Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافاسلام آباد،ایم ساجد عباسی چئیرمین مارکیٹ کمیٹی اسلام آبادکا فروٹ وسبزی منڈی کے آڑھتیوں کے ساتھ اہم اجلاس منعقدجمعیت بلوچستان میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی،مولانا فضل الرحمانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کے لیے فیس اور لائسنس شرط ختم کرنے سے متعلق اہم پیشرفت

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے نیپرا سے 25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کے لیے فیس اور لائسنس کی شرط ختم کرنے کے لیے باضابطہ نظرثانی کی درخواست کر دی ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق 2015 کے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر سسٹمز کے لیے نیپرا لائسنس درکار نہیں تھا اور درخواستیں تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے بغیر کسی فیس کے پراسیس کی جاتی تھیں۔ تاہم نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت چھوٹے صارفین کے لیے بھی منظوری کا اختیار نیپرا کو دے دیا گیا اور درخواست فیس عائد کر دی گئی۔

ادارے کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے گھریلو صارفین کے لیے غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں، جس سے قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاور ڈویژن نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم کے سولر سسٹمز کے لیے پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے تاکہ صارفین کو سہولت فراہم ہو اور صاف توانائی کے استعمال کو فروغ مل سکے۔

دوسری جانب پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چھوٹے سولر نظاموں کے لیے سابقہ منظوری نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔

عوامی سماعت کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن، پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی ان تبدیلیوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں سے اختیارات واپس لینے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *