Banner

چائے کی بھاپ میں لکھا ہوا عہد پاک ٹی ہاؤس کی داستانِ جاوداں

featured
Share

Share This Post

or copy the link

لاہور کی دھڑکن اگر کسی ایک گوشے میں سب سے زیادہ سنی گئی تو وہ مال روڈ پر واقع “پاک ٹی ہاؤس” ہے۔ جو صرف ایک چائے خانہ نہیں، بلکہ لفظوں، خیالوں، بحثوں، خوابوں اور تہذیبی یادوں کا وہ روشن چراغ ہے جس کی لٙو نے نصف صدی تک اردو ادب کے آسمان کو منور کیئے رکھا۔ انارکلی بازار اور نیلا گنبد کے قریب قائم یہ تاریخی مقام وقت کے ساتھ ساتھ ایک عمارت سے بڑھ کر ایک علامت بن گیا؛ ایسی علامت جو تخلیق، رفاقت، تنقید، مکالمے اور فکری بیداری کی نمائندہ تھی۔میں ممنونِ احسان ہوں ممتاز سیاسی ، ادبی ، سماجی سائنسدان شہزادہ عالمگیر کا ، جنہوں نے پرانی صحبتوں کو کریدنے اور ادبی مشاہیر کی یادوں کے چراغوں کی لو کو تیز تر کرنے کی تحریک دی اور حکم فرمایا کہ موجودہ پاک ٹی ہاؤس کی حالتِ زار کی کیا صورتِ حال ہے ۔ تو میں انہیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کر رہا ہوں ۔ وہ ادیبوں، شاعروں، انشاء پردازوں اور فنونِ لطیفہ کی ہر اصناف سے انصاف کرنے والوں کے مدح ہیں ۔ شہزادہ عالمگیر صاحب
اس کہانی کا آغاز 1940ء میں ہوتا ہے، جب ایک سکھ بوٹا سنگھ نے اسے “انڈیا ٹی ہاؤس” کے نام سے شروع کیا۔ 1940ء سے 1944ء تک اس نے اس چائے خانے اور ہوٹل کو چلانے کی کوشش کی، مگر کاروبار وہ جڑ نہ پکڑ سکا جس کی اسے ضرورت تھی۔ پھر ایک دن قسمت نے اپنا رخ بدلا۔ گورنمنٹ کالج کے دو سکھ طالب علم بھائی، سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا، جو اپنے دوستوں کے ساتھ اکثر وہاں چائے پینے آتے تھے، بوٹا سنگھ سے باتوں ہی باتوں میں اس جگہ کے نئے وارث بن گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ایک عام چائے خانہ ایک عظیم ادبی تاریخ کی تمہید بننے لگا۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ جگہ ایک نئے عہد میں داخل ہوئی۔ حافظ رحیم بخش صاحب جالندھر سے ہجرت کر کے لاہور آئے تو انہیں یہی چائے خانہ 79 روپے ماہانہ کرایہ پر ملا۔ نام ابھی تک “انڈیا ٹی ہاؤس” ہی تھا، مگر وقت کے بدلتے رنگ نے لفظوں کی تقدیر بھی بدل دی؛ “انڈیا” کاٹ کر اس کی جگہ “پاک” لکھ دیا گیا۔ یوں ایک لفظی تبدیلی نے ایک تاریخی تہذیبی تبدیلی کی سند مہیا کر دی۔ دبلا پتلا بدن، دراز قد، آنکھوں میں ذہانت کی چمک، سادہ لباس اور کم گو طبیعت—حافظ رحیم بخش کی شخصیت میں وہ وقار تھا جو پرانے دلی اور لکھنؤ کے وضع دار بزرگوں کی یاد تازہ کر دیتا تھا۔ بعد میں ان کے دو بڑے بیٹے، علیم الدین اور سراج الدین، اس وراثت کے امین بنے اور پاک ٹی ہاؤس کی گدی سنبھالی۔
جس زمانے میں لاہور کے ادبی منظرنامے پر حلقہ اربابِ ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنفین کی بازگشت سنائی دیتی تھی، اسی زمانے میں پاک ٹی ہاؤس اہلِ قلم کا محبوب ترین ٹھکانہ تھا۔ صبح سے رات تک یہاں محفلیں بچھتی رہتیں، مکالمے پھوٹتے، اختلافات تخلیقی رنگ اختیار کرتے اور فضا میں سگریٹ، چائے، قہوے اور تازہ خیالوں کی ملی جلی خوشبو تیرتی رہتی۔ اتوار کے دن تو گویا یہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتی۔ جو آتا، کسی نہ کسی دوست کے ساتھ بیٹھ جاتا؛ کرسی میسر نہ ہوتی تو فرشِ ادب پر بیٹھ کر گفتگو کا حصہ بن جاتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علم کا بازار نہیں، علم کی نشست ہوا کرتی تھی۔
پاک ٹی ہاؤس کی ایک بڑی خوبی اس کی معاشی سادگی تھی۔ یہاں بیٹھنے والے اکثر ادیب اور شاعر مستقل آمدن سے محروم تھے۔ کسی رسالے میں غزل، نظم یا افسانہ چھپ جاتا تو پندرہ بیس روپے مل جاتے، مگر ان کم آمدن دنوں میں بھی کسی کے لب پر شکایت نہ آتی۔ دوست کی جیب خالی ہو تو بھی چائے اور سگریٹ سے محرومی نہ ہونے پاتی۔ جس کے پاس پیسے ہوتے، وہ میز پر رکھ دیتا؛ جس کی جیب خالی ہوتی، علیم الدین صاحب اس سے فراخ دلی سے پیش آتے۔ یہی سخاوت، یہی بے لوثی اور یہی باہمی اعتبار پاک ٹی ہاؤس کی اصل روح تھی۔ وہ صرف چائے بیچنے کی جگہ نہ تھی، وہ احساس بانٹنے کی جگہ تھی۔ شہزادہ عالمگیر امیر لڑکا تھا ۔ وہ فوکسی گاڑی پر آتا اور شاعروں ، ادیبوں اور دانشوروں کی بڑی قدر کرتا تھا اور چائے کے بل ادا کرنے میں سبقت لے جانا شہزادہ عالمگیر کی سرشت میں تھا ۔ اس چائے خانے کا ماحول بھی اپنی مثال آپ تھا۔ نائیلون والا چمکیلا فرش، چوکور سفید پتھر کی میزیں، دیوار پر آویزاں قائدِ اعظم کی تصویر، گیلری کو جاتی ہوئی سیڑھیاں، اور بازار کی طرف کھلتی لمبی شیشے دار کھڑکیاں—یہ سب مل کر ایک ایسا منظر بناتے تھے جیسے شہر کے بیچوں بیچ ادبی روشنی کا ایک چھوٹا سا آسمان اتر آیا ہو۔ گرمیوں کی شاموں میں جب کھڑکیاں کھول دی جاتیں تو باہر کے درختوں کا عکس بھی اندر آجاتا۔ دوپہر کی دھوپ شیشوں سے گزر کر گلابی روشنی میں بدلتی تو یوں لگتا جیسے وقت خود اس جگہ کو برکت دے رہا ہو۔ کاؤنٹر پر مسکراتا ہوا علیم الدین، بل کاٹتے وقت کہیں دھیمے سروں میں بجتا ریڈیو، کیپسٹن سگریٹ اور سگار کا بٙل کھاتا ہوا دھنواں، سنہری چائے، قہوہ اور فروٹ کیک کی خوشبو—یہ سب مل کر پاک ٹی ہاؤس کو ایک حسی تجربہ بنا دیتے تھے، محض جگہ نہیں۔
اسی فضا میں ہجرت کر کے آنے والوں کو بھی پناہ ملی۔ کسی نے کہا کہ میں انبالے سے آیا ہوں، میرا نام ناصر کاظمی ہے۔ کسی نے کہا کہ میں گڑھ مکتسر سے آیا ہوں، میرا نام اشفاق احمد ہے۔ کسی نے خود کو ابنِ انشاء کہا اور لاہور سے نسبت جوڑ لی۔ یوں لگا جیسے اجنبیت کے صحراؤں سے آنے والی روحوں نے اس چائے خانے میں اپنی منزل پا لی ہو۔ پاک ٹی ہاؤس نے انہیں صرف بیٹھنے کی جگہ نہیں دی بلکہ ایک ایسا مرکز عطا کیا جہاں ان کی تخلیقی شناختیں نکھر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناصر کاظمی کی غزلیں، اشفاق احمد کی تحریریں، اور دوسرے بے شمار اہلِ قلم کے فکری کارنامے اسی زمانے کی محفلوں میں سانس لیتے رہے۔
