Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئیحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور فاؤنڈیشن یونیورسٹی اسلام آباد کے درمیان تعلیمی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخطورکرز کو عالمی معیار کی طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، چوہدری سالک حسینبلوچستان میں امن و امان کے لیے مؤثر اقدامات جاری ہیں،بابر یوسفزئی

بلوچستان اسمبلی قائمہ کمیٹی نے تین اہم بلز کی منظوری کیلئے سفارشات ایوان کو بھجوا دیں، چیئرمین ظفر علی آغا

بلوچستان صوبائی اسمبلی کے کمیٹی روم میں قائمہ کمیٹی برائے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور قانون و پارلیمانی امور کا اجلاس چیئرمین ظفر علی آغا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں رکن اسمبلی شاہدہ رو¿ف، ہادیہ نواز، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، اسپیشل سیکرٹری اسمبلی عبدالرحمن، ایڈیشنل سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی نور حسین بلوچ، محکمہ قانون و پارلیمانی امور کے ڈپٹی سیکرٹری احسان برکت اور منصورالحق نے شرکت کی۔اجلاس میں تین اہم بلز زیر غور آئے جنہیں تفصیلی بحث کے بعد حتمی سفارشات کے ساتھ ایوان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پہلا بل: بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (ترمیمی) بل 2025کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی ایکٹ 2010 پہلے سے نافذ العمل ہے، تاہم اکیڈمی کے بورڈ آف گورنرز کے 14 نومبر 2018 کے اجلاس میں موجودہ تقاضوں کے مطابق تربیتی نظام اور دائرہ کار کو بہتر بنانے کے لیے اس میں ترامیم کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔اس ضمن میں تشکیل دی گئی ذیلی کمیٹی نے متعدد اجلاسوں کے بعد “بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی (ترمیمی) ایکٹ 2024” کا مسودہ تیار کیا، جسے محکمہ قانون و پارلیمانی امور سے ویٹنگ کے بعد 9 اگست 2024 کو صوبائی کابینہ نے منظور کیا۔کمیٹی نے اس بل کا جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات منظوری کے لیے ایوان کو ارسال کر دیں۔دوسرا بل: بلوچستان پبلک سروس کمیشن (ترمیمی) بل 2026کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا کہ بلوچستان پبلک سروس کمیشن ایکٹ 1989 میں چیئرمین کے عہدے پر دوبارہ تعیناتی کی کوئی شق موجود نہیں۔ اس قانونی خلا کو پ±ر کرنے کے لیے گورنر بلوچستان نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 128(1) کے تحت 3 فروری 2026 کو ایک آرڈیننس جاری کیا۔مذکورہ آرڈیننس کو آئینی تقاضوں کے مطابق “بلوچستان پبلک سروس کمیشن (ترمیمی) بل 2026” کی صورت میں صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کر کے ایوان کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔تیسرا بل: دیوانی ضابطہ کار (بلوچستان ترمیمی) بل 2026کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ عدالتی نظام غیر ضروری اور تاخیری مقدمات کے باعث دباو کا شکار ہے۔ مجوزہ بل میں دیوانی ضابطہ کار 1908 میں ترامیم کے تحت غیر ضروری التوا کو محدود کرنے، بدنیتی پر مبنی مقدمات میں اخراجات عائد کرنے اور حقیقی فریقین کو ریلیف دینے سے متعلق اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔اجلاس کے اختتام پر کمیٹی نے تینوں بلز پر اپنی سفارشات مرتب کر کے منظوری کے لیے بلوچستان صوبائی اسمبلی میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *