Banner

ووٹ کی عزت یا عوامی اذیت

Share

Share This Post

or copy the link

ووٹ کی عزت یا عوامی اذیت
کورنگی کا مقدمہ کون لڑے گا
تحریر محمد عُبیدالله میرانی

کورنگی کے شہری روزانہ جس اذیت سے گزر رہے ہیں وہ سندھ اسمبلی کے ریکارڈ اور ایوان کی بحثوں میں نمایاں طور پر دکھائی نہیں دیتی یہی بنیادی تضاد اس پورے بحران کو مزید سنگین بنا دیتا ہے کراچی کے صنعتی ضلع کورنگی میں زندگی ایک مسلسل آزمائش بنتی جا رہی ہے جہاں ٹوٹی ہوئی سڑکیں ابلتا ہوا سیوریج پینے کے پانی کی قلت ناقص صفائی اور بڑھتا ہوا اسٹریٹ کرائم شہریوں کے لیے مستقل عذاب بن چکا ہے بارشوں کے دوران صورتحال مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب نکاسی آب کا ناقص نظام گلیوں اور سڑکوں کو تالاب میں تبدیل کر دیتا ہے ہر سال محکمہ موسمیات کی جانب سے بارشوں کی پیشگوئیاں سامنے آتی ہیں مگر پیشگی انتظامات نہ ہونے کے باعث شہری جانی مالی اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں سوال یہ ہے کہ یہ تمام زمینی حقائق اقتدار کے ایوانوں تک اسی شدت کے ساتھ کیوں نہیں پہنچ پاتے جس شدت سے عوام انہیں روز جھیل رہے ہیں کورنگی سے قومی اسمبلی میں تین نمائندے موجود ہیں حلقہ دو سو بتیس سے آسیہ اسحاق صدیقی حلقہ دو سو تینتیس سے محمد جاوید حنیف خان اور حلقہ دو سو چونتیس سے محمد معین عامر پیرزادہ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہیں اسی ضلع سے صوبائی اسمبلی میں سات ارکان موجود ہیں جن میں شارق جمال محمد فاروق فرہان واجد حسین خان ساجد حسین میر محمد فاروق اعوان محمد اویس نجم مرزا شامل ہیں یہ تمام نمائندے کورنگی کے مختلف علاقوں کی نمائندگی کرتے ہیں مگر شہریوں کے مطابق بنیادی مسائل میں بہتری کی رفتار انتہائی سُست ہے کورنگی کے مختلف علاقوں میں صورتحال اپنی جگہ ایک الگ داستان ہے کہیں سیوریج ابل رہا ہے تو کہیں سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں شاہ فیصل گرین ٹاؤن لانڈھی مہران ٹاؤن اور کورنگی کے مختلف سیکٹرز میں شہری بنیادی سہولیات کے لیے آج بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں جبکہ اسٹریٹ کرائم اور لوٹ مار کی بڑھتی وارداتوں نے شہریوں کے احساس تحفظ کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے یہ مسائل صرف قومی اور صوبائی نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ بلدیاتی نظام پر بھی بڑے سوالات کھڑے کرتے ہیں اس ضلع میں چار ٹاؤن چیئرمینز اور ایک سو سینتیس یونین کونسلرز موجود ہیں جن کی بنیادی ذمہ داری صفائی ستھرائی سیوریج سڑکوں کی مرمت اور مقامی مسائل کا حل ہے مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہری آج بھی انہی بنیادی مسائل کے گرد گھوم رہے ہیں کورنگی ٹاؤن کے چیئرمین محمد نعیم شیخ لانڈھی ٹاؤن کے چیئرمین عبدالجمیل خان ماڈل کالونی ٹاؤن کے چیئرمین ظفر احمد خان اور شاہ فیصل ٹاؤن کے چیئرمین گوہر علی خٹک یہ نام اس لیے اہم ہیں کہ شہری حلقے ان سے براہ راست بلدیاتی بہتری کی توقع رکھتے ہیں مگر زمینی صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی شہری حلقے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ کراچی میں مختلف ادوار میں ایم کیو ایم پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں طویل عرصے تک اقتدار اور اثر و رسوخ رکھتی رہی ہیں مگر اس کے باوجود کورنگی جیسے بڑے صنعتی اور رہائشی ضلع کی بنیادی حالت میں کوئی واضح تبدیلی کیوں نہیں آ سکی سیاسی و مالیاتی مبصرین کے مطابق عوامی نمائندوں کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے سالانہ کروڑوں روپے کے فنڈز اور سرکاری وسائل فراہم کیے جاتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ ان فنڈز کے اثرات زمین پر کیوں دکھائی نہیں دیتے میں خود کورنگی پریس کلب کے پلیٹ فارم سے بطور صحافی بارہا ان مسائل کی نشاندہی کرتا رہا ہوں مگر عملی سطح پر مستقل اور مؤثر ردعمل دکھائی نہیں دیتا کورنگی کا مسئلہ اب صرف انفراسٹرکچر کا نہیں رہا بلکہ یہ نمائندگی جوابدہی اور سیاسی سنجیدگی کا سوال بن چکا ہے کورنگی کے عوام اب وعدے نہیں جواب مانگ رہے ہیں کیونکہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں خاموش نالے اور اندھیرے میں ڈوبی گلیاں اب صرف شہری مسائل نہیں بلکہ سیاسی بے حسی کی علامت بن چکی ہیں سوال صرف یہ نہیں کہ عوام کب تک مشکلات برداشت کریں گے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے نمائندے آخر کب کورنگی کے عوام کا مقدمہ لڑیں گے

ووٹ کی عزت یا عوامی اذیت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us