صبح آٹھ بجے کی خاموش ساعتوں سے لے کر رات کی آخری گفتگو تک، پاک ٹی ہاؤس ایک مسلسل تخلیقی سفر تھا۔ ناصر کاظمی سگریٹ انگلیوں میں دبائے، ہلکی سی بے نیازی اور اندرونی اداسی کے ساتھ داخل ہوتے؛ اشفاق احمد سائیکل پر آتے؛ شہزادہ عالمگیر فوکسی پر آتے ، پھر رفتہ رفتہ محفل جمتے جمتے اس درجے پہنچتی کہ وقت اپنی رفتار بھول جاتا۔ دائیں جانب شیشے کی دیوار کے ساتھ صوفہ، سامنے لمبی میز، اور اس کے گرد گرد بیٹھے ہوئے اہلِ فکر—یہ سب مل کر ایک ایسا منظر تشکیل دیتے جو کسی درسگاہ، کسی خانقاہ اور کسی ادبی عدالت کا مجموعہ معلوم ہوتا تھا۔ ناصر کاظمی، انتظار حسین، سجاد باقر رضوی، پروفیسر سید سجاد رضوی، قیوم نظر، شہرت بخاری، انجم رومانی، امجد الطاف امجد، احمد مشتاق، مبارک احمد، اے حمید، انور جلال شمزہ، عباس احمد عباسی، ہیرو حبیب، سلو، شجاع، ڈاکٹر ضیاء، ڈاکٹر عبادت بریلوی، سید وقار عظیم اور بہت سے دوسرے اہلِ قلم نے اس فضا کو اپنی موجودگی سے روشن رکھا۔
یہ محفلیں صرف چائے نوشی تک محدود نہ تھیں، بلکہ ادب کی باقاعدہ تربیت گاہ تھیں۔ یہاں شعر و ادب پر بحثیں ہوتیں، تنقید اپنے حسن کے ساتھ سامنے آتی، اختلافات تہذیب سے نبھائے جاتے، اور تخلیق کا سفر مکالمے کے ذریعے آگے بڑھتا۔ یہی وہ ماحول تھا جس میں سعادت حسن منٹو، فیض احمد فیض، اے حمید، ابنِ انشاء، احمد فراز، منیر نیازی، میرا جی، کرشن چندر، کمال رضوی، ناصر کاظمی اور دیگر بڑے ناموں کی ادبی شخصیتیں عوامی اور فکری سطح پر نکھر کر سامنے آئیں۔ ساحر لدھیانوی اگرچہ بھارت جا چکے تھے، مگر ان کی فکری پرواز اپنی جگہ قائم تھی۔ یہ سب اس عہد کی نشانیاں تھیں جب اردو ادب محض کتابوں میں نہیں، ٹی ہاؤس کی میزوں پر سانس لیتا تھا۔
ان دنوں تخلیقی کام بھی اسی ماحول سے جڑا ہوا تھا۔ ناصر کاظمی نے اپنی بہترین غزلیں اسی دور میں لکھیں، اور اشفاق احمد نے “گڈریا” جیسا یادگار تخلیقی کام اسی فضا میں رقم کیا۔ گویا پاک ٹی ہاؤس ایک چائے خانہ نہ تھا، بلکہ ادب کی وہ مٹی تھی جس میں خیال کے بیج بوئے جاتے تھے اور پھر وہی بیج بعد میں کلاسیکی فصل بن کر اردو ادب کی تاریخ میں جڑ پکڑتے تھے۔ آج جو ہم اس دور کی غزلیں، نظمیں، افسانے اور مضامین پڑھتے ہیں، وہ دراصل اسی محنت، انہی نشستوں اور انہی بے لوث صحبتوں کی پیداوار ہیں۔
لیکن ہر عروج کو زوال کی آزمائش بھی ملتی ہے۔ پاک ٹی ہاؤس نے بھی کئی نشیب و فراز دیکھے۔ 2000ء میں جب اس کے مالک نے اسے بند کرنے کا اعلان کیا تو ادبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اہلِ قلم نے اس فیصلے کی مخالفت کی، مظاہرے ہوئے، بات عدالت تک پہنچی، اور بعض عالمی نشریاتی اداروں نے بھی اس پر آواز اٹھائی۔ ادبی تنظیموں نے کہا کہ اس جگہ کو ٹائروں کی دکان بنانے کے بجائے اہلِ قلم کی بیٹھک کے طور پر قائم رکھا جائے، کیونکہ یہاں کرشن چندر سے لے کر سعادت حسن منٹو تک کی یادیں سانس لیتی ہیں۔ بالآخر 31 دسمبر 2000ء کو یہ دوبارہ کھلا، اور اہلِ قلم نے پھر اس کی میزوں کو اپنا مسکن بنایا۔
مگر یہ واپسی بھی مستقل نہ تھی۔ چھ برس بعد، مئی 2006ء میں یہ دوبارہ بند ہو گیا۔ اس بار وہ احتجاج نہ رہا، وہ شور نہ اٹھا، اور شاید وقت کے ساتھ لوگوں کے جذبات بھی تھکن کا شکار ہو گئے۔ یوں وہ تاریخی، ادبی اور ثقافتی ورثہ، جو تقریباً نصف صدی تک اہلِ قلم کو اپنی آغوش میں لئے رہا، خاموشی کے پردے میں گم ہوتا چلا گیا۔ بند شٹر، پرانا بورڈ، اور خالی کاؤنٹر—یہ سب ماضی کے اس سنہرے عہد کی آخری باقیات بن گئے۔ جیسے نگینہ بیکری، چوپال، شیزان اور عرب ہوٹل وقت کے صفحات پر محض یادوں کی صورت رہ گئے، ویسے ہی پاک ٹی ہاؤس بھی رفتہ رفتہ ماضی کا حصہ بنتا گیا۔
