Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کَیس لاہور میں ایران، اسرائیل اور امریکا تنازع پر سیمینار، ماہرین نے جنگ کے نئے محاذوں کا جائزہ لیاکشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رہے گی، میر شعیب نوشیروانیمسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، نسیم الرحمن ملاخیلاہلِ بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی حمایت جاری رکھیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانشخصیت نہیں اصول بڑے ہوتے ہیںاقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جائے،اکرام الدینکیو۔ڈی۔ اے میں پہلی خاتون ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ و بلڈنگ کنٹرول کی تعیناتیٹرانسپورٹرز کا جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کا اعلانآئین کی بالادستی، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، مولانا عبد الرحمن رفیقبلوچستان فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن، 2 یونٹس سیل، 20 سے زائد مراکز پر جرمانےکَیس لاہور میں ایران، اسرائیل اور امریکا تنازع پر سیمینار، ماہرین نے جنگ کے نئے محاذوں کا جائزہ لیاکشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رہے گی، میر شعیب نوشیروانیمسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، نسیم الرحمن ملاخیلاہلِ بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کی حمایت جاری رکھیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستانشخصیت نہیں اصول بڑے ہوتے ہیںاقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دیا جائے،اکرام الدینکیو۔ڈی۔ اے میں پہلی خاتون ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ و بلڈنگ کنٹرول کی تعیناتیٹرانسپورٹرز کا جماعت اسلامی کے احتجاج کی حمایت کا اعلانآئین کی بالادستی، جمہوریت اور عوامی حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد جاری رکھیں گے، مولانا عبد الرحمن رفیقبلوچستان فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں کریک ڈاؤن، 2 یونٹس سیل، 20 سے زائد مراکز پر جرمانے

کَیس لاہور میں ایران، اسرائیل اور امریکا تنازع پر سیمینار، ماہرین نے جنگ کے نئے محاذوں کا جائزہ لیا

سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (کَیس) لاہور نے ۵ اگست ۲۰۲۶ کو “ایک تنازع، تین محاذ، ایران، اسرائیل اور امریکا کے تنازع سے فضائی، جغرافیائی سیاسی اور ادراکی میدانوں کے اسباق” کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں ماہرین تعلیم، دانشوروں، حاضر سروس و ریٹائرڈ افسران اور ماہرین نے شرکت کی۔ سیمینار کا افتتاحی خطاب محترمہ نداء شاہد، ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ، کَیس لاہور نے کیا۔

پہلے مقرر، ایئر مارشل عبدالمعید خان (ر)، وائس چانسلر ایئر یونیورسٹی، نے تنازع سے حاصل ہونے والے فضائی اور عسکری آپریشنز سے متعلق اہم اسباق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈرونز، میزائلوں اور منتشر فضائی دفاعی نظام جیسی غیر متوازن عسکری صلاحیتیں، مصنوعی ذہانت، کمرشل ٹیکنالوجی اور باہم مربوط سینسرز کے ساتھ مل کر فضائی جنگ کے مستقبل کو تبدیل کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم بلندی والے فضائی علاقے، جسے “ایئر لیٹورل” کہا جاتا ہے، کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جسے ایران نے اس تنازع کے دوران مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ مستقبل کی جنگوں میں عملی استعداد برقرار رکھنے کے لیے جدت، حالات سے مطابقت پیدا کرنے کی صلاحیت اور مقامی سطح پر ٹیکنالوجی کی ترقی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔

دوسرے مقرر، جناب آصف علی درانی (ر)، پاکستان کے سابق سفیر برائے ایران، نے تنازع کے جغرافیائی سیاسی پہلوؤں اور اس سے حاصل ہونے والے اسباق پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا امن صرف عسکری طاقت کے ذریعے قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے واضح سیاسی مقاصد، مؤثر سفارت کاری اور دانشمندانہ جغرافیائی سیاسی حکمت عملی ناگزیر ہے۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز میں ایران کی کارروائیوں کے تناظر میں توانائی کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بیرونی سلامتی کی ضمانتوں کی ناپائیداری کی طرف بھی توجہ دلائی اور علاقائی سلامتی کے مضبوط نظام اور اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

تیسرے مقرر، جناب فہد حسین، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایکسپریس ۲۴/۷ ٹی وی، نے تنازع کے ادراکی محاذ سے متعلق اہم نکات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان یہ تنازع صرف میدان جنگ تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ بیک وقت جسمانی اور ادراکی دونوں محاذوں پر لڑا گیا، جس میں معلومات پر برتری فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد، سوشل میڈیا، اوپن سورس انٹیلی جنس، کمرشل سیٹلائٹ تصاویر اور عام شہریوں کی جانب سے اسمارٹ فونز کے بڑھتے ہوئے استعمال نے معلوماتی ماحول کو یکسر تبدیل کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی رائے جدید جنگوں میں ایک اہم تزویراتی مرکز بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں عسکری کامیابی کا انحصار فوجی کارروائیوں اور ادراکی جنگ کے مؤثر امتزاج پر ہوگا۔

اختتامی کلمات میں ایئر مارشل عاصم سلیمان (ر)، صدر، کَیس لاہور، نے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کا تنازع اکیسویں صدی میں جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت کی ایک نمایاں مثال بن کر سامنے آیا ہے، جس نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عسکری سوچ پر قائم کئی روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کامیابی کا دار و مدار عسکری صلاحیت، انٹیلی جنس، ٹیکنالوجی، عسکری ڈاکٹرائن اور دفاعی صنعت کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنے، اور سفارت کاری، تزویراتی ابلاغ اور معلوماتی حکمت عملی کو قومی پالیسی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر ہے۔ انہوں نے معرکۂ حق کے دوران پاکستان کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابی فضائی قوت، انٹیلی جنس، الیکٹرانک جنگ، درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور تزویراتی ابلاغ کو ایک مربوط کثیر الجہتی مہم کے طور پر بروئے کار لانے کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی مؤثر قیادت، ذاتی شمولیت اور اختراعی سوچ ۲۰۲۵ کی جنگ میں پاکستان کی کامیابی کا ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوئی۔

سیمینار کا اختتام ایک بھرپور سوال و جواب کے سیشن پر ہوا، جس میں شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اکیسویں صدی کے پیچیدہ سلامتی کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے، قومی استحکام کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے تکنیکی جدت، تزویراتی ابلاغ اور مقامی صلاحیتوں کی ترقی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *