Banner

انسانیت کا زوال، اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اور عالمی خونی منظر

Share

Share This Post

or copy the link

انسانیت کا زوال، اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اور عالمی خونی منظر
قارئین صحافت ۔ بیسویں صدی کے وسط میں جب جنگِ عظیم دوم کی خاکستر سے اقوام متحدہ کا وجود عمل میں آیا، تو دنیا نے یہ امید وابستہ کی تھی کہ اب طاقت کا وحشیانہ استعمال تھم جائے گا اور کمزور اقوام کو جابروں کے تسلط سے نجات ملے گی۔ لیکن اکیسویں صدی کا موجودہ عالمی منظر اس خواب کی بدترین تعبیر بن کر ابھرا ہے، جہاں انسانیت سسک رہی ہے اور بین الاقوامی ادارے مصلحتوں کے دبیز پردوں میں چھپ کر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقتور ممالک کے مفادات کا ٹکراؤ ہوا ہے، عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے چارٹر محض ردی کا ٹکڑا بن کر رہ گئے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ سے لے کر جنوبی ایشیا تک، ہر سو بہتا ہوا معصوم خون اس عالمی نظام کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے جو خود کو امن کا علمبردار کہتا ہے۔
اس وقت دنیا کا سب سے بڑا اور جگر سوز المیہ فلسطین کی سرزمین پر برپا ہے۔ فلسطینی عوام کی نسل کشی کا جو سلسلہ دہائیوں سے جاری تھا، اب وہ اپنے ہولناک ترین انجام کو چھو رہا ہے۔ غزہ ایک بہت بڑے مقتل میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہسپتال، اسکول اور پناہ گزینوں کے کیمپ بھی بمباری سے محفوظ نہیں ہیں۔ بچوں کی کٹی پھٹی لاشیں اور ماؤں کی فلک شگاف آہ و بکا عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں، مگر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں چند بڑی طاقتوں کا حقِ استرداد (Veto Power) ہر اس قرارداد کا گلا گھونٹ دیتا ہے جو اس جارحیت کو روکنے کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ یہ محض سیاسی ناکامی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن ہے، جہاں انسانی جانوں کی قیمت کو جغرافیائی اور سیاسی مفادات کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ تاریخ کا یہ کیسا جبر ہے کہ جس قوم کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور کیا گیا ہے، اسی کو دہشت گرد قرار دے کر اس کا نام و نشان مٹانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کا پورا خطہ اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہے اور مختلف ممالک میں جاری خونی تصادم اور جنگی مناظر دلوں کو دہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ شام، یمن، اور لیبیا جیسے ممالک جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھے، آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان جنگوں کے پیچھے کارفرما سامراجی قوتیں اور ان کے مقامی مہرے اپنے اقتدار اور اسلحے کی تجارت کو چمکانے کے لیے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں۔ لاکھوں لوگ ہجرت پر مجبور ہو کر سمندروں کی بے رحم لہروں اور پناہ گزین کیمپوں کی ذلت آمیز زندگی کی نذر ہو رہے ہیں۔ اقوام متحدہ ان تمام مناظر کو دیکھ کر صرف “تشویش” کا اظہار کرتی ہے، جو کہ اس کے اپنے چارٹر کی دفعہ ۱ اور ۲ کی صریح خلاف ورزی ہے، جن کا مقصد عالمی امن کا قیام اور جارحیت کا تدارک تھا۔
دوسری جانب، پاکستان کا صوبہ بلوچستان بھی ایک طویل عرصے سے بدامنی اور بیرونی سازشوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ وہاں ہونے والے خوفناک اور دل دہلا دینے والے دھماکے، جن میں معصوم شہریوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مزدوروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، انسانیت کے خلاف بدترین جرائم ہیں۔ بلوچستان کی دھرتی کو لہولہان کرنے کے پیچھے وہ عالمی اور علاقائی قوتیں ہیں جو پاکستان کی معاشی ترقی اور استحکام کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں۔ ان بزدلانہ کارروائیوں کے نتیجے میں گرنے والا ہر قطرۂ خون ایک نئی داستانِ غم رقم کرتا ہے، جس سے ہزاروں خاندان ملیا میٹ ہو جاتے ہیں۔ لیکن عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس خطے میں ہونے والی دہشت گردی اور اس کے بیرونی تانے بانے پر مجرمانہ چشم پوشی کا مظاہرہ کرتی ہیں، جو ان کے دہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔
حق اور سچ کی بنیاد پر اگر تجزیہ کیا جائے تو اقوام متحدہ کی یہ خاموشی دراصل اس کی بے بسی نہیں بلکہ اس ڈھانچے کا موروثی نقص ہے جسے طاقتور ممالک نے اپنے تحفظ کے لیے ڈیزائن کیا تھا۔ جب تک دنیا میں ‘جس کی لاٹھی اس کی بھینس’ کا قانون رائج رہے گا، تب تک کمزور اقوام اسی طرح ظلم کی چکی میں پستی رہیں گی۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جو معاشرے اور ادارے ظلم پر خاموش رہتے ہیں، وہ بالآخر خود بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ اگر آج عالمی برادری نے بیدار ہو کر اس جاری نسل کشی، جنگی جنون اور دہشت گردی کے خلاف کوئی ٹھوس اور غیر جانبدارانہ اقدام نہ اٹھایا، تو تاریخ کے صفحات پر اس دور کو انسانیت کے زوال کا سیاہ ترین باب لکھا جائے گا، جہاں انسان تو موجود تھے مگر انسانیت دم توڑ چکی تھی۔

انسانیت کا زوال، اقوام متحدہ کی مجرمانہ خاموشی اور عالمی خونی منظر

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us