لیکن تاریخ مکمل طور پر خاموش نہیں ہوتی۔ وہ کبھی کبھی اپنے بند دروازوں سے بھی بولتی ہے۔ پاک ٹی ہاؤس کی بحالی لاہور کے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کا طویل مطالبہ رہی۔ اس کے افتتاح کی تاریخیں بدلتی رہیں—14 اگست، پھر 6 ستمبر، پھر 20 اکتوبر، 25 اکتوبر، اور 25 دسمبر 2012ء—مگر وعدے پورے نہ ہو سکے۔ بالآخر 23 مارچ کے دن اس کے دروازے دوبارہ کھلے۔ یہ محض ایک افتتاح نہ تھا، بلکہ ایک تہذیبی یاد کے احیاء کی کوشش تھی؛ ایک ایسی کوشش جس نے لاہور کے ادبی ورثے کو پھر سے سانس لینے کا موقع دیا۔
آج پاک ٹی ہاؤس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قومیں صرف سڑکوں، عمارتوں اور بازاروں سے نہیں بنتیں؛ وہ مذاکرے، یادوں، تہذیبی نشستوں اور تخلیقی رفاقتوں سے بنتی ہیں۔ یہ چائے خانہ اس بات کی گواہی ہے کہ اگر ایک میز کے گرد چند سادہ لوگ سچائی، محبت، خیال اور ادب کے ساتھ بیٹھ جائیں تو وہ جگہ تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ پاک ٹی ہاؤس کی اصل عظمت اس کے برتنوں، کھڑکیوں یا فرش میں نہیں تھی، بلکہ ان دلوں میں تھی جو وہاں دھڑکتے تھے، ان لفظوں میں تھی جو وہاں جنم لیتے تھے، اور ان خوابوں میں تھی جو وہاں چائے کی بھاپ کے ساتھ فضا میں اٹھتے تھے۔
یوں پاک ٹی ہاؤس لاہور کی ادبی یادداشت میں ایک روشن چراغ، ایک زندہ استعارہ، اور ایک ناقابلِ فراموش باب کی صورت موجود رہے گا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چائے صرف مشروب نہیں تھی، بلکہ رفاقت کا نام تھی؛ جہاں گفتگو صرف وقت گزاری نہیں تھی، بلکہ فکر کی تعمیر تھی؛ اور جہاں ادب صرف کتابوں تک محدود نہیں تھا، بلکہ زندگی کے شور، دھوئیں، ہنسی، خاموشی اور خوابوں میں بکھرا ہوا تھا۔ پاک ٹی ہاؤس دراصل لاہور کی اس روح کا نام ہے جو لفظوں کو مہمان بناتی ہے اور یادوں کو وراثت۔ شہزادہ عالمگیر اس گئے گزرے دور میں اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی ہیں وہ سکوت و شگفتگی کا ایک حسِین امتزاج ہیں میں نے انہیں اکثر کوہستانی وقار کی طرح خاموش دیکھا ہے لیکن جب وہ بولتے ہیں تو شاخِ گفتار سے رنگ رنگ پھول توڑتے چلے جاتے ہیں ، انسان کا جی چاہتا ہے کہ وہ شہزادہ عالمگیر پر سوالات کرتا چلا جائے اور وہ یوں ہی گلفشانی گفتار میں مصروف رہیں ۔ انہوں نے پاک ٹی ہاؤس کی یادوں کے چراغ روشن کیئے ہیں ۔ وہ خواجہ جمشید امام سے خصوصی طور پر ملیں گے جو رھبروں کے امام بھی ہیں اور میرے ہمدم و دمساز ہیں اور نواز کھرل کی ادبی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیئے شہزادہ عالمگیر اسلام آباد سے لاہور تشریف لا رہے ہیں اور پرانی صحبتوں کی بازگشت سنائی دے گی ۔

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

چائے کی بھاپ میں لکھا ہوا عہد پاک ٹی ہاؤس کی داستانِ جاوداں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us