یوسف عزیز مگسی وہ واحد بلوچ رہنماء تھے جنہوں نے دو مرتبہ آل انڈیا بلوچ کانفرنس کا انعقاد کرکے پوری دنیا میں آباد بلوچوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی تاریخی کوشش کی جوکہ ایک تاریخی اعلیٰ مقام حاصل کیا آج تک ایسا کسی لیڈر نے یہ مرتبہ حاصل نہیں کیا ہے۔
برطانوی سامراج کے دور میں شہید نواب یوسف عزیز مگسی نے ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف بھرپور آواز بلند کی۔
شہید نواب یوسف عزیز مگسی کی تعلیم کے میدان میں ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں انہوں نے بہت پہلے یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا راز تعلیم میں پوشیدہ ہے اسی سوچ کے تحت انہوں نے اپنے ذاتی خرچ سے ضلع جھل مگسی میں تعلیمی ادارے قائم کیے جامعہ یوسفیہ آج بھی ان کی علم دوستی، قوم دوستی اور دور اندیشی کی زندہ علامت کے طور پر موجود ہے انہوں نے بے شمار غریب اور نادار طلبہ کی مالی معاونت کی انہیں تعلیم کے مواقع فراہم کیے اور اپنے وسائل سے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں مدد دی ان کا خواب ایک تعلیم یافتہ، باشعور اور ترقی یافتہ بلوچ معاشرہ تھا۔

31 مئی 1935ء کو کوئٹہ میں آنے والے ہولناک زلزلے نے بلوچستان کی تاریخ کو ہمیشہ کیلئے سوگوار کر دیا اور اسی سانحے میں بلوچ قوم اپنے اس عظیم فرزند سے محروم ہوگئی شہید نواب یوسف عزیز مگسی جسمانی طور پر ضرور ہم سے جدا ہوگئے، لیکن ان کے افکار، نظریات، جدوجہد اور قربانیاں آج بھی مگسی قبائل اور بلوچ قوم کے دلوں میں زندہ ہیں ان کا نام مگسی قبائل اور بلوچ قوم میں آج بھی نہایت ادب و احترام لیا جاتا ہے اور انہیں ہمیشہ سنہرے لفظوں سے یاد کیا جائے گا وہ قومی تحریک کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا اور ان کی خدمات نسل در نسل مگسی قبائل اور بلوچ نوجوانوں کو اپنی قوم کی ترقی، تعلیم، اتحاد اور حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کرنے کی ترغیب دیتی رہیں گی آج 31 مئی ہے انکے برسی کا دن ہے جو پاکستان بھر کے تمام مگسی قبائل اپنے نہایت ہی مشعل راہ روشن باپ بلند و بالا ایک بہت ہی عظیم قداور قائد شہید نواب یوسف عزیز مگسی کی برسی جو نہایت جوش خزبے کے ساتھ عقیدت و احترام پروقار عالیشان انداز ملک بھر میں منایا جا رہا ہے انکے برسی کے موقع پر پاکستان بھر کے تمام مگسی اقوام نے اس موقع پر باالخصوص حکومت بلوچستان سے خصوصی اپیل کی گئی ہے بلوچستان کے اس عظیم و بلند و بالا قداور شخصیت شہید نواب یوسف عزیز مگسی کے نام سے کوئٹہ درالحکومت میں کوئی سڑک، کوئی یونیورسٹی، کوئی ہسپتال، کوئی پارک منسوب کی جائے اور بلوچستان ٹیکسٹ بورڈ پرائمری اسکول کے بچوں کے درسی کتاب میں انکی روشن خیال تعریف بیان کی جائے۔

 

شہید نواب یوسف عزیز مگسی کی شخصیت مولانا ظفر علی خان کی نظر میں!

